اربوں ڈالر کا فضائی دفاعی نظام سعودی عرب کو حوثی حملوں سے بچانے میں ناکام کیوں ہوا؟

سعودی عرب کے اربوں ڈالر کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام حوثیوں کے حملوں کو روکنے میں کیوں ناکام ہو رہے ہیں، ان نظاموں کو کن بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے اور حالیہ برسوں میں حوثیوں کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں کس حد تک جدت آئی ہے۔

سعودی عرب نے گذشتہ ایک دہائی کے دوران اپنے فضائی اور میزائل دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔

2017 میں امریکہ نے سعودی عرب کو تھاڈ لانچرز اور میزائلز کی فروخت کے لیے قریب 15 ارب ڈالر کے معاہدے کی منظوری دی تھی۔ پھر 2022 میں پیٹریاٹ میزائلز کے لیے تین ارب ڈالر کے معاہدے کی منظوری دی گئی اور بعد ازاں اسی دفاعی نظام میں بہتری کے لیے 2026 میں دوبارہ تقریباً نو ارب ڈالر کا معاہدہ طے پایا۔

پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے جدید امریکی دفاعی نظام حاصل کرنے کے باوجود حالیہ دنوں میں یمن کے حوثی گروہ (انصار اللہ) کے حملوں نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی کے باوجود مملکت کے اہم ہوائی اڈے اور دیگر تنصیبات میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں کیوں آ رہے ہیں؟

10 اکتوبر کو ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اگلے روز اسی ایئرپورٹ پر ایک اور میزائل یا پروجیکٹائل حملہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔ ان حملوں کے بعد پروازیں معطل کر دی گئیں جبکہ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ تحقیقات شروع کی گئی ہیں کہ حوثیوں کے داغے گئے میزائل اور ڈرون سعودی دفاعی حصار کو عبور کرنے میں کیسے کامیاب ہوئے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا تھا، تاہم بعض اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ زیرِ بحث ہے کہ جدید دفاعی نظاموں کے باوجود تمام حملوں کو روکنا اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے؟

کیا مسئلہ حوثیوں کی بدلتی ہوئی میزائل اور ڈرون صلاحیتیں ہیں، یا مختلف دفاعی نظاموں کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی میں چیلنجز موجود ہیں؟ یا پھر وسیع جغرافیے، متعدد سمتوں سے مسلسل حملے اور انٹرسیپٹر میزائلوں کے محدود ذخائر جیسے عوامل بھی دفاعی منصوبہ بندی کو پیچیدہ بنا رہے ہیں؟

سعودی عرب کے پاس کون سے فضائی دفاعی نظام موجود ہیں؟

سعودی عرب کے پاس ایک ملٹی لیئرڈ یا کثیر سطحی فضائی دفاعی نیٹ ورک ہے جس میں مختلف فاصلے اور بلندی پر آنے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے متعدد نظام شامل ہیں۔

پیٹریاٹ PAC-3

امریکہ میں تیار کردہ پیٹریاٹ نظام سعودی عرب کے فضائی اور میزائل دفاع کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔

سٹریٹیجک ویژن انسٹی ٹیوٹ (ایس وی آئی) سے وابستہ محقق حماد ولید نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ سعودی عرب ڈرونز، طیاروں، کروز میزائلوں اور بعض بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے پیٹریاٹ نظام استعمال کرتا ہے۔

پیٹریاٹ ایڈوانسڈ کیپابلیٹی تھری (PAC-3) جدید ریڈاروں کی مدد سے بیک وقت متعدد اہداف کا سراغ لگانے اور انھیں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم اس میں استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائل انتہائی مہنگے ہوتے ہیں۔

حماد ولید کے مطابق اسی وجہ سے سعودی عرب بعض مواقع پر سوئس ساختہ اورلیکن 35 ملی میٹر اینٹی ایئر کرافٹ گنز بھی استعمال کرتا ہے، جو نسبتاً کم لاگت کے ساتھ چھوٹے ڈرونز کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔

تھاڈ (THAAD)

ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (THAAD) نظام کو زیادہ بلندی پر بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور یہ پیٹریاٹ جیسے نظاموں کے ساتھ مل کر دفاع کی ایک اضافی تہہ فراہم کرتا ہے۔

سعودی عرب نے جولائی 2025 میں اپنی پہلی تھاڈ یونٹ کو فعال قرار دیا تھا۔ حماد ولید کے مطابق یہ نظام ایران یا حوثیوں کی جانب سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کے خلاف دفاع کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے، تاہم اسے عموماً ڈرونز کے خلاف استعمال نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ ایک نہایت مہنگا دفاعی نظام ہے۔

دیگر فضائی دفاعی نظام

سعودی عرب کے پاس درمیانے اور کم فاصلے تک مار کرنے والے کئی دیگر دفاعی نظام بھی موجود ہیں، جن میں آئی ہاک (I-Hawk)، کروٹال (Crotale)، شاہین (Shahine) اور میکا (MICA) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مخصوص تنصیبات کے دفاع کے لیے پوائنٹ ڈیفنس نظام بھی استعمال کیے جاتے ہیں، جو مجموعی فضائی دفاعی نیٹ ورک کو مضبوط بناتے ہیں۔

Attack on King Khalid Airport
Reuters

حوثی میزائلوں اور ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے روکا کیوں نہ گیا؟

ساسچا بروخمان، انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) کے مشرقِ وسطیٰ سیکشن میں ڈیفنس اینڈ ملٹری اینالیسز پروگرام (DMAP) کے ریسرچ فیلو ہیں۔

بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سعودی فضائی دفاعی نظام نے زیادہ تر اہداف کو کامیابی سے روکا ہے، تاہم حوثی پورا ہفتہ سعودی فضائی دفاع کے خلاف پے در پے حملے کرتے رہے ہیں، حتیٰ کہ ہوائی اڈے پر پہلا میزائل گرنے سے پہلے بھی۔

ساسچا کا کہنا ہے کہ ڈرونز کے جھنڈ (swarms) اسی مقصد کے لیے تیار کیے جاتے ہیں کہ دفاعی نظام پر بوجھ بڑھا دیا جائے تاکہ کچھ ہتھیار دفاعی حصار عبور کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

ان کے مطابق تکنیکی طور پر بعض اوقات ڈرونز اتنی کم بلندی اور کم رفتار سے پرواز کرتے ہیں کہ ریڈار کو انھیں شناخت کرنے میں مشکل ہوتی ہے۔ طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے ریڈار عموماً میزائلوں اور جنگی طیاروں کی نشاندہی کے لیے بہتر بنائے گئے ہوتے ہیں۔ جبکہ ڈرونز کی شناخت کے لیے مخصوص ریڈاروں کی حدِ نگرانی نسبتاً کم ہوتی ہے۔ اگر حملہ آور کئی دنوں یا ہفتوں تک متعدد ڈرون قربان کرنے پر آمادہ ہوں تو وہ ایسے ریڈاروں کے درمیان موجود کمزور مقامات یا خلا تلاش کر سکتے ہیں۔

سٹریٹیجک ویژن انسٹی ٹیوٹ (ایس وی آئی) سے وابستہ محقق حماد ولید بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔

بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے حماد کہتے ہیں کہ حالیہ حملوں سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ سعودی فضائی دفاع مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ سعودی عرب کے وسیع رقبے کے باعث جدید دفاعی نظام صرف مخصوص علاقوں اور حساس تنصیبات کو تحفظ فراہم کر سکتے ہیں، جبکہ حوثی اتنی بڑی تعداد میں حملے کر رہے ہیں کہ بعض میزائل اور ڈرون دفاعی حصار عبور کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور وقفے وقفے سے بعض حملوں کا اپنے اہداف تک پہنچ جانا لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ فضائی دفاعی نظام ناکام ہو چکا ہے، بلکہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دفاعی نظام مسلسل دباؤ میں ہے۔

حماد ولید کا مزید کہنا ہے کہ حالیہ حملوں کو صرف دفاعی ناکامی قرار دینا درست نہیں ہوگا کیونکہ سعودی عرب کو حالیہ مہینوں میں ایران سے منسلک خطرات، ڈرونز، کروز میزائلوں اور بیلسٹک میزائلوں سمیت متعدد نوعیت کے خطرات کا سامنا رہا ہے، جس سے دفاعی نظام پر مجموعی دباؤ میں اضافہ ہوا۔

تھامس جونو، تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ پروگرام میں ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔ ان کی تحقیق کے اہم موضوعات میں مشرقِ وسطیٰ، ایران، خلیجی سلامتی، یمن کا تنازع، حوثی تحریک اور سعودی عرب کی علاقائی سلامتی کی حکمتِ عملی شامل ہیں۔

سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے روکنے میں کیوں ناکام ہو رہے ہیں، اس حوالے سے بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئےتھامس جونو کہتے ہیں کہ اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں: پہلی سعودی عرب کا وسیع جغرافیہ ہے۔ ان کے بقول دو ملین مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلے ملک میں تیل کی تنصیبات، پائپ لائنیں، ہوائی و فوجی اڈوں سمیت بڑی تعداد میں حساس اور تزویراتی تنصیبات موجود ہیں جن کا مکمل دفاع کرنا بذاتِ خود ایک بڑا چیلنج ہے۔

ان کے مطابق دوسری وجہ یہ ہے کہ اگرچہ سعودی عرب نے 2025 کے بعد حوثیوں کے خلاف اپنی عسکری کارکردگی میں بتدریج بہتری لائی ہے، تاہم اسی عرصے میں حوثیوں کی صلاحیتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

Houthi attack at saudi airports
Getty Images

کیا مختلف ہتھیاروں کا بیک وقت استعمال حملے روکنا مشکل بناتا ہے؟

فابیان ہنز کانفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ (Conflict Armament Research) سے وابستہ سینئر تجزیہ کار ہیں، جو میزائل ٹیکنالوجی، ڈرونز اور جدید ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر تحقیق کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ اس سے قبل وہ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) میں میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کے ریسرچ فیلو رہ چکے ہیں۔

بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے فابیان بتاتے ہیں کہ کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف ایسے حملے شروع کیے ہیں جن میں بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرونز بیک وقت استعمال کیے جا رہے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس نوعیت کے مشترکہ حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد آسان نہیں ہوتا کیونکہ ان میں شامل ہتھیاروں کی رفتار، پرواز کی بلندی، راستہ اور ہدف تک پہنچنے کی سمت مختلف ہوتی ہے۔ تاہم اگر ایسے حملے کامیابی سے کیے جائیں تو وہ فضائی دفاعی نظام کے لیے اہداف کی نشاندہی اور انھیں تباہ کرنا نمایاں طور پر زیادہ پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

اس حوالے سے آئی آئی ایس ایس سے وابستہ ساسچا بروخمان کا کہنا ہے کہ بیلسٹک میزائل خلا یا خلا کے کنارے جیسی بہت بلند بلندی سے آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ رفتار کے ساتھ اپنے ہدف کی طرف آتے ہیں۔ اس وجہ سے دفاعی نظام کو ردعمل کے لیے بہت کم وقت ملتا ہے۔ میرے اندازے کے مطابق حوثیوں کے میزائل فضا میں دس منٹ سے بھی کم وقت گزارتے ہیں۔

ان کے مطابق جبکہ کروز میزائل طیاروں کی طرح پرواز کرتے ہیں اور ان کی رفتار عموماً میک ون (Mach 1) سے کم ہوتی ہے، مگر وہ زمین کے نشیب و فراز کے مطابق راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہاڑی سلسلوں کی آڑ میں رہ سکتے ہیں اور ہدف کے قریب پہنچنے پر ہی نمایاں ہوتے ہیں۔

ساسچا کہتے ہیں کہ ڈرونز میں بھی یہی خصوصیت پائی جاتی ہے، لیکن وہ نسبتاً چھوٹے ہوتے ہیں اور اکثر ایسے مواد سے تیار کیے جاتے ہیں جن کی وجہ سے ریڈار کے لیے انھیں تلاش کرنا اور مسلسل ٹریک کرنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ اور اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض ڈرونز اتنی کم رفتار سے پرواز کرتے ہیں کہ ریڈار کا سافٹ ویئر انھیں غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔

ساسچا کا مزید کہنا ہے کہ ایران اور حوثیوں نے بڑی تعداد میں ڈرونز کے جھنڈ روانہ کرنے اور کم رفتار ڈرونز کو تیز رفتار کروز میزائلوں اور اس سے بھی زیادہ تیز بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ اس انداز میں ہم آہنگ کرنے کی مہارت حاصل کر لی ہے کہ یہ سب تقریباً ایک ہی وقت میں ہدف تک پہنچیں۔

حماد ولید کے مطابق اس حکمتِ عملی کو بعض ماہرین ’سیچوریشن‘ حملے قرار دیتے ہیں۔ ان کے بقول پہلے بڑی تعداد میں ڈرونز بھیج کر فضائی دفاعی نظام کو مصروف کیا جاتا ہے اور اس کے بعد کروز اور بیلسٹک میزائل داغے جاتے ہیں تاکہ دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ جائے اور حملے کے کامیاب ہونے کے امکانات میں اضافہ ہو۔

ان کے مطابق، یہ طریقہ روس کی یوکرین میں اور ایران کی بعض حملوں میں اختیار کی گئی حکمتِ عملی سے مشابہت رکھتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب دفاعی نظام بیک وقت بڑی تعداد میں مختلف نوعیت کے اہداف سے نمٹ رہا ہو تو بعض ہتھیاروں کے لیے دفاعی حصار عبور کرنے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

This Handout clip was provided by a third-party organization and may not adhere to Getty Images' editorial policy.) In this handout screen grab captured from a video provided by the Houthi group media center on September 7, it shows the targeting of the targeting of several vans by ballistic missiles launched by the Houthi group once they arrived at Al-Wadiah military camp, allegedly carrying military supplies from Saudi Arabia for loyal troops that are in ongoing fighting against the Houthis on September 7, 2026 in Hadramaut province, Yemen.
Getty Images

حوثیوں کے میزائل اور ڈرون کتنے جدید ہو چکے ہیں؟

کانفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ سے وابستہ سینئر تجزیہ کار فابیان ہنز کے مطابق گذشتہ چند برسوں کے دوران حوثیوں کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حوثیوں نے مختلف اقسام کے ڈرونز، زمین سے ہدف کو نشانہ بنانے والے کروز میزائلوں اور بیلسٹک میزائلوں کا ایک متنوع ذخیرہ تیار کیا ہے، جو مختلف فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور جنھیں یمن کے اندر مخالف افواج کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالککو نشانہ بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں حوثیوں کی جانب سے متعارف کرائی گئی ایک اہم نئی صلاحیت درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ایسے بیلسٹک میزائل ہیں جن میں ٹرمینل گائیڈنس (پرواز کے آخری مرحلے میں رہنمائی کا نظام) موجود ہے۔ اس کی مدد سے یہ میزائل اسی فاصلے تک مار کرنے والے ان بیلسٹک میزائلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ درستگی سے نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جنھیں حوثی ماضی میں استعمال کرتے رہے ہیں۔

فابیان کے مطابق حوثی اب خیبرشکن سلسلے کے جدید درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل بھی استعمال کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ میزائل پرواز کے آخری مرحلے میں اپنا راستہ بدلنے کے لیے بچاؤ کی چالیں (evasive manoeuvres) اختیار کر سکتے ہیں اور نسبتاً نچلی پرواز (depressed trajectory) کے راستے پر پرواز کر سکتے ہیں، جس سے انھیں روکنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔‘

تاہم وہ کہتے ہیں کہ ابھی واضح نہیں کہ سعودی عرب پر حملوں میں حوثیوں نے کون سی مخصوص صلاحیتیں یا نظام استعمال کیے ہیں۔

فابیان کا ماننا ہے کہ حوثیوں کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے تمام حملہ آور نظام ایرانی ڈیزائنوں پر مبنی ہیں، جبکہ ایران سے منسلک نیٹ ورکس اب بھی اس گروہ کو ہتھیار اور دیگر وسائل فراہم کرتے رہتے ہیں۔

تھامس جونو کے مطابق حوثیوں کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کی ترقی میں ایرانی معاونت کی بہت اہم حیثیت ہے۔ ان کے بقول اگر حوثیوں کو برسوں سے ایرانی مدد حاصل نہ ہوتی تو وہ سعودی فضائی دفاع میں دراندازی کرنے کی موجودہ صلاحیت حاصل نہیں کر سکتے تھے۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ وقت کے ساتھ حوثیوں نے مختلف ہتھیاروں کی تیاری، اسمبلنگ اور استعمال میں اپنی خودمختار صلاحیتیں بھی بڑھائی ہیں، اگرچہ وہ اب بھی میزائل اور ڈرون پروگرام کے کئی جدید اجزا کے لیے ایران پر انحصار کرتے ہیں۔

حماد ولید بھی تھامس سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ متعدد دفاعی ماہرین ماضی میں حوثیوں کے مختلف میزائل نظاموں اور ایرانی میزائلوں کے درمیان مماثلت کی نشاندہی کر چکے ہیں۔ جبکہ بعض حملوں کے بعد ملنے والے ملبے کے تجزیے میں بھی ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جو ایرانی اور حوثی نظاموں کے درمیان تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اگرچہ ایران اور حوثی اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔ ستمبر کے دوران ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ ’ایران یمن کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔‘ انھوں نے حوثیوں کو ’مکمل طور پر خودمختار فریق‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے فیصلے ’اپنے مفادات کی بنیاد پر خود کرتے ہیں۔‘

فابیان مزید کہتے ہیں کہ حوثی اپنی مقامی پیداوار کی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے بھی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، اور کچھ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اب مقامی سطح پر تحقیق و ترقی (Research and Development)کی سرگرمیاں بھی شروع کر چکے ہیں۔

حماد ولید کے مطابق حوثی نہ صرف پرانے یمنی فوجی نظاموں کو بہتر بنا رہے ہیں بلکہ محفوظ زیر زمین پناہ گاہوں اور موبائل ٹرانسپورٹر ایریکٹر لانچرز (TELs) سے میزائل داغنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، جس سے ان کے میزائل لانچ مراکز کا پتا لگانا اور انھیں نشانہ بنانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ میزائل صلاحیتوں کے لیے حوثی صرف بیرونی مدد پر انحصار نہیں کرتے بلکہ وہ یمن کی سابق فوج کے بعض میزائل نظاموں کو بھی اپ گریڈ کر رہے ہیں اور انھی بنیادوں پر نئے نظام تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حماد کے مطابق حوثیوں نے بلیک مارکیٹ اور دیگر غیر رسمی ذرائع سے بھی ڈرونز اور ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی حاصل کی ہے۔

سعودی دفاعی نظام کی کمزوریاں

ساسچا بروخمانکا ماننا ہے کہ کسی دفاعی نظام کو حقیقی معنوں میں ’کثیر سطحی‘ (لیئرز) تبھی کہا جا سکتا ہے جب اس کے مختلف سینسر اور ریڈار ایک دوسرے سے مربوط ہوں۔ مختلف عسکری اداروں اور فورسز کے ریڈاروں سے حاصل ہونے والی معلومات کو ایک فضائی دفاعی آپریشنز سینٹر، یا اس سے بھی بہتر، فضائیہ کے جامع فضائی نگرانی کے نظام میں یکجا کیا جانا چاہیے۔

تاہم ان کے مطابق اس کے لیے جدید سافٹ ویئر، کمپیوٹنگ صلاحیت، مختلف پلیٹ فارمز اور نظاموں کے درمیان مطابقت، اور مختلف عسکری اداروں کے درمیان قریبی تعاون درکار ہوتا ہے تاکہ اس انتہائی پیچیدہ تکنیکی مسئلے کو حل کیا جا سکے۔

ساسچا کا کہنا ہے کہ کثیر سطحی دفاعی نیٹ ورک بہترین حل ضرور ہے، لیکن اسے مؤثر انداز میں قائم کرناصرف سعودی عرب کے لیے ہی نہیں بلکہ ہر ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

حماد ولید کے مطابق، سعودی عرب کو صرف یمن سے آنے والے میزائل خطرات کا سامنا نہیں بلکہ ایران اور کسی حد تک عراق کی جانب سے بھی ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔ اس لیے سعودی دفاعی منصوبہ سازوں کو بیک وقت مختلف سمتوں سے آنے والے حملوں کے لیے تیار رہنا ہوتا ہے، جس سے دستیاب فضائی دفاعی وسائل کو مختلف محاذوں پر تقسیم کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

حماد کہتے ہیں کہفضائی دفاع کی کامیابی صرف ریڈار اور میزائل شکن نظاموں پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ فضائی دفاعی نظام کی ایک بنیادی حد یہ ہے کہ ہر آنے والے ہدف کو تباہ کرنے کے لیے انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ ان ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں وقت لگتا ہے۔ اور حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے بڑی تعداد میں انٹرسیپٹر استعمال کیے ہیں، جس کے باعث ذخائر کو بھرنا اور انھیں مسلسل دوبارہ پورا کرنا بھی ایک اہم چیلنج ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے جدید نظام اگرچہ مؤثر ہیں، تاہم ان کی تعداد محدود ہوتی ہے اور انھیں ہر مقام پر تعینات نہیں کیا جا سکتا، جس کے باعث عام طور پر انھیں حساس تنصیبات اور اہم انفراسٹرکچر کے دفاع کے لیے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔

حماد ولید کے مطابق سیچوریشن حملوں کا ایک مقصد دفاعی نظام کو زیادہ سے زیادہ انٹرسیپٹر استعمال کرنے پر مجبور کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ اگر حملہ آوروں کو معلوم ہو جائے کہ کسی مخصوص مقام پر نصب پیٹریاٹ بیٹری میں موجود انٹرسیپٹر میزائل بڑی تعداد میں استعمال ہو چکے ہیں اور اسے دوبارہ آپریشنل ہونے یا ری لوڈ ہونے میں چند گھنٹے درکار ہیں تو وہ اسی وقفے کو استعمال کرتے ہوئے اگلا حملہ کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ابتدائی ڈرون حملوں کے نتیجے میں دفاعی نظام اپنے وسائل استعمال کر چکا ہو تو بعد میں داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کے لیے دفاعی حصار عبور کرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ فضائی دفاعی نظام آنے والے اہداف کو روک بھی لے تو اس کی اپنی ایک حد ہوتی ہے کیونکہ انٹرسیپٹر میزائل اور دیگر وسائل استعمال ہوتے رہتے ہیں، جنھیں دوبارہ بھرنے اور تیار کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔

اور ہم نے ایران کے اسرائیل پر حملوں کے دوران اس کی مثال دیکھی ہے۔

حماد ولید کے مطابق دنیا کا کوئی بھی فضائی دفاعی نظام سو فیصد مؤثر نہیں ہوتا۔ ان کے بقول جدید ترین دفاعی نیٹ ورکس کو بھی یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ ہر ہدف کے خلاف کتنے انٹرسیپٹر استعمال کیے جائیں اور دستیاب وسائل کو کس طرح استعمال کیا جائے۔

اس حوالے سے تھامس جونو کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف ایک بنیادی ساختی مسئلے کا سامنا ہے۔ ان کے بقول یہ ایک غیر متناسب (asymmetric) تنازع ہے جس میں حوثیوں کو صرف کبھی کبھار کامیابی درکار ہوتی ہے، جبکہ سعودی عرب کو تقریباً ہر حملے کو روکنے کی کوشش کرنا پڑتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر سعودی دفاعی نظام زیادہ تر میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ بھی کر دے تو چند ہتھیاروں کا دفاعی حصار عبور کر جانا ہی حوثیوں کو اپنے بعض مقاصد حاصل کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔

houthi
Getty Images

حوثیوں کا خطرہ ٹل کیوں نہ سکا؟

حماد ولید کے مطابق، یمن کے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقے پہاڑی اور دشوار گزار ہیں، جس کی وجہ سے وہاں فضائی کارروائیاں پیچیدہ ہو جاتی ہیں۔ ان کے مطابق، ایسے علاقوں میں مؤثر کارروائی کے لیے اکثر زمینی انٹیلیجنس اور بعض صورتوں میں زمینی موجودگی بھی اہم ہوتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے گزشتہ برسوں کی مسلسل فضائی کارروائیوں کے باوجود حوثیوں کی بعض عسکری صلاحیتیں ختم نہیں ہوئیں بلکہ کئی معاملات میں مزید ترقی کرتی رہی ہیں۔

حماد ولید کے مطابق حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملے کوئی نئی پیش رفت نہیں بلکہ تقریباً ایک دہائی سے جاری ایک مہم کا حصہ ہیں۔ ان کے بقول ماضی میں ریاض، ابقیق اور سعودی عرب کی دیگر اہم تنصیبات بھی اس نوعیت کے حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار استعمال کرنے کا خاصا تجربہ حاصل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں کا جائزہ لیتے وقت یہ بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ گزشتہ عرصے میں سعودی عرب کو ایران سے منسلک ڈرون، کروز میزائل اور بیلسٹک میزائل خطرات کا بھی سامنا رہا ہے، جبکہ حوثیوں اور ایران کے درمیان عسکری روابط اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے بارے میں متعدد دعوے اور رپورٹس سامنے آ چکی ہیں۔

ان کے مطابق، ایک ریاست کو اپنے اہم مراکز، تنصیبات اور فضائی حدود کا مسلسل دفاع کرنا پڑتا ہے، جبکہ حوثیوں کے لیے وقفے وقفے سے چند حملے کرکے سعودی دفاعی نظام کو دباؤ میں رکھنا بھی ایک مؤثر حکمتِ عملی ہو سکتی ہے۔

تھامس جونو کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کے پاس حوثیوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے کوئی آسان حل موجود نہیں ہے۔ ان کے بقول طویل مدت میں سعودی عرب کو امریکی تعاون کے ساتھ یمن میں حوثی مخالف قوتوں کو نمایاں طور پر مضبوط کرنا ہوگا تاکہ حوثیوں پر مؤثر عسکری دباؤ ڈالا جا سکے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب تک حوثیوں کو ایک مضبوط عسکری توازن کا سامنا نہیں ہوتا، سعودی عرب نسبتاً کمزور پوزیشن میں رہے گا۔

ان کے مطابق قلیل مدت میں سعودی عرب اپنے فضائی دفاعی نظام، انٹرسیپٹر ذخائر اور ان کے مؤثر استعمال کو بہتر بنا سکتا ہے، لیکن صرف دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ غالباً حوثیوں کے خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US