صدر پاکستان صدر آصف علی زرداری کی جانب سے منظوری کے بعد پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ العمل ہو چکی ہے۔ مگر یہ ایمرجنسی کس قانون کے تحت نافذ کی گئی ہے اور اب وفاقی حکومت کو خیبرپختونخوا کے حوالے سے کیا خصوصی اختیارات حاصل ہوں گے۔

صدر پاکستان صدر آصف علی زرداری کی جانب سے منظوری کے بعد پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ العمل ہو چکی ہے۔
اتوار (11 اکتوبر) کی دوپہر پاکستان کی وفاقی کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد وزیرِ اعظم شہباز شریف کو کابینہ کی جانب سے تجویز دی گئی تھی کہ وہ صدر مملکت کو مشورہ دیں کہ ’حالات کی سنگینی کے پیش نظر صدر مملکت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ کریں.‘
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اس ضمن میں ایک ایڈوائس صدر آصف علی زرداری کو بھجوائی گئی جسے انھوں نے منظور کر لیا ہے۔
ایک اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ کابینہ کے اجلاس میں خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور شدت پسندی کے خلاف جنگ سے صوبائی حکومت کی دانستہ لاتعلقی کے پیش نظر حالات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تھا۔
ایمرجنسی کس قانون کے تحت نافذ کی گئی؟

پاکستان کے کسی بھی حصے یا صوبے میں ہنگامی حالت یا ایمرجنسی کا نفاذ پاکستان کے آئین کی شق 232 کے تحت کیا جا سکتا ہے اور اِس کے نفاذ کا حق صدرِ پاکستان کے پاس ہے۔
آئین کی اس شق کے مطابق ایمرجنسی جنگ اور بیرونی جارحیت کے علاوہ داخلی انتشار یا خلل کی وجہ سے بھی نافذ کی جا سکتی ہے۔
اس شق میں کہا گیا ہے کہ اگر صدر اس بات پر مطمئن ہوں کہ کوئی سنگین ہنگامی صورتحال موجود ہے، جس میں پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو جنگ، بیرونی جارحیت یا اندرونی انتشار سے ایسا خطرہ لاحق ہے جس پر قابو پانا صوبائی حکومت کے اختیار میں نہیں رہا تو وہ ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر سکتے ہیں۔
آئین کے مطابق صوبے میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم اگر صدر اپنی مرضی سے عمل کرے تو ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ دس دن کے اندر پاکستانی پارلیمان کے دونوں ایوانوں یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جانا لازمی ہے۔
یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے آئندہ ہفتے کے دوران قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کیے گئے ہیں اور بظاہر قانون کے مطابق اب خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کے فیصلے کی توثیق پارلیمان کی کروائی جائے گی۔
ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کون سے اختیارات متاثر ہوتے ہیں؟
آئین کے مطابق ملک کے جس علاقے میں جب تک ایمرجنسی کا نفاذ رہے گا اس وقت تک مجلسِ شوریٰ یا پارلیمان کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ متاثرہ صوبے یا اس کے کسی حصے کے لیے ایسے معاملات پر قوانین بنا سکتی ہے، جو وفاقی قانون ساز فہرست یا متوازی قانون ساز فہرست میں درج نہ ہوں۔
کسی صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی مدت کے دوران وفاق کا انتظامی اختیار صرف یہ ہدایات دینے تک ہو گا کہ مذکورہ صوبے کے انتظامی اختیار کو کس طرح استعمال کیا جائے۔
آرٹیکل 232 کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کی صورت میں وفاقی حکومت صوبے کا انتظام خود سنبھال سکتی ہے یا صوبے کے گورنر کو ہدایت دے سکتی ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی طرف سے صوبائی حکومت کے تمام یا چنندہ فرائض اور صوبے میں صوبائی اسمبلی کے علاوہ کسی بھی ادارے یا اختیار کو دیے گئے یا قابل استعمال اختیارات سنبھالے۔
تاہم آئین میں واضح ہے کہ اس صورتحال میں کسی بھی صورت میں وفاقی حکومت کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ خود ہائیکورٹ کے اختیارات سنبھالے یا صوبے کے گورنر کو اپنی طرف سے ایسا کرنے کو کہے، یا ہائیکورٹ سے متعلق آئین کی کسی بھی شق کو مکمل یا جزوی طور پر معطل کرے۔
آئینِ پاکستان کے جس آرٹیکل کے تحت صوبے میں ہنگامی حالت نافذ کی جا سکتی ہے اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آرٹیکل میں کوئی بھی چیز صوبائی اسمبلی کے کسی بھی قانون کو بنانے کے اختیار کو محدود نہیں کرے گی جو اسے آئین کے تحت بنانے کا اختیار ہے۔
لیکن اگر کسی صوبائی قانون کی کوئی شق اس ایکٹ آف پارلیمنٹ کی کسی شق کے خلاف ہو جس کا پارلیمان کو ہنگامی حالت کے نفاذ کے ایکٹ کے تحت بنانے کا اختیار حاصل ہے تو پارلیمنٹ کا بنایا گیا قانون چاہے صوبائی قانون سے پہلے منظور ہو یا بعد میں، اس وقت تک غالب رہے گا جب تک ہنگامی حالت کا نفاذ باقی رہتا ہے۔
ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان پارلیمان کے اس مشترکہ اجلاس کے سامنے رکھا جاتا ہے، جو صدر کی طرف سے اعلان کے اجرا کے 30 دن کے اندر بلایا جانا لازم ہے اور یہ ایمرجنسی دو ماہ کی میعاد مکمل ہونے پر ختم بھی ہو جائے گی، تاوقتیکہ میعاد ختم ہونے سے پہلے مشترکہ اجلاس کی قرارداد کے ذریعے اس کا نفاذ دوبارہ منظور نہ کیا جائے۔
آئین کے مطابق اگر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس دونوں ایوانوں کے کل اراکین کی اکثریت سے ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کر دے تو اس صورت میں بھی ایمرجنسی کا نفاذ باقی نہیں رہے گا۔
کیا اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے؟
پاکستانی آئین کی شق نمبر 236 کے تحت اس کے 10ویں باب میں موجود کسی بھی آرٹیکل کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم قانونی ماہر احمد بلال محبوب نے ماضی میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب تک لگنے والی تقریباً تمام ہی ایمرجنسیز اور گورنر راج کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا ہے۔
اس بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ اس باب کے تحت تو ایسے کسی حکم نامے پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا، تاہم کوئی بھی شخص عدالت میں رٹ دائر کر سکتا ہے کہ آئین میں موجود دیگر شقوں کی خلاف ورزی ہوئی یا اس کے بنیادی حقوق سلب کیے گئے۔