وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور یہ شعبہ پاکستان کو قلیل مدت میں معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ گندم کی بوائی سے قبل اس کی مناسب قیمت کا تعین ضروری ہے تاکہ کسانوں کو ان کی محنت کا جائز معاوضہ مل سکے جبکہ صارفین کو بھی سستی گندم کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں قومی زرعی و غذائی تحفظ کونسل (این اے ایف ایس سی) کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں زرعی شعبے کی ترقی، کسانوں کو سہولیات کی فراہمی، گندم کی قیمت کے تعین اور لائیو اسٹاک کی برآمدات بڑھانے سمیت مختلف امور پر غور کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت زراعت کی ترقی کے لیے صوبوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ کسانوں کو کم لاگت پر کھاد، معیاری بیج، جدید زرعی مشینری اور پانی کے مؤثر استعمال کے لیے آلات و تکنیکی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو ان کی فصلوں کی مناسب قیمت دلانا ضروری ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے گندم وافر مقدار میں موجود ہے، تاہم گندم کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ گندم کی قیمت کے تعین کے لیے صوبوں سے مشاورت کی جائے اور مشاورت مکمل ہونے کے بعد جلد قیمت کا اعلان کیا جائے، تاکہ کسانوں کو مناسب معاوضہ اور صارفین کو سستی گندم میسر آسکے۔
وزیراعظم نے پنجاب میں کسانوں کی ترقی، ایکوا کلچر، شرمپ فارمنگ اور کسان کارڈ کے ذریعے براہ راست سبسڈی کی فراہمی کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت بھی کسانوں کی ترقی اور انہیں سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لائیو اسٹاک کا شعبہ بھی ملکی برآمدات میں اضافے کی وسیع صلاحیت رکھتا ہے اور حکومت پاکستانی حلال گوشت کی برآمدات بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور وزیر زراعت سندھ مخدوم محبوب الزمان نے اپنے صوبوں میں کسانوں کی ترقی اور زرعی شعبے کی بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی، جبکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں زراعت کی ترقی کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، جام کمال خان، احد خان چیمہ، احسن اقبال، عطاء اللہ تارڑ، خالد حسین مگسی اور میاں معین وٹو، مشیران رانا ثناء اللہ اور ہارون اختر سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔