فیصل واوڈا، بوٹ اور ری بوٹ: ’یہ پیغام کس کا ہے اور کس کے لیے ہے؟‘

سینیٹر فیصل واوڈا کی حالیہ پریس کانفرنس کے بعد ان کے ’ری بُوٹ‘، ’پارٹ ٹو‘ اور 180 دن کی کارکردگی سے متعلق بیانات سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث ہیں۔ ان کے بعض بیانات اور اشاروں پر صحافیوں، مبصرین اور سوشل میڈیا صارفین نے مختلف تشریحات پیش کیں اور سوال اٹھایا کہ فیصل واوڈا کی گفتگو کا اصل مخاطب کون تھا۔

’(یہ) وہ والا بُوٹ نہیں۔‘

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران یہ وضاحت سینیٹر فیصل واوڈا کو اس وقت دینی پڑی جب وہ بار بار ’ری بُوٹ‘ کی اصطلاح استعمال کر رہے تھے۔

ان کی یہ گفتگو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ملک کی سیاسی بحث اسی موضوع کے گرد گھوم رہی ہے۔

تاہم، فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس میں بعض اشارے اور اصطلاحات ایسی تھیں، جو اپنے اندر ایک سوال چھوڑ گئیں۔

اس پریس کانفرنس کے دوران فیصل واوڈا نے ’ری بُوٹ‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ایک نئے آغاز کی ضرورت ہے۔

تاہم ’ری بُوٹ‘ ان کی گفتگو میں واحد غیر معمولی اصطلاح نہیں تھی۔ انھوں نے خیبر پختونخوا میں قائم ہونے والے نئے انتظامی سیٹ اپ کی حمایت تو کی لیکن ساتھ ہی نتائج کی ڈیڈ لائن بھی مقرر کی۔

اسی پریس کانفرنس میں انھوں نے اشارہ دیا کہ حالیہ پیش رفت ایک بڑے سلسلے کا حصہ ہے اور اس کے مزید ’پارٹس‘ بھی آئیں گے۔

فیصل واوڈا نے کیا کہا؟

اس پوری پریس کانفرنس میں جس بات کو فیصل واوڈا نے سب سے زیادہ دہرایا، وہ ’کارکردگی‘ تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں قائم کیے گئے نئے انتظامی سیٹ اپ کی کامیابی یا ناکامی کا جائزہ محض اعلانات کی بنیاد پر نہیں بلکہ نتائج کی بنیاد پر لیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ صوبے میں قائم ہونے والے نئے بندوبست کے لیے 180 دن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کارکردگی کا جائزہ 30 اور 60 دن بعد بھی لیا جائے گا۔

ان کے بقول یہ اگر موجودہ انتظامیہ نتائج نہ دے سکی تو اسے برقرار نہیں رکھا جائے گا، ’جو کارکردگی دکھائے وہ رہے اور جو نہ دکھا سکے اسے نکال کر باہر پھینکیں۔‘

فیصل واوڈا نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی پر ’بھاری ذمہ داری‘ عائد ہوتی ہے اور ان کے نزدیک ’فیلیئر (ناکامی) کی گنجائش ایک فیصد بھی نہیں۔‘

اپنی گفتگو میں انھوں نے انگریزی فقرہ ’فیلیئر از ناٹ این آپشن‘ بھی استعمال کیا، جس کا مطلب ہے کہ خیبر پختونخوا میں اس نئے انتظامی تجربے کے لیے ’ناکام ہونے کی کوئی گنجائش نہیں۔‘

فیصل واوڈا کے مطابق اس سیٹ اپ کی کامیابی کا پیمانہ اس کی کارکردگی ہو گی۔

تاہم ان کی پریس کانفرنس میں کارکردگی سے متعلق بیانات کے ساتھ ساتھ ’ری بُوٹ‘ اور ’بُوٹ‘ کا بھی ذکر تھا۔

بُوٹ اور ری بُوٹ

پریس کانفرنس کے دوران فیصل واوڈا نے کہا کہ ’پاکستان کی کہانی جو اپنے بچوں کو سنانی ہے، اس کے اندر ہم ری بُوٹ کی آپشن کو دیکھ رہے ہیں۔‘

ساتھ ہی انھوں نے وضاحت کی: ’وہ والا بُوٹ نہیں۔‘

پاکستان کی سیاست میں ’بُوٹ‘ کی اصطلاح عموماً فوج یا عسکری اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کی طرف اشارے کے طور پر استعمال ہوتی ہے، تاہم فیصل واوڈا نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہم ری بُوٹ کی آپشن کو دیکھ رہے ہیں،‘ یعنی نظام کی از سرِ نو ترتیب یا اصلاح کی بات کر رہے ہیں۔

فیصل واوڈا نے البتہ اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ’ہم‘ سے ان کی مراد وہ خود ہیں، موجودہ انتظامی سیٹ اپ ہے یا کوئی اور فریق۔

’ری بُوٹ‘ کی تشریح کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے اسے موبائل فون کے بند ہو کر دوبارہ آن ہونے کے عمل سے تشبیہ دی۔ ان کے بقول جب موبائل فون جام ہو جائے اور کام کرنا چھوڑ دے تو اسے ’ری بُوٹ‘ کیا جاتا ہے، جس کے بعد اس کا نظام بتدریج دوبارہ درست ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

’یہ کس کا پیغام ہے اور کس کے لیے ہے؟‘

فیصل واوڈا کی منگل کی پریس کانفرنس کے بعد بعض صحافیوں، سیاسی مبصرین اور سوشل میڈیا صارفین نے بھی ان کے بیانات کی مختلف تشریحات پیش کیں اور یہ سوال اٹھایا کہ ان کی گفتگو کا اصل مخاطب کون تھا۔

بعض سوشل میڈیا صارفین اور صحافی ان کے ’ری بُوٹ‘، ’پارٹ ٹو‘ اور ’کارکردگی‘ سے متعلق اشاروں کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرتے رہے، جبکہ بعض نے یہ سوال اٹھایا کہ ان کی گفتگو کا اصل مخاطب کون تھا۔

صحافی ثنا اللہ خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر فیصل واوڈا کی تقریر کا ایک حصہ شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’یہ کس کا پیغام ہے اور کس کے لیے ہے، فیصل واوڈا نے سب بتا دیا۔ سمجھ دار کے لیے اشارہ ہی کافی ہے۔‘

اس پوسٹ کے ساتھ فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کا جو حصہ شیئر کیا گیا، اس میں وہ کہتے ہیں: ’اس طرزِ سیاست کے جمہوری لیڈروں کے پاس اپنے گھر کے ووٹ بھی نہیں ہیں، سب پارٹیاں اس میں شامل ہیں۔‘

بعد ازاں انھوں نے دعویٰ کیا: ’عوام جمہوری لوگوں سے نفرت کرتی ہے۔ لیٹس بی ویری کلیئر اینڈ آنسٹ اینڈ بلنٹ اینڈ سٹریٹ۔‘

یعنی ’اس بارے میں واضح، دیانت دارانہ اور دو ٹوک مؤقف اختیار کریں۔‘

اسی گفتگو میں فیصل واوڈا نے خود کو روایتی سیاست دانوں سے مختلف قرار دیتے ہوئے کہا: ’میں کنونشنل سیاست دان نہیں ہوں، نہ میرا باپ سیاست میں تھا، نہ میرے باپ کا باپ۔‘

اور پھر کہا: ’نہ کسی کا لحاظ کریں گے۔ ٹھوک بجا کے کام کرائیں گے، پاکستان کی عوام کے لیے۔‘

خرم قریشی نامی صارف نے فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کا وہ حصہ شیئر کیا، جس میں رپورٹر پوچھتے ہیں: ’پتا نہیں بُوٹ سے آپ کی کیا خاص محبت ہے۔‘

اس کے جواب میں فیصل واوڈا کہتے ہیں: ’میری تو ہے بہت محبت، آپ کی بھی ہونی چاہیے، محافظ ہیں ہمارے ملک کے۔ ہونی چاہیے۔ اور بُوٹ کو عزت دینے سے ہی تو مقام یہاں تک پہنچا ہے پاکستان کا۔‘

صحافی نصرت جاوید نے ایکس پوسٹ میں لکھا کہ وہ فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس غور سے سننے کے باوجود یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ آیا وہ فیصل کریم کنڈی اور پیپلز پارٹی سے نتائج کا مطالبہ کر رہے تھے یا پھر خیبر پختونخوا میں اختیارات رکھنے والے ٹیکنوکریٹس سے فوری کارکردگی کی توقع کر رہے تھے۔

اسی طرح افنان مشعل نے لکھا کہ وہ ’پارٹ ٹو‘ کا انتظار کر رہی ہیں، جبکہ فرخ سلیم نے اپنی تشریح میں کہا کہ ان کے خیال میں فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کا مرکزی نکتہ ’پاکستان کو ری بُوٹ کرنا، خیبر پختونخوا کو اس عمل کا ابتدائی مرحلہ قرار دینا اور 60 سے 180 دن کے بعد کارکردگی کے امتحان کا تصور تھا۔‘

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں سید علی عباس زیدی نے لکھا کہ فیصل واوڈا جیسے کسی شخص کا ٹی وی پر آ کر قوم کو ڈانٹنا اور دھمکانا ’پاکستان کے سیاسی نظام کے زوال کی عکاسی کرتا ہے۔‘

جبکہ ایک اور صارف حسین یعقوب نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ فیصل واوڈا اتنے عرصے سے کہاں تھے اور اب دوبارہ منظرِ عام پر کیوں آئے ہیں۔

پریس کانفرنس کے بعد فیصل واوڈا مختلف نیوز چینلز کے پرائم ٹائم پروگراموں میں بھی شریک ہوئے۔

جب فیصل واوڈا نے بُوٹ ٹیبل پر رکھ دیا تھا

یہ پہلا موقع نہیں کہ فیصل واوڈا کی کسی گفتگو میں ’بُوٹ‘ کا حوالہ نمایاں ہوا ہو۔

جنوری 2020 میں فیصل واوڈا اُس وقت خبروں کی زینت بنے تھے جب وہ ٹیلی وژن چینل اے آر وائے نیوز پر اینکر کاشف عباسی کے پروگرام میں ایک فوجی بُوٹ اپنے ساتھ لے آئے تھے اور دورانِ گفتگو اسے میز پر رکھ دیا تھا۔ اُس وقت وہ تحریکِ انصاف کی حکومت میں وفاقی وزیر تھے۔

فیصل واوڈا نے اس وقت کی اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے آرمی ایکٹ 2020 کی حمایت کرتے ہوئے ’بُوٹ کو عزت‘ دی ہے، اور اسی بات کو واضح کرنے کے لیے انھوں نے بُوٹ میز پر رکھا۔

یاد رہے کہ جنوری 2020 میں پارلیمان نے پاکستان آرمی ایکٹ 2020 منظور کیا تھا، جس کے تحت آرمی چیف کی مدتِ ملازمت تین سال مقرر کی گئی تھی، جبکہ صدرِ مملکت کو وزیرِ اعظم کے مشورے پر آرمی چیف کو مزید تین سال کے لیے دوبارہ مقرر کرنے یا ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع دینے کا اختیار بھی دیا گیا تھا۔

اس قانون کی حمایت تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی کی تھی۔

فیصل واوڈا کے ٹیلی وژن پروگرام کے دوران بُوٹ میز پر رکھنے کے واقعے پر پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے ریگولیٹری ادارے پیمرا نے نوٹس لیا تھا، اور کاشف عباسی کا پروگرام ’آف دی ریکارڈ‘ نشر کرنے پر 60 دن کی پابندی لگائی تھی۔

تحریکِ انصاف سے آزاد سینیٹر تک: فیصل واوڈا کی سیاست

فیصل واوڈا کا سیاسی سفر گذشتہ چند برسوں میں کئی اتار چڑھاؤ سے گزرا ہے۔

وہ 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر کراچی سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعد ازاں وفاقی وزیرِ آبی وسائل بھی رہے۔ بعد میں وہ قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ کر 2021 میں سندھ سے سینیٹر منتخب ہوئے۔

تاہم فروری 2022 میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انھیں دوہری شہریت کے معاملے پر نااہل قرار دے دیا۔ کمیشن کے مطابق انہوں نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں امریکی شہریت سے متعلق درست معلومات ظاہر نہیں کی تھیں، جس کے نتیجے میں ان کی سینیٹ نشست بھی ختم ہو گئی۔

اسی سال ان کی پی ٹی آئی سے وابستگی بھی ختم ہو گئی اور بعد ازاں وہ پارٹی سے الگ ہو گئے۔

دو سال بعد اپریل 2024 میں فیصل واوڈا ایک بار پھر ایوانِ بالا میں پہنچنے میں کامیاب رہے، تاہم اس بار وہ ایک آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہوئے۔

تاہم ان کی سینیٹ میں واپسی محض ایک آزاد امیدوار کی کامیابی کی کہانی نہیں تھی۔

کیوں کہ سینیٹ انتخابات سے صرف ایک روز قبل پیپلز پارٹی نے اپنے ایک امیدوار کو دستبردار کر کے ان کی حمایت کی تھی، جبکہ ایم کیو ایم پاکستان پہلے ہی اعلان کر چکی تھی کہ وہ اپنے اضافی ووٹ انھیں دے گی۔ یوں وہ سندھ سے سینیٹر منتخب ہو گئے تھے۔

ایک سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی اور سینیٹ تک پہنچنے، پھر نااہلی کا سامنا کرنے اور بعد ازاں ایک آزاد امیدوار کے طور پر سینیٹ میں واپسی تک، فیصل واوڈا پاکستانی سیاست میں اپنی غیر روایتی اور اکثر متنازع سمجھی جانے والی سیاسی طرزِ گفتگو کے باعث توجہ حاصل کرتے رہے ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US