بی بی سی اُردو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اس وقت خیبرپختونخوا میں گورنر راج نہیں مگر ایک ’نالائق حکومت‘ مسلط ہے۔ ان کے مطابق حال ہی میں گورنر ہاؤس میں بُلائے گئے اجلاس صرف صوبے کی صورتحال سے اگاہی حاصل کرنا تھا، معاملات میں مداخلت نہیں۔
یہ (تحریک انصاف) مذاکرات والے لوگ نہیں ہیں: فیصل کریم کنڈیگورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ کسی بھی صوبے کا گورنر آئین کے تحت صوبائی اُمور اور امن و امان کی صورتحال پر اجلاس طلب کر سکتا ہے اور اُن کی جانب سے حالیہ دنوں میں بلائے گئے اجلاس کا مقصد صرف صوبے کی صورتحال سے آگاہی حاصل کرنا تھا۔
بی بی سی اُردو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ ’آئین گورنر کی ذمہ داریوں کے حوالے سے واضح ہے۔ میں نے خیبر پختونخوا کے آئی جی صاحب کو کسی ٹرانسفر پوسٹنگ کا نہیں کہا، میں نے چیف سیکرٹری سے کسی فنڈز کا نہیں کہا۔ میں نے (اُن سے) صرف صوبے کی صورتحال کا پوچھا۔‘
یاد رہے کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے گورنر کی جانب سے صوبے کے اعلی افسران کا اجلاس طلب کرنے کو ’غیرآئینی‘ قرار دیتے ہوا کہا ہے ’اس اجلاس کی آئینی حیثیت کے تعین کے لیے ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لی جائے گی۔‘
اس معاملے پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ گورنر کے آئینی کردار سے پوری طرح واقف ہیں اور اجلاس میں اس بات پر بریفنگ لی گئی کہ صوبے کو کُن امور میں کمی بیشی کا سامنا ہے اور اس ضمن میں وفاق کی جانب سے کس نوعیت کی معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر اجلاس میں کوئی ہدایات جاری کی جاتیں تو وہ میڈیا کے ذریعے سامنے آ جاتیں۔‘
اُن کے مطابق اُس اجلاس میں افغان پناہ گزینوں سمیت اہم صوبائی مسائل پر بات کی گئی کیونکہ، اُن کے بقول، صوبائی حکومت ان معاملات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی بلکہ ’وہ تو کہتے ہیں کہ افغان شہری اِس ملک سے جائیں ہی نہ۔'‘
خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں گورنر نے کہا کہ اگر صدر، وزیراعظم اور متعلقہ ادارے یہ سمجھیں کہ صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کی گنجائش موجود ہے تو وہ آئین کے مطابق ایسا کر سکتے ہیں کیونکہ آئین میں آرٹیکل 232 اور 234 موجود ہیں۔
انھوں نے سوال کیا کہ ’کیا پیپلز پارٹی نے ایمرجنسی لگا کر بلوچستان میں اپنی ہی حکومت کو ختم کیا تھا؟ پنجاب میں بھی، اگرچہ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید یہ سیاسی فیصلہ غلط ہو، ہم نے لگائی۔ خیبرپختونخوا میں حیات شیرپاؤ کے دور میں گورنر راج لگا تھا، پھر غنی خان صاحب کے دور میں لگا تھا۔ تو بات یہ ہے کہ آپ کے آئین میں یہ شق موجود ہے اور اگر سارے سیاسی لوگ سمجھتے ہیں کہ آئین میں یہ شق غلط ہے تو 58 ٹو بی کی طرح اسے ختم کر دیں۔ آپ نے کیوں رکھی ہے؟ ہم تو آئین کی کتاب کے مطابق چلیں گے۔ آئین کی کتاب میں اگر لکھا ہے تو یہ چیز ہو گی۔‘
انھوں نے کہا کہ اس وقت خیبرپختونخوا میں گورنر راج نہیں ہے بلکہ ’نالائق حکومت‘ مسلط ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر صوبے کے چیف ایگزیکٹیو (وزیر اعلیٰ) کو یہ نہیں پتا کہ اُن کے لوگ کس نے اٹھائے ہیں اور وہ انھیں واپس نہیں لا سکتا تو اسے اخلاقی طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
’جب آپ کہتے ہیں کہ ہماری کوئی بات نہیں مانتا، تو اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ کو اپنے اختیارات استعمال کرنے کا طریقہ ہی نہیں آتا۔‘
محسن نقوی سے گورنر ہاؤس میں ہونے والی اپنی حالیہ ملاقات کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اس ملاقات میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ، خیبر پختونخوا کی صورتحال اور ڈی آئی خان، ٹانک، کوہاٹ اور ہنگو میں پیش آنے والے حالیہ واقعات پر بات چیت ہوئی۔
انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ہوا کہ ’صوبے (خیبرپختونخوا) کو ہم دہشت گردوں کے حوالے نہیں کر سکتے۔ یہ نارمل بات چیت تھی جو ہمارے صوبے کے حوالے سے ہوتی ہے۔‘
تحریک انصاف کووزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی مشروط دعوت پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم متعدد بار مذاکرات اور ڈائیلاگ کی دعوت دے چکے ہیں، تاہم ان کے بقول اپوزیشن نے ان پیشکشوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
انھوں نے کہا کہ مختلف سیاسی اُمور پر وزیر اعظم کی جانب سے قائد حزب اختلاف کو بات چیت کے لیے خطوط بھی لکھے گئے لیکن پیش رفت نہیں ہو سکی۔
’یہ مذاکرات والے لوگ نہیں ہیں۔۔۔ اتنے سلجھے ہوئے سیاستدان محمود خان اچکزئی بھی پی ٹی آئی میں جا کر انھی میں گھل مل گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں وزیر اعظم ہاؤس نہیں جاؤں گا، پارلیمان نہیں جاؤں گا، تو کیا وزیراعظم اب ڈھابے پر ملیں گے آپ کو؟‘
انھوں نے کہا کہ ان لوگوں کے پاس اختیار ہی نہیں ہے، حالیہ مذاکرات میں پی ٹی آئی کے چیئرمین، سیکرٹری جنرل اور سینیئر رہنما بیٹھے ہوئے ہیں اور پھر مذاکرات فائنل ہو گئے، مگر واپس آ کر انھوں نے نہ کر دی۔
پی ٹی آئی کے احتجاج کے بارے میں سوال پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر جماعت کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ انھوں نے جماعت اسلامی کے احتجاج کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا، تاہم ان کے بقول پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں میں ماضی میں انتشار دیکھنے میں آیا ہے۔
’بات یہ ہے کہ جب یہ اسلام آباد جاتے ہیں تو انتشار کرتے ہیں۔ آپ جنید اکبر کا بیان دیکھیں، آپ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا اسمبلی اور چارسدہ میں دیا گیا بیان دیکھیں کہ وہ اسلام آباد میں کیا کرتوت کرنے کے لیے جا رہے ہیں۔ مگر اس دفعہ یہ کرتوت نہیں کرنے دیے جائیں گے، جیسا کہ محسن نقوی نے کہا اس دفعہ یہ گنجائش نہیں ملے گی۔‘
وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان سکیورٹی معاملات اور تعاون کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اور مالی مسائل پر باقاعدگی سے اجلاس ہوتے ہیں لیکن صوبائی حکومت ان میں شریک نہیں ہوتی۔
انھوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ ہیوی میکینیکل کمپلیکس کو فنڈز کے اجرا کے باوجود مطلوبہ سامان کی فراہمی میں تاخیر ہوئی، تاہم ان کے مطابق انھوں نے متعلقہ ریکارڈ چیک کیا تو پتا چلا کہ اُن کے مطالبات کے مطابق اشیا مقررہ شیڈول کے تحت فراہم کی جا رہی ہیں اور اکتوبر، نومبر اور دسمبر میں ملنے والی کھیپوں کی تفصیلات بھی موجود ہیں۔