وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کی صبح ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ایک تحریری معاہدے پر دستخط کرنے اور 72 گھنٹوں کے اندر ایک عملدرآمدی منصوبہ جمع کرانے پر اتفاق کیا تھا۔
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور حکومت کے درمیان مذاکرات ’بے نتیجہ‘ رہنے کے بعد وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں آج اتوار کو لانگ مارچ شروع ہو رہا ہے۔ دوسری جانب فریقین مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا ذمے دار ایک دوسرے کو ٹھہرا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جمعے کو مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا جبکہ دوسرا دور سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب تک جاری رہا تھا۔
اتوار کو علی الصبح تقریباً تین بجے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے صحافیوں کو بتایا کہ مذاکرات ’بے نتیجہ‘ رہے ہیں۔
بعدازاں مذاکرات میں شریک وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کی صبح ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ایک تحریری معاہدے پر دستخط کرنے اور 72 گھنٹوں کے اندر ایک عملدرآمدی منصوبہ جمع کرانے پر اتفاق کیا تھا۔
اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ سنیچر کی شب مذاکرات کے آخری مرحلے کے دوران صوبائی حکومت نے وفاق کے ساتھ معاہدے سے انحراف کیا ہے۔
دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے سات مطالبات پیش کیے تھے جن میں سے کوئی بھی غیر آئینی نہیں ہے، اور اگر حکومت ان مطالبات پر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کروا دے تو لانگ مارچ منسوخ کر دیں گے۔
مذاکرات میں حکومتی و اتحادی وفد کی جانب سے رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، امیر مقام، طلال چوہدری، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی شریک ہوئے۔ اپوزیشن کی نمائندگی بیرسٹر گوہر علی خان، علامہ راجا ناصر عباس، اسد قیصر، عامر ڈوگر، سلمان اکرم راجا اور حلیم عادل شیخ نے کی۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور جمعے کی سہ پہر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ان کے چیمبر میں ہوا تھا، جہاں قومی اسمبلی کے ترجمان کے مطابق حکومت، پی پی ہی اور اپوزیشن کے وفود نے اپنے اپنے مؤقف ایک دوسرے کے سامنے رکھے اور ’مختلف سیاسی و قومی معاملات پر تحمل اور سنجیدگی کے ساتھ تفصیلی گفتگو‘ کی۔
دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی کال پر اتوار کو لانگ مارچ کا آغاز گنڈی چوک لکی مروت سے ہو رہا ہے، جہاں صوبے کے دیگر علاقوں سے قافلے پہنچ رہے ہیں۔
اب سے کچھ دیر قبل سہیل آفریدی کے فیس بک پیج پر بتایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا گنڈی چوک، لکی مروت کے لیے روانہ ہو رہے ہیں جہاں سے وہ لانگ مارچ کی قیادت کریں گے۔
پی ٹی آئی نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے، تاہم حکومتی وزرا واضح کر چکے ہیں کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو کسی صورت اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

’خیبر پختونخوا حکومت اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی ہے‘
اتوار کو ایکس پر اپنے بیان میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی ہے. صوبے کو درپیش حالات پیش نظر سکیورٹی معاملات کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔
اُن کا کہنا تھا کہ مجوزہ معاہدے میں پولیس ایکٹ 2026 پر نظرثانی، دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی روک تھام، ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں کی مذمت، افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی کی حمایت، عبوری افغان حکومت سے رابطوں سے گریز، اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے لیے اضافی فنڈز کی فراہمی شامل تھی۔
وزیر داخلہ نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ اس معاہدے میں یہ نکات شامل تھے:
• سکیورٹی صورتحال اور سکیورٹی معاملات کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے کی ضرورت کے پیش نظر پولیس ایکٹ 2026 پر نظرثانی
• دہشت گردوں کو صوبے میں آزادانہ طور پر کام کرنے یا محفوظ پناہ گاہیں حاصل کرنے سے روکنا
• تحریکِ طالبان پاکستان، تحریکِ طالبان افعانستان اور دیگر تمام دہشت گرد گروہوں کی غیر مبہم مذمت
• افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی کی حمایت، جس میں وطن واپسی اور خیبر پختونخوا میں افغان کیمپوں کا خاتمہ شامل ہے
• عبوری افغان حکومت سے کوئی رابطہ نہ رکھنا
• انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں اور پولیس کے لیے خاطر خواہ فنڈنگ
• انسدادِ دہشت گردی اقدامات کی مکمل صوبائی ذمہ داری اور مسلح افواج کے ساتھ زیادہ مضبوط تعاون
• سابق فاٹا اور ضم شدہ اضلاع میں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق فیصلے
• نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ رات مذاکرات کے آخری مرحلے کے دوران خیبر پختونخوا حکومت ان وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔ جب صوبہ جنگ کی حالت میں ہو تو سکیورٹی کو سیاسی نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘
’یقین دہانیوں پر عمل ہوا تو لانگ مارچ منسوخ کریں گے‘
اس سے قبل وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات میں سے کوئی بھی ’غیر آئینی یا غیر قانونی‘ نہیں۔
انھوں نےالزام لگایا کہ ’ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے اور ریاست ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔‘
سہیل آفریدی نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ پی ٹی آئی کے مطالبات تھے، ہیں اور رہیں گے۔‘
انھوں نے ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل اور امن و امان کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کے سامنے سات مطالبات بھی پیش کیے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے وفاقی حکمت کے سامنے پیش کیے جانے والے سات مطالبات:
- وزیراعظم اور اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات: وزیرِ اعظم اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقاتیں ہوں، جن میں اہم سیاسی، قومی، آئینی اور قانونی معاملات پر بات ہو اور دو ماہ میں مؤثر پیش رفت یقینی بنائی جائے۔
- مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی: حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے جو سیاسی معاملات اور اختلافات پر مسلسل مذاکرات کرے اور ایک ماہ میں قابلِ عمل حل کے لیے سفارشات پیش کرے۔
- عمران خان اور بشریٰ بی بی کے حقوق: جیل قوانین اور آئین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق دیے جائیں اور جہاں قانون اجازت دے وہاں ان کے ذاتی یا نامزد ڈاکٹروں کی رائے کو بھی مدِنظر رکھا جائے۔
- اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقاتیں: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل قوانین کے مطابق اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلا اور مجاز رفقا سے ملاقات کی اجازت دی جائے، تاہم ان ملاقاتوں کو قانوناً ممنوع سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
- قیدیوں کی قانونی درخواستوں پر کارروائی: عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، بزرگ اور بیمار قیدیوں کی سزاؤں کے خلاف درخواستوں سمیت دیگر قانونی درخواستوں پر قانون کے مطابق دس دن میں کارروائی شروع یا مکمل کی جائے، جبکہ سیاسی قیدی خواتین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جلد رہا کیا جائے۔
- خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور امن و امان: وفاقی اور صوبائی حکومتیں دہشت گردی کے خاتمے اور مستقل امن کے لیے مسلسل مشاورت کریں اور 72 گھنٹوں میں اجلاس کرکے ایک واضح اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں۔
- یقین دہانیوں پر عمل اور لانگ مارچ: وفاقی حکومت کی جانب سے مطالبات اور طے شدہ اقدامات پر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پی ٹی آئی موجودہ لانگ مارچ منسوخ کرے گی، تاہم خلاف ورزی کی صورت میں پارٹی اپنے پُرامن اور قانونی احتجاج کا حق محفوظ رکھے گی۔
مذاکرات میں شریک رہنماؤں نے کیا کہا؟
مذاکرات کے پہلے دور کےبعد پی پی پی کی رہنما شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ملتوی یا منسوخ نہیں بلکہ ختم کرنا ہوگا کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے تشدد بڑھتا ہے، کم نہیں ہوتا۔‘
شیری رحمان نے کہا کہ ’فرد واحد کےلیے ہم کبھی بھی لانگ مارچ نہیں کرتے، پی ٹی آئی کے مطالبات پر ابھی کوئی بات نہیں کر سکتی۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’ہم نے ایک دوسرے کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچانی، ابھی جو بات ہو رہی ہے اس کو وقت دینا ہو گا، ہماری کوشش ہو گی کل مذاکرات مکمل ہو جائیں اور کسی نتیجے پر پہنچیں۔‘
شیری رحمان نے کہا ’خیبرپختونخوا میں امن وامان کی تشویشناک صورتحال ہے، شدت پسندوں اور دیگر کے حملوں میں ہمارے لوگ مارے جا رہے ہیں، ہمارے فوجی شہید ہو رہے ہیں، پولیس والے شہید ہو رہے ہیں۔‘
دوسری جانب مذاکرات کے بعد پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیا کو بتایا کہ ’یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اسے ٹک ٹاک کا موضوع نہ بنایا جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کی صحت، رہائی اور ان تک رسائی قومی مسئلہ ہے۔ میں یہ درخواست کروں گا کہ ٹک ٹاک کے لیے اس معاملے کی اہمیت کو کم نہ کریں۔‘
تاہم پی ٹی آئی کے دیگر رہنما کہتے ہیں کہ معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے اڈیالہ جیل میں قید عمران خان سے ملاقات اور مشاورت ضروری ہے۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کہتے ہیں کہ ’ہم انصاف کی بات کریں گے، انصاف مکمل ختم ہو چکا ہے، ہمیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت چاہیے، اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو معاملہ آگے بڑھے گا، ورنہ ایسے ہی رہے گا۔‘