راولپنڈی میں 15 سالہ مہمونہ کے مبینہ ریپ اور قتل کا ملزم تاحال مفرور: پولیس تفتیش میں اب تک کیا سامنے آیا ہے؟

پولیس نے شک کی بنیاد پر جب لاپتہ بچی کے خالہ کے گھر کی تلاشی لی تو اُس کی بالائی منزل سے مہمونہ کی برہنہ لاش برآمد ہوئی۔

اس رپورٹ میں جرم سے متعلق تفصیلات قارئین کے لیے پریشان کُن ہو سکتی ہیں

صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کی پولیس پیر ودھائی کے علاقے میں 15 سالہ لڑکی کے مبینہ ریپ اور قتل کے ملزم کو تین روز گزرنے کے باوجود تاحال گرفتار نہیں کر پائی ہے۔

چھ اکتوبر کو پیر ودھائی کے علاقے ڈھوک نجو میں پیش آئے اس واقعے کا مقدمہ سات اکتوبر کو بچی کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ اپنی ابتدائی درخواست میں والد نے اپنی 15 سالہ بیٹی مہمونہ بی بی کے لاپتہ ہونے کے بارے میں بتایا تھا۔

بعدازاں بچی کی لاش مبینہ طور پر اسی علاقے میں واقع اُس کے خالو کے گھر سے برآمد ہوئی تھی، جس کے بعد انھیں ملزم نامزد کرتے ہوئے اُن کی تلاش کا کام شروع کیا گیا اور پیرودھائی پولیس کے مطابق ملزم تاحال مفرور ہے۔

پیرودھائی پولیس کے مطابق لڑکی کی گمشدگی کی ابتدائی ایف آئی آر میں اب ریپ اور قتل کی دفعات کا اضافہ کر دیا ہے جبکہ اس کیس کی تفتیش کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کو منتقل کر دی گئی ہے۔

تھانہ پیر ودھائی میں اس کیس کی تفتیش سے منسلک پولیس افسر تنویر عباسی کے مطابق ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں مہمونہ بی بی کے ساتھ ریپ کے شواہد سامنے آئے ہیں جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقتولہ کے جسم کے مختلف حصوں پر تشدد کے نشانات موجود ہیں اور اُن کے حساس اعضا پر تیز دھار آلے سے زخم لگانے کے آثار بھی پائے گئے۔

انھوں نے کہا کہ پولیس نے پوسٹ مارٹم کے بعد حاصل کیے گئے نمونے فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے ہیں، جن کی تفصیلی رپورٹ کا انتظار ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق 15 سالہ لڑکی کی موت دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔

راولپنڈی میں سی سی ڈی کے افسر حسن جہانگیر کے مطابق اس واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے اورفرانزک اور انٹیلیجنس کی مدد سے اس مقدمے میں ملوث ملزم کی گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

راولپنڈی
Getty Images
اس کیس کی تفتیش سی سی ڈی کو منتقل کر دی گئی ہے

ابتدائی طور پر اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل پولیس اہلکار تنویر عباسی کے مطابق ڈھوک نجو (پیر ودھائی) کے رہائشی نے چھ اکتوبر کو اپنی 15 سالہ بیٹی مہمونہ کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی تھی جس میں انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اُن کی بیٹی دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے گھر کے قریب واقع مدرسے میں روزانہ جاتی تھیں اور دن دو بجے کے قریب گھر واپس آ جاتی تھیں۔

ایف آئی آر کے مطابق وقوعہ کے روز جب مہمونہ اپنے گھر سے دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے گھر سے نکلیں اور جب مقررہ وقت تک واپس نہ آئیں تو اہلخانہ کو تشویش لاحق ہوئی اور انھوں نے اپنے تئیں لڑکی کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں ملی۔

تنویر عباسی کے مطابق ابتدائی تفتیش میں پولیس نے جس علاقے میں مقتولہ کا گھر تھا وہاں کے سی سی ٹی وی کیمروں تک رسائی حاصل کی، تاہم لڑکی کسی بھی کیمرے میں نظر نہیں آ رہی تھی۔ تاہم بعدازاں ملنے والی فوٹیج میں لڑکی نظر آئی اور ایک فوٹیج میں اس کے خالو کو اس سے گلی میں بات کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

انھوں نے کہا کہ جس دینی مدرسے میں مہمونہ تعلیم حاصل کرنے جاتی تھیں وہاں کے منتظمین سے بھی اس لڑکی کے بارے میں پولیس کو بتایا کہ وہ آج مدرسے آئی ہی نہیں۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ جب لڑکی کی گمشدگی کا معاملہ سامنے آیا تو اس کیس کے ملزم ممریز، جو کہ مقتولہ کے خالو بھی ہیں، وہ بھی بچی کو تلاش کرنے کے عمل میں شریک رہے مگر جب معاملہ پولیس تک پہنچا تو وہ روپوش ہو گئے۔

انھوں نے کہا کہ پولیس نے انسانی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے گلی محلے میں ہی لوگوں سے لڑکی کے بارے میں پوچھنا شروع کیا۔ انھوں نے کہا کہ مقتولہ کے گھر کے قریب ہی اس کی خالہ کا گھر بھی تھا۔

تنویر عباسی کے مطابق پولیس نے شک کی بنیاد پر جب لاپتہ بچی کے خالہ کے گھر کی تلاشی لی تو اُس کی بالائی منزل سے مہمونہ کی برہنہ لاش برآمد ہوئی۔

پولیس کے مطابق انھوں نے ملزم کی اہلیہ کو بھی شامل تفتیش کیا ہے تاکہ حقائق کا پتہ چلایا جا سکے۔

اس کیس کی تفتیش سے منسلک سی سی ڈی کے اہلکار کا کہنا ہے کہ ملزم کی اہلیہ سے جو تفتیش ہوئی ہے اس سے کچھ اشارے ملے ہیں جو کہ اگلے چل کر تفتیش میں مدد گار ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے جیو فنسنگ کی جا رہی ہے تاہم پولیس کے بقول ملزم نے اپنے زیر استعمال موبائل فون بند کیا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے موٹر وے اور ہائی ویز پر لگے ہوئے سی سی ٹی وی کی فوٹیجز بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔

مہمونہ بی بی کے والد نے بی بی سی اُردو کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر بتایا کہ وہ صدمے میں ہیں اور اس معاملے پر کوئی بات نہیں کر سکتے۔

اس خاندان کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ دونوں خاندانوں کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے اور وہ کچھ عرصہ قبل ہی ایبٹ آباد سے روزگار کے سلسلے میں راولپنڈی شفٹ ہوئے تھے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US