بنگلہ دیش میں اہم جوہری منصوبے کے لیے درکار یورینیم کی ترسیل میں تاخیر کا پاکستان سے کیا تعلق ہے؟

روپ پور جوہری منصوبے کے لیے یورینیم کی ترسیل میں تاخیر بنگلہ دیش میں بحث کا موضوع بن گئی ہے، جہاں بعض حلقے پاکستان کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں، پاکستان نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے معاملے کو تکنیکی اور طریقہ کار سے متعلق قرار دیا ہے۔
روپ پور نیوکلیئر پاور پلانٹ کا پہلا یونٹ (فائل فوٹو)
CRNPP Project
روپ پور نیوکلیئر پاور پلانٹ کا پہلا یونٹ (فائل فوٹو)

بنگلہ دیش کے روپ پور جوہری بجلی گھر کے دوسرے یونٹ کے لیے روس سے آنے والا یورینیم مقررہ وقت پر ملک میں نہیں پہنچ سکا ہے۔ بنگلہ دیش میں بعض حلقوں نے اس تاخیر کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

یہ معاملہ بنگلہ دیش میں مختلف مباحثوں، تنقیدوں اور تنازعات کا موضوع بن گیا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے مختلف آرا اور تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔

یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ حالیہ عرصے میں بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان مثبت تعلقات کے باوجود پاکستان نے ایسا فیصلہ کیوں کیا؟

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر نے اس حوالے سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ معاملہ پروازوں کے روٹ اور فضائی حدود کے استعمال کی اجازت سے متعلق تکنیکی اور انتظامی نوعیت کا ہے۔ ایسے معاملات میں بعض اوقات ہوا بازی سے متعلق اداروں اور دیگر متعلقہ حکام کے درمیان رابطہ ضروری ہوتا ہے، جس کے باعث پروازوں کے شیڈول میں ردوبدل بھی ہو سکتا ہے۔‘

تاہم یہ سوال بھی سامنے آ رہا ہے کہ مقررہ وقت پر یورینیم کی فراہمی نہ ہونے کے باعث روپ پور جوہری منصوبے سے تجارتی بنیادوں پر بجلی پیدا کرنے کا عمل مزید تاخیر کا شکار ہو گیا ہے یا نہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش کے اندرونی سیاسی حالات اور بجلی کی فراہمی کی صورتحال نے اس واقعے پر مزید بحث کو جنم دیا ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایندھن کے بحران کے باعث بنگلہ دیش بجلی کی فراہمی کے حوالے سے کافی پیچیدہ صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ ملک بھر میں بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ کے سبب حکومت پر بھی کافی دباؤ ہے۔

ایسے حالات میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے بنگلہ دیش چاہتا ہے کہ روپ پور جوہری بجلی گھر سے پیدا ہونے والی بجلی کو کم سے کم وقت میں قومی گرڈ میں شامل کیا جائے۔

تاہم تکنیکی مسائل اور مقررہ وقت پر یورینیم کی فراہمی میں رکاوٹ کے باعث اس کے پیداواری عمل میں مزید تاخیر کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اگرچہ یورینیم کی فراہمی کے آئندہ شیڈول کے حوالے سے روس کی سرکاری جوہری توانائی کارپوریشن روساٹوم پہلے ہی ایک بیان جاری کر چکی ہے۔

روپ پور نیوکلیئر پاور پلانٹ کے لیے روس میں فیول اسمبلی بنائی گئی (فائل فوٹو)
Rosatom
روپ پور نیوکلیئر پاور پلانٹ کے لیے روس میں فیول اسمبلی بنائی گئی (فائل فوٹو)

پاکستان کا کیا کہنا ہے؟

عالمی سطح پر جوہری ایندھن کی ترسیل انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس کے لیے خصوصی ضوابط اور پروٹوکول پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

بین الاقوامی قواعد کے مطابق جوہری مواد لے جانے والی پروازوں کے لیے ہر ملک سے علیحدہ سفارتی اوور فلائٹ کلیئرنس حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے۔

روساٹوم کے ذرائع کے مطابق فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت بروقت نہ ملنے کے باعث روپ پور جوہری منصوبے کے لیے یورینیم کی ترسیل کی پرواز کا شیڈول منسوخ کرنا پڑا۔ تاہم ادارے نے باضابطہ طور پر پاکستان کا نام نہیں لیا۔

اس کے نتیجے میں حالیہ عرصے میں بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات میں پیدا ہونے والے مثبت رجحان کے حوالے سے بھی سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل دیکھنے میں آیا۔ یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے ایسا فیصلہ کیوں کیا؟

اس معاملے پر بنگلہ دیش میں جاری بحث، تنقید اور تنازع کے تناظر میں بی بی سی اردو نے پاکستان کی وزارتِ خارجہ سے موقف جاننے کی کوشش کی۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سفارتی پروازوں اور فضائی حدود کے استعمال سے متعلق تمام درخواستوں پر اپنے مقررہ قواعد و ضوابط اور سول ایوی ایشن کے طریقۂ کار کے مطابق بروقت کارروائی کرتا ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’زیرِ گردش رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ پرواز کے روٹ اور فضائی حدود کے استعمال کی اجازت سے متعلق تکنیکی اور انتظامی نوعیت کا ہے، جس کے لیے بعض اوقات متعلقہ ہوا بازی اور دیگر اداروں کے درمیان رابطہ کاری درکار ہوتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں پروازوں کے شیڈول میں تبدیلی بھی آ سکتی ہے۔‘

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، اس لیے مناسب ہو گا کہ اس معاملے کو اس کے درست تکنیکی تناظر میں دیکھا جائے اور ایسی رپورٹس یا بیانیوں کو غیر ضروری اہمیت نہ دی جائے جو اس معاملے کو غلط انداز میں پیش کر کے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کو متاثر کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔‘

کیا پیداوار مزید مؤخر ہو گی؟

روس کے قرض اور تکنیکی معاونت سے بنگلہ دیش روپ پور میں 2400 میگاواٹ صلاحیت کا جوہری بجلی گھر تعمیر کر رہا ہے۔

اس منصوبے کے ہر یونٹ کی استعداد 1200 میگاواٹ ہے۔ روس کے ساتھ ابتدائی معاہدے کے مطابق پہلے یونٹ سے 2023 میں بجلی کی پیداوار شروع ہونا تھی۔

منصوبے کے مطابق پہلے یونٹ کے لیے درکار جوہری ایندھن 2023 ہی میں بنگلہ دیش پہنچ گیا تھا۔

تاہم کووڈ کی وبا اور یوکرین جنگ کے باعث سپلائی چین میں پیچیدگیاں اور مالی لین دین کے مسائل پیدا ہوئے، جس کے نتیجے میں منصوبے پر عمل درآمد میں تاخیر ہوئی۔

اس کے علاوہ بنگلہ دیش میں 5 اگست کی عوامی تحریک کے بعد قائم ہونے والی عبوری حکومت کے دور میں بھی روپ پور منصوبے پر عمل درآمد کی رفتار سست رہنے پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔

پبنا میں روپ پور نیوکلیئر پاور پلانٹ (فائل فوٹو)
ASE
پبنا میں روپ پور نیوکلیئر پاور پلانٹ (فائل فوٹو)

اگرچہ رواں سال اپریل میں روپ پور کے پہلے یونٹ کے ری ایکٹر ویسل میں باضابطہ طور پر ایندھن کی لوڈنگ شروع کر دی گئی تھی، لیکن اب تک تجارتی بنیادوں پر بجلی کی پیداوار شروع نہیں ہو سکی۔

اعلان کیا گیا تھا کہ ستمبر سے آزمائشی بنیادوں پر بجلی کی پیداوار شروع ہو جائے گی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ستمبر میں بجلی حاصل ہونے کا امکان نہیں تھا اور اب یہ بھی غیر یقینی ہو گیا ہے کہ آیا رواں سال کے اندر بجلی کی پیداوار شروع ہو سکے گی یا نہیں۔

اسی ماہ کے آغاز میں سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر فقیر محبوب انام نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا تھا کہ جوہری ری ایکٹر کے ایک آلے، جسے پائلٹ آپریٹڈ ریلیف والوو (PORV) کہا جاتا ہے، میں خرابی پیدا ہونے کے باعث پیچیدگیاں سامنے آئی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی بنگلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’روپ پور میں والوو سے متعلق یہ پیچیدگی غیر متوقع تھی۔ اسے پی او آر وی والوو کہا جاتا ہے۔ یہی ہمارے لیے مسئلہ پیدا کر رہا ہے۔ ہمارے سائنس دان اور روسی سائنس دان اسے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

اب اس بجلی منصوبے کے دوسرے یونٹ کے لیے ایندھن بھی مقررہ وقت پر نہیں پہنچ سکا۔ اس لیے مجموعی طور پر تجارتی بنیادوں پر بجلی کی پیداوار میں مزید تاخیر کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

لوڈشیڈنگ نے ملک کے عام لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا (علامتی تصویر)
LightRocket via Getty Images
لوڈشیڈنگ نے ملک کے عام لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا (علامتی تصویر)

اگرچہ یورینیئم کی فراہمی میں تاخیر ہو چکی ہے، تاہم اس حوالے سے روساٹوم نے ایک بیان جاری کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ روپ پور جوہری بجلی گھر کے دوسرے یونٹ کے لیے جوہری ایندھن کی فراہمی اکتوبر 2026 میں شروع ہونے والی ہے اور یہ عمل دسمبر تک جاری رہے گا۔

روسی سرکاری جوہری توانائی کارپوریشن نے یہ بھی بتایا ہے کہ معاہدے کی شرائط اور منصوبے کے شیڈول کے مطابق یہ ایندھن کئی پروازوں کے ذریعے منتقل کیا جائے گا۔

یعنی ستمبر میں جو کھیپ پہنچنی تھی، وہ اب اکتوبر سے دسمبر کے درمیان کئی مراحل میں پہنچے گی۔

یہ تاخیر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان بڑا فرق پیدا ہو چکا ہے۔

ایل این جی کی درآمد میں کمی اور واجب الادا بلوں کے باعث متعدد نجی بجلی گھروں کی بندش سے ملک بھر میں لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوا ہے۔

حکومت کو امید تھی کہ روپ پور سے 1,200 میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہونے کے بعد اس بحران میں نمایاں کمی آئے گی اور مہنگے تیل سے چلنے والے بجلی گھروں پر انحصار کم ہو جائے گا۔

تاہم پہلے یونٹ میں والو سے متعلق تکنیکی پیچیدگی اور دوسرے یونٹ کے ایندھن کی فراہمی میں تاخیر کے باعث مجموعی صورتحال پر تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دوسرے یونٹ کا ایندھن اکتوبر تا دسمبر موصول ہو جاتا ہے اور تمام آزمائشی مراحل کامیابی سے مکمل ہو جاتے ہیں، تو بھی 2027 کے وسط سے پہلے دوسرے یونٹ سے تجارتی بنیادوں پر بجلی کی پیداوار شروع ہونا ممکن نہیں ہوگا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US