’روحانی علاج‘ کے نام پر 20 سالہ خاتون پر تشدد کرنے والے عامل کو تین سال قید، 96 لاکھ روپے جرمانہ

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے 20 سالہ لڑکی کو ’جن نکالنے کے عمل کے دوران تشدد کرنے پر‘ ایک عامل کو تین سال قید اور ارش (جرمانے) کی مد میں 96 لاکھ 76 ہزار روپے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد میں لڑکی کے روحانی علاج کے نام پر ’تھپڑوں سے کان کا پردہ پھاڑنے پر‘ عامل کو تین سال قید
Getty Images
عامل نے تھا کہ ’لڑکی پر جنوں کا سایہ ہے‘ اور وہ ’ان جنوں کو لڑکی کے جسم سے نکال دے گا‘

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے 20 سالہ لڑکی کو ’جن نکالنے کے عمل کے دوران تشدد کرنے پر‘ ایک عامل کو تین سال قید اور ارش (جرمانے) کی مد میں 96 لاکھ 76 ہزار روپے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ مجرم اس وقت تک جیل میں ہی رہے گا جب تک وہ ارش کی رقم متاثرہ لڑکی کو ادا نہیں کرتا۔

ارش اسلامی فقہ اور تعزیراتی قوانین میں اس مالی معاوضے کو کہا جاتا ہے جو جسم کے ایسے زخم یا نقص کے بدلے میں دیا جاتا ہے، جس کی کوئی مقررہ رقم شریعت میں بیان نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ پراسیکیوشن کے مطابق مجرم کی طرف سے ’جِن نکالنے‘ اور لڑکی پر تشدد کے دوران لڑکی کے ایک کان کی قوت سماعت ختم ہوگئی تھی۔

اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جج مبشر حسن چشتی نے یہ فیصلہ اسلام آباد کے تھانہ کورال میں سنہ 2024 میں درج ہونے والے مقدمے میں سنایا۔ متعلقہ عدالت نے اس ضمن میں تفصیلی فیصلہ بھی جاری کردیا ہے۔

دوسری طرف مجرم کے وکیل یاسر ملک ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ وہ اس مقدمے کو اپیلیٹ کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

روحانی علاج کے نام پر ’تھپڑوں کی برسات‘

اسلام آباد کے تھانہ کورال میں عامل نذیر خان کے خلاف مقدمہ سعید اللہ خان کی مدعیت میں درج کیا گیا جو کہ متاثرہ لڑکی کے چچا ہیں۔

گولڑہ کے رہائشی سعید اللہ خان نے اس مقدمے میں پولیس کو بتایا کہ ان کی 20 سالہ بھتیجی ’کافی عرصے سے روحانی بیماری میں مبتلا تھی۔ اس کے علاج کے لیے ڈاکٹروں کے علاوہ متعدد عاملوں سے بھی رابطہ کیا گیا لیکن اس کی حالت بہتر نہ ہوئی۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کے محلے کی رہائشی ایک خاتون کا گھر متاثرہ لڑکی کے گھر آنا جانا تھا۔

انھوں نے کہا کہ مذکورہ خاتون نے بتایا کہ ان کے والد بھی روحانی عامل ہیں اور خاتون کے بقول ان کے والد کے دم کی وجہ سے بہت سارے لوگ شفا یاب ہوئے ہیں۔

مدعی مقدمہ کے مطابق اس خاتون کے کہنے پر وہ اپنی بھتیجی کو لے کر نذیر خان کے پاس چلے گئے۔

سعید اللہ خان نے بتایا کہ ’پہلے تو ملزم نے کہا کہ لڑکی پر جنوں کا سایہ ہے‘ اور یہ کہ وہ ’ان جنوں کو لڑکی کے جسم سے نکال دے گا۔‘

سعید اللہ خان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ملزم نے ’اپنی آنکھیں بند کر کے منھ میں کچھ پڑھا اور پھر اس کے بعد اس نے چہرے پر تھپڑوں کی برسات کر دی۔‘

انھوں نے کہا کہ اس دوران وہ ملزم کو روکنے کی کوشش کرتے رہے لیکن اس کے باوجود ’نذیر خان نے تھپڑوں کا سلسلہ نہ روکا۔‘

سعید اللہ خان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد متاثرہ لڑکی ’بے ہوش ہوگئی‘ اور پھر ملزم نے کہا کہ ’اب اس کو گھر لے جاؤ کیونکہ اس کے جن نکل گئے ہیں۔‘

اسلام آباد میں لڑکی کے روحانی علاج کے نام پر ’تھپڑوں سے کان کا پردہ پھاڑنے پر‘ عامل کو تین سال قید
Getty Images
مدعی مقدمہ کے مطابق متاثرہ لڑکی ’بے ہوش ہوگئی اور ملزم نے کہا کہ اب اس کو گھر لے جاؤ کیونکہ اس کے جن نکل گئے ہیں‘

انھوں نے کہا کہ جب متاثرہ لڑکی کو گھر لایا گیا تو اسے دائیں کان میں کافی درد محسوس ہو رہا تھا۔

سعید اللہ کا کہنا تھا کہ جب اس کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں چیک اپ کے لیے لایا گیا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کے دائیں کان کا پردہ پھٹ گیا ہے جس کی وجہ سے اس کے دائیں کان کی قوت سماعت ختم ہو گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ متاثرہ لڑکی ان کے بڑے بھائی کی بیٹی ہے اور ان کی والدہ فوت ہوچکی ہیں۔ سعید اللہ خان کے بقول وہ خود اس کی کفالت کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ملزم نذیر کی بیٹی چونکہ ان کے پڑوس میں رہتی ہے اس لیے اس معاملے کو رفع دفع کرنے کے لیے ملزم سے کہا گیا کہ وہ اپنے کیے کی معافی مانگیں لیکن نذیر خان نے ایسا کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد ملزم کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

سعید اللہ خان کا کہنا تھا کہ جب متاثرہ لڑکی بیمار تھی تو اسے پمز ہسپتال لے جایا گیا اور ڈاکٹروں نے اس کے سی ٹی سکین کے علاوہ تمام ضروری ٹیسٹ کیے جو کہ ڈاکٹروں کے بقول بالکل کلیئر تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’ڈاکٹروں نے زبانی رائے دی کہ جسمانی طور پر ان کو کوئی بیماری نہیں ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسے کوئی روحانی بیماری ہے۔‘

سعید اللہ خان کا کہنا تھا کہ ’وہ اب بالکل ٹھیک ہے تاہم سردیوں میں جب ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں تو اس سے ان کے کان متاثر ہوتے ہیں۔‘

’مجرم نے اپنے دفاع میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے‘

متعلقہ عدالت کی جانب سے اس مقدمے کا جو فیصلہ جاری کیا گیا ہے اس میں متاثرہ لڑکی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ جب اسے عامل کے پاس علاج معالجے کی غرض سے لے جایا گیا تو اس وقت انھیں ’معلوم نہیں تھا کہ کہاں لے جایا جا رہا ہے۔‘

اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ جب اس پر تشدد ہوا اور وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی اور اسے علاج کے لیے پمز ہسپتال لے جایا گیا تو وہاں پر معلوم ہوا کہ اس کے کان کا پردہ پھٹ گیا ہے۔

عدالت نے اس مقدمے کے فیصلے میں مجرم نذیر خان کے بیان کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا کہ سعید اللہ (مدعی مقدمہ) نے معاملے کو رفع دفع کرنے کے لیے بھاری رقم کا مطالبہ کیا تھا اور انکار پر اس کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مجرم نے اپنے دفاع میں کوئی گواہ یا دستاویز عدالت میں پیش نہیں کی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ مجرم تعزیرات پاکستان کی دفعہ 336 کے تحت دیت کی نصف رقم 96 لاکھ 76 ہزار 195 روپے متاثرہ لڑکی کو دینے کا پابند ہے اور جب تک وہ رقم ادا نہیں کرتے وہ جیل میں ہی رہیں گے۔

عدالت نے جب اس مقدمے کا فیصلہ سنایا تو اس وقت مجرم نذیر خان کمرہ عدالت میں موجود تھے اور پولیس نے مجرم کو گرفتار کرکے اڈیالہ جیل منتقل کردیا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US