’یہ لوگ نہ ملتے تو شاید انڈر ورلڈ میں ہوتا‘: نانا پاٹیکر فٹ پاتھ پر سونے سے شہرت کی بلندی تک کیسے پہنچے

مراٹھی اور ہندی سینما کے نام ور اداکار نانا پاٹیکر گوا میں وفات پا گئے۔ غربت سے نکل کر فلمی دنیا میں منفرد مقام بنانے والے نانا پاٹیکر نے کئی یادگار کردار ادا کیے۔
نانا پاٹیکر
Getty Images
نانا پاٹیکر نے جمعرات (8 اکتوبر) کی صبح پانچ بج کر 20 منٹ پر گوا میں وفات پائی

’ایک دن کسی نے مجھ سے پوچھا کہ تم اپنے فارم میں کیا اُگاتے ہو؟ میں نے کہا لکڑیاں۔ میں اپنی ہی لکڑیاں اُگا رہا ہوں۔ ورنہ یہ سارے دوست لوگ مجھے گیلی لکڑیوں سے جلائیں گے۔ دھواں ان کی آنکھوں میں جائے گا، آنکھوں سے پانی نکلے گا اور مجھے جلتے ہوئے لگے گا کہ یہ میرے لیے رو رہے ہیں۔

’یہ بے کار ہیں۔ اس لیے میں اپنے لیے سوکھی لکڑیاں حاصل کروں گا۔ دھواں کم ہوگا۔ پھر مجھے جلتے وقت پتا چلے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون۔ کیا معلوم، وہاں بھی شاید میں اٹھ کر مسکرانے لگوں۔‘

اپنی موت کے بارے میں اس بے تکلف انداز میں کہی گئی یہ باتیں نانا پاٹیکر کی صاف گو طبیعت کی عکاسی کرتی ہیں۔

سینیئر صحافی نکھل واگلے کو دیا گیا ان کا انٹرویو انھی الفاظ پر ختم ہوتا ہے۔

نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح پانچ بج کر 20 منٹ پر گوا میں وفات پا گئے ہیں۔ وہ ڈونا پاؤلا میں اپنے گھر میں تھے، جو ایک وسیع سمندری ساحل پر واقع ہے۔

انھیں سمندر سے خاص لگاؤ تھا۔ ان کے بقول جب وہ ساتویں جماعت میں تھے تو ان کی والدہ نے ’یہ سوچ کر کہ بیٹا سدھر جائے گا‘ انھیں اپنی خالہ کے پاس مرود جنجیرا بھیج دیا تھا۔

لیکن جب وہ آٹھویں جماعت میں پہنچے تو ان کی خالہ نے یہ سوچ کر انھیں واپس بھیج دیا کہ ’کہیں یہ دوسری اولاد کو نہ بگاڑ دے۔‘

مرود میں ان کے سامنے ہمیشہ سمندر ہوتا تھا۔ ان یادوں کے بارے میں نانا پاٹیکر نے کہا تھا: ’اسی وجہ سے مجھے ہمیشہ بڑی چیزیں دیکھنے کی عادت پڑ گئی۔ چھوٹی چیزوں سے کبھی دل نہیں لگا۔ لگتا تھا کہ اگر کچھ بننا ہے تو سمندر کی طرح بڑا بننا چاہیے۔‘

نانا پاٹیکر
Fb/Nana Patekar

’اگر یہ لوگ نہ ملتے تو شاید میں انڈر ورلڈ میں ہوتا‘

نانا پاٹیکر نے نہ صرف ہندی بلکہ مراٹھی فلم انڈسٹری میں بھی اپنا ناقابلِ فراموش نقش چھوڑا۔

وہ ہیرو، معاون ہیرو، ولن اور مختلف نوعیت کے دیگر کرداروں میں نظر آئے اور ان کی شہرت مراٹھی سینیما کی حدود سے کہیں آگے نکل گئی۔

وہ انتہائی غربت سے اوپر آئے تھے۔ اداکاری ہی کی بدولت ایک عام گھر کا لڑکا شہرت کے سمندر تک پہنچ سکا۔

اپنی منفرد شخصیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا: ’اس سمندر سے بھی بڑا ایک اور سمندر ہوتا ہے، اور وہ ہے بھوک اور بے قدری۔‘

بچپن میں وہ بہت شرارتی تھے، مگر اپنی اسی توانائی کو انھوں نے تھیٹر اور اداکاری کی طرف موڑ دیا۔

ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا: ’بنیادی طور پر میں ایک غریب آدمی تھا، میں فٹ پاتھ پر سویا ہوں۔ میں 13 سال کی عمر میں ملازمت کرنے لگا تھا، 35 روپے ماہانہ تنخواہ اور ایک وقت کا کھانا ملتا تھا۔ اُس وقت میرا کوئی رشتہ دار نہیں تھا، لیکن جب تھوڑا نام اور پیسہ آیا تو اچانک بہت سے رشتہ دار پیدا ہو گئے۔‘

نانا پاٹیکر
Getty Images
نانا پاٹیکر نے نہ صرف مراٹھی بلکہ ہندی فلم انڈسٹری میں بھی اپنا مقام بنایا

ان کے والد گجانن پاٹیکر ممبئی میں کپڑے کے کاروبار سے وابستہ تھے۔

کسی نے ان کے والد کو دھوکہ دیا اور خاندان کی جمع پونجی ختم ہو گئی۔ گھر کا بوجھ اٹھانے کے لیے نانا نے پینٹر کی ملازمت کی۔ وہ فلموں کے پوسٹر بھی بناتے تھے۔

وہ دادر کے سمرتھ ودیالیہ میں پڑھتے تھے۔ دوپہر کو گھر آ کر جو ملتا کھا لیتے اور پھر سخت دھوپ میں آٹھ کلومیٹر پیدل چلتے۔ رات کو واپسی پر بھی اتنا ہی فاصلہ طے کرتے۔ روزانہ 16 کلومیٹر پیدل چلنا ان کا معمول تھا۔

ان کا بچپن سخت حالات میں گزرا۔ وہ فوج میں جانا چاہتے تھے لیکن والدین نے اجازت نہیں دی۔ بعد میں فوج کے بارے میں اپنی اسی دلچسپی کو انھوں نے فلم ’پراہار‘ میں پیش کیا۔

بطور ہدایت کار یہ ان کی پہلی فلم تھی، لیکن تھیٹر کی دنیا میں ان کی آمد بھی اتفاقیہ تھی۔

وہ نامور تھیٹر شخصیت اور ہدایت کارہ وجیا مہتا کو اپنا گرو مانتے تھے۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ وجیا مہتا، اروند دیش پانڈے اور سُلبھا دیش پانڈے جیسے لوگوں نے ان کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

اسی تناظر میں انھوں نے کہا تھا: ’اگر یہ لوگ نہ ملتے تو شاید میں انڈر ورلڈ میں ہوتا۔‘

نانا پاٹیکر اور وجیا مہتا
Getty Images
نانا پاٹیکر نامور تھیٹر ہدایت کارہ اور اداکارہ وجیا مہتا کو گرو قرار دیتے تھے

نانا پاٹیکر کے لیے اشوک ساراف ’جان بوجھ کر آٹھ، دس روپے ہار جاتے تھے‘

نانا پاٹیکر ملازمت سے تھیٹر کی دنیا میں کس طرح آئے، اس بارے میں بھی وہ ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں۔

وہ اُس زمانے میں ’چھنگُنا‘ نامی ڈرامے کی ریہرسل دیکھنے جایا کرتے تھے۔ جب ایک اور ڈرامہ تیار کیا جا رہا تھا تو سُلبھا تائی نے اروِند دیش پانڈے سے کہا: ’وہ جو لڑکا ہے نا، وہ یہ کردار ادا کرے گا۔‘

اس وقت نانا پاٹیکر ملازمت کر رہے تھے، اس لیے وہ تذبذب کا شکار تھے کہ نوکری جاری رکھیں یا اداکاری کی طرف آئیں۔ لیکن سُلبھا تائی کے اعتماد اور جو کردار انھیں دیا گیا، اس کی بدولت نانا کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے لیے ایک بڑا پلیٹ فارم مل گیا۔

نانا پاٹیکر بتاتے ہیں کہ ڈرامہ ’پُروش‘ سے نسبتاً زیادہ آمدنی ہوتی تھی، اسی لیے وہ کئی برس تک اس میں کام کرتے رہے۔

اُس زمانے میں ہر شو کے عوض نانا پاٹیکر کو 50 روپے ملتے تھے جبکہ اشوک ساراف (معروف اداکار) کو 200 روپے، یعنی اُن سے چار گنا زیادہ معاوضہ دیا جاتا تھا۔

نانا پاٹیکر کے مطابق جب اشوک ساراف اُن کے ساتھ تاش کھیلتے تھے تو وہ جان بوجھ کر آٹھ دس روپے ہار جایا کرتے تھے۔

نانا کہتے ہیں: ’مجھے پتا ہوتا تھا کہ وہ جان بوجھ کر ہار رہے ہیں، لیکن پھر بھی میں وہ پیسے لے لیتا تھا کیونکہ مجھے ان کی ضرورت تھی۔‘

نانا پاٹیکر
Getty Images
نانا پاٹیکر نے ہیرو، معاون ہیرو، ولن اور مختلف نوعیت کے دیگر کردار ادا کیے

اشوک ساراف اور نانا پاٹیکر کے درمیان تعلقات کتنے بے تکلف تھے، یہ بات نانا پاٹیکر نے ایک انٹرویو میں خود بیان کی۔

نانا پاٹیکر کہتے ہیں: ’اشوک نے میری بہت مدد کی، بہت زیادہ۔ وہ گنپتی کے موقع پر بھی مجھے خاص طور پر پیسے دیا کرتے تھے۔ جب میں وہ واپس کرنے جاتا تو اشوک ہنس کر کہتے، کیوں پاٹیکر، کیا آپ مالدار ہو گئے ہیں؟ میں انھیں کہتا کہ میں صرف پیسے واپس کر سکتا ہوں، وہ وقت نہیں لوٹا سکتا جو آپ نے میرے لیے صرف کیا۔

’ان لوگوں نے میرا بہت خیال رکھا۔ میں اشوک کے پاؤں دباتا تھا اور ان کے سر کی ہلکی سی مالش کر دیتا تو وہ مجھے تین روپے دے دیتے تھے۔

’آج بھی جب کہیں اشوک سے ملاقات ہوتی ہے اور میں ان کے پاؤں دبانے لگتا ہوں تو وہ جھڑک کر کہتے ہیں کہ یہ سب کیا ہے؟

’اس پر میں انھیں کہتا ہوں، یہ ہماری آمدنی کا ذریعہ ہے۔

’پھر دو منٹ ان کے سر کی مالش کرتا ہوں تو وہ پانچ یا 10 روپے دیتے ہوئے مذاق میں کہتے ہیں، چلو لے لو، لے لو، مہنگائی بڑھ گئی ہے، مزے کرو!‘

جب نانا پاٹیکر نے اشوک ساراف کے لیے رکشہ چلایا

دوسری جانب اشوک ساراف نے بھی نانا پاٹیکر کے بارے میں ایک ایسا ہی واقعہ اپنی کتاب ’بہروپی‘ میں بیان کیا ہے۔

ڈرامہ ’حمیدہ بائی کی کوٹھی‘ کے ایک شو کے دوران نہ صرف اشوک ساراف بلکہ پوری ٹیم کو ایک انتہائی پُر تشدد صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

یہ شو ایک دور دراز قصبے میں ہو رہا تھا جہاں باقاعدہ معنوں میں کوئی تھیٹر موجود نہیں تھا۔ فنکاروں نے سٹیج پر اداکاری شروع کی، لیکن نہ تو ناظرین کو کچھ دکھائی دے رہا تھا اور نہ ہی آواز واضح طور پر سنائی دے رہی تھی۔ پانچ منٹ کے اندر نوبت ڈرامہ منسوخ کرنے تک آ گئی۔ باہر لوگ غصے میں شور مچا رہے تھے۔

2014 میں آنے والی فلم ’پرکاش بابا آمتے‘ سے نانا پاٹیکر کو بہت مقبولیت ملی
Getty Images
2014 میں آنے والی فلم ’پرکاش بابا آمتے‘ سے نانا پاٹیکر کو خاصی مقبولیت ملی

چونکہ اشوک ساراف ایک معروف اور مقبول فنکار تھے، اس لیے باہر موجود ہجوم کا سارا غصہ انھی کی طرف مرکوز تھا۔

صورت حال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے نانا پاٹیکر، جو اس ڈرامے میں بھی کام کر رہے تھے، اشوک ساراف کا ہاتھ پکڑ کر انھیں عقبی راستے سے باہر لے گئے۔ ادھر تھیٹر کے اندر ہاتھا پائی بھی شروع ہو چکی تھی۔

اشوک ساراف نے لکھا: ’ہم دونوں سڑک تک پہنچ گئے۔ وہاں دور دور تک کوئی نظر نہیں آ رہا تھا۔ نانا نے ایک سائیکل رکشہ روکا۔ مگر عمر رسیدہ رکشہ چلانے والے کے لیے چڑھائی والا راستہ طے کرنا مشکل تھا۔ نانا نے سائیکل والے کو نیچے اتارا اور خود رکشہ کھینچنے لگے۔

’اگر نانا نہ ہوتے تو لوگ یقیناً مجھے مار دیتے۔ ڈرامہ نہ ہو سکنے کا سارا غصہ وہ مجھ پر نکالتے۔ آج بھی وہ واقعہ یاد آتا ہے تو میرے بدن میں سنسنی دوڑ جاتی ہے۔‘

جنسی ہراسانی کے الزامات سے ’نام‘ فاؤنڈیشن تک

نانا پاٹیکر نے نہ صرف مراٹھی بلکہ ہندی فلم انڈسٹری میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔ انھوں نے 1978 میں ریلیز ہونے والی فلم ’گمن‘ سے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ تاہم اس فلم میں ان کا کردار اتنا مختصر تھا کہ وہ ناظرین کی خاص توجہ حاصل نہ کر سکے۔

بعد ازاں انھوں نے پرندہ، کرانتی ویر، پراہار، خاموشی، اگنی ساکشی، نٹسمرت اور ویلکم جیسی متعدد فلموں میں اپنی اداکاری کے ذریعے گہرا اثر چھوڑا۔

2014 میں آنے والی فلم ’پرکاش بابا آمتے‘ سے انھیں خاصی مقبولیت ملی۔ اسی طرح ’نٹسمرت‘ میں ان کی اداکاری کو بھی بہت سراہا گیا، جبکہ فلم ’دیول‘ میں ان کے کردار پر آج بھی سوشل میڈیا پر میمز بنائی جاتی ہیں۔

ہندی فلموں پرندہ، انگار، کرانتی ویر اور اپہرن کے لیے انھیں فلم فیئر ایوارڈز بھی ملے۔

خاص طور پر انھوں نے نا انصافی کے خلاف آواز اٹھانے والے ایک شدید جذباتی اور باغی مزاج کردار، یعنی ’اینگری ینگ مین‘ کو اپنے منفرد انداز میں پردۂ سکرین پر پیش کیا۔

شاید اسی لیے راج ٹھاکرے نے انھیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا کہ: ’نانا کی اداکاری کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا تھا جیسے عام آدمی کی زندگی میں جذبات کا ایک پریشر ککر دیکھ رہے ہوں۔‘

نانا پاٹیکر
Getty Images
نانا پاٹیکر کی زندگی کا سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والا تنازع جنسی ہراسانی کے وہ الزامات تھے جو ان پر عائد کیے گئے تھے۔

تاہم نانا پاٹیکر کی زندگی بھی اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہی۔ ان کی زندگی کا سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والا تنازع جنسی ہراسانی کے وہ الزامات تھے جو ان پر عائد کیے گئے تھے۔

اداکارہ تنوشری دتہ نے 2008 میں ایک فلم کے سیٹ پر نانا پاٹیکر پر جنسی انداز سے چھونے کا الزام لگایا۔ اس فلم میں دونوں ایک ساتھ کام کر رہے تھے۔

نانا پاٹیکر نے ان الزامات کی ہمیشہ تردید کی۔ 2018 میں انڈیا میں ’می ٹو‘ تحریک کے آغاز کے بعد یہ معاملہ دوبارہ منظرِ عام پر آیا۔ بعد ازاں تنوشری دتہ نے پولیس میں شکایت درج کروائی، جس کے بعد نانا پاٹیکر منفی تناظر میں خبروں کا حصہ بنے رہے۔ تاہم پولیس کو الزامات کی تائید کے لیے کافی شواہد نہ مل سکے اور جون 2019 میں انھیں اس الزام سے بری کر دیا گیا۔

نانا پاٹیکر نے نیوز چینل ’مرر ناؤ‘ کو ایک انٹرویو میں ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا: ’جنسی ہراسانی سے آپ کی کیا مراد ہے؟ ہم ایک فلم کے سیٹ پر تھے اور ہمارے سامنے 200 لوگ موجود تھے۔‘

2015 میں مہاراشٹر میں قحط کی سنگین صورتحال کے پیش نظر نانا پاٹیکر نے اداکار مکرند اناسپورے کے ساتھ مل کر ’نام فاؤنڈیشن‘ قائم کی تھی۔

اس فاؤنڈیشن کا مقصد مہاراشٹر میں خشک سالی سے متاثرہ علاقوں اور مشکلات کا شکار کسانوں کی مدد کے لیے عملی اقدامات کرنا تھا۔

2015 میں مہاراشٹر میں قحط کی سنگین صورتحال کے پیش نظر نانا پاٹیکر نے اداکار مکرند اناسپورے کے ساتھ مل کر ’نام فاؤنڈیشن‘ قائم کی تھی۔
Getty Images
2015 میں مہاراشٹر میں قحط کی سنگین صورتحال کے پیش نظر نانا پاٹیکر نے ’نام فاؤنڈیشن‘ قائم کی تھی۔

’میں قرآن کی آیات بھی پڑھتا ہوں‘

نانا پاٹیکر پر اکثر یہ تنقید کی جاتی تھی کہ وہ مختلف نظریات رکھنے والے لوگوں سے یکساں تعلقات رکھتے تھے اور کسی نظریے پر واضح مؤقف اختیار نہیں کرتے تھے۔

وہ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے بھی قریب سمجھے جاتے تھے۔

ایک انٹرویو میں ان سے سوال کیا گیا: ’بابا آمتے بھی آپ کے قریب ہیں اور بال صاحب ٹھاکرے بھی آپ کے قریب ہیں، یہ کیسے ممکن ہے؟‘

شاید اس سوال کے جواب میں نانا پاٹیکر نے جو بات کہی، اس سے ان کی اس مبینہ ’متزلزل‘ طبیعت کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

نانا نے کہا: ’مجھے جو اچھا لگتا ہے، وہ اچھا لگتا ہے۔ میں ایک پرندہ ہوں۔ مجھے کس شاخ پر بیٹھنا ہے، اس کا فیصلہ میں خود کرتا ہوں۔‘

آگے چل کر اسی تناظر میں وہ کہتے ہیں: ’سبھی اچھے ہوتے ہیں۔‘

’میں قرآن کی آیات بھی پڑھتا ہوں، میرے گلے میں تعویذ بھی ہے۔ کرشنا بھی ہیں۔ یہ سب میں خود سے نہیں پہنتا، بلکہ کسی نے دیا ہے اس لیے پہنتا ہوں۔

’میں مندر نہیں جاتا۔ میں شیردی (انڈیا کی ریاست مہاراشٹر کا قصبہ، جو صوفی بزرگ سائیں بابا کے مزار کی وجہ سے مشہور ہے) وغیرہ بھی نہیں جاتا۔ اگر مجھے سائیں بابا کے درشن کرنے ہوں تو میں یہیں ہاتھ جوڑ سکتا ہوں، اور اگر وہ واقعی خدا ہیں تو وہ یہاں بھی آ سکتے ہیں۔ منطق تو اتنی ہی سادہ ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US