امریکہ میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ سینیٹروں کے ایک گروپ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس کے ساتھ حالیہ ڈیزل معاہدہ واپس لیں، جس کے ناقدین کے مطابق اس سے ماسکو کو یوکرین کے خلاف جاری جنگ کے لیے مزید مالی وسائل حاصل ہو سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو روس کے ساتھ ڈیزل معاہدے پر بڑھتی ہوئی سیاسی مخالفت کا سامنا ہے، جبکہ ان کی انتظامیہ کو آئندہ چند روز میں یہ فیصلہ بھی کرنا ہے کہ آیا یوکرین جنگ کے باعث روس پر نئی توانائی پابندیاں نافذ کی جائیں یا نہیں۔
صدر ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ روس امریکی اور عالمی منڈیوں کے لیے تین لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ڈیزل فراہم کرے گا اور اس مقصد کے لیے روسی ڈیزل برآمدات پر عائد بعض پابندیاں نرم کی جائیں گی۔
تاہم اس فیصلے پر ریپبلکن اور ڈیموکریٹس دونوں جماعتوں کے قانون سازوں نے اعتراض اٹھایا ہے۔ 12 امریکی سینیٹرز، جن میں چھ ان کی اپنی جماعت سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن بھی شامل ہیں، نے صدر ٹرمپ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ روس کے ساتھ یہ معاہدہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے روس کو عالمی منڈی میں ڈیزل فروخت کر کے اضافی آمدن حاصل ہوگی، جو بالآخر یوکرین کے خلاف جنگی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔
سینیٹرز نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ ’امریکہ کے سکیورٹی مفادات کو نقصان پہنچاتا ہے‘ اور یوکرین کے لیے امریکی حمایت کے مؤقف سے متصادم ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام ’امریکہ کے مخالف کے لیے ایک تحفہ اور اتحادیوں سے بے وفائی‘ کے مترادف ہے۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ کو 18 اکتوبر تک یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا روسی توانائی کے شعبے پر نئی پابندیاں اور محصولات نافذ کیے جائیں یا قومی مفاد کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے استثنیٰ دیا جائے۔
ٹرمپ نے کیا اعلان کیا؟
ابتدائی طور پر تین لاکھ ٹن ڈیزل کی فراہمی کے علاوہ، ٹرمپ نے کہا کہ روس نومبر میں پانچ لاکھ ٹن اور اس کے بعد مزید 10 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرے گا۔
اس کے بعد مزید 30 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا، جو ’مختصر مدت‘ میں پہنچایا جائے گا۔ تاہم یہ روسی ریفائنریوں کی حالت پر منحصر ہو گا جنھیں دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ کے دوران یوکرین نے نشانہ بنایا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا: ’امریکیوں، خاص طور پر ہمارے عظیم کسانوں، مویشی پالنے والوں اور ٹرک ڈرائیوروں کے لیے کم قیمتیں میری سب سے بڑی ترجیح ہیں۔‘
روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے سرکاری خبر رساں ادارے تاس سے گفتگو میں ان اعداد و شمار کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں برآمدات کا حجم ماہانہ 30 لاکھ ٹن تک پہنچ سکتا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس معاہدے کو پوتن کے لیے ایک تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’ایسی جنگ میں سرمایہ کاری کے مترادف ہے جسے ختم ہونا چاہیے۔‘
اطلاعات کے مطابق اس معاہدے کے تحت امریکی محکمہ خزانہ سات اپریل تک روسی ڈیزل کی برآمدات پر عائد پابندیاں معطل کر رہا ہے، تاہم امریکی بینکوں میں موجود اثاثوں سمیت دیگر اثاثے بدستور منجمد رہیں گے۔
منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا کسی نے انھیں بتایا ہے کہ اس معاہدے سے حاصل ہونے والی آمدن روس مزید ہتھیار یا بم خریدنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے؟ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا، 'نہیں، کسی نے مجھے ایسا کچھ نہیں بتایا۔'
ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ عالمی منڈی کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔
ٹرمپ روس سے ڈیزل کیوں حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
مگر ہر کوئی اس معاہدے کا مخالف نہیں۔ ریپبلکن تھامس میسی، جنھوں نے ٹرمپ کے ساتھ کئی معاملات پر اختلاف کیا ہے، نے کہا کہ امریکہ کو ’تمام پیٹرولیئم مصنوعات پر سے پابندیاں ہٹانی چاہیے۔‘
ٹرمپ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ یہ معاہدہ موجودہ قانونی چینلز کے ذریعے کام کرے گا جس کا مقصد قیمتوں کو کم کرنا ہے اور یہ کہ اگر کانگریس میں کوئی اس سے اتفاق نہیں کرتا تو یہ غلط ہے۔
فروری کے اواخر میں ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس لڑائی نے خام تیل کی سپلائی میں شدید خلل ڈالا ہے جس سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں دنیا بھر میں بڑھی ہیں۔
اگلے ماہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل بڑھتی ہوئی قیمتیں امریکیوں کے لیے ایک اہم مسئلہ بن گئی ہیں۔ یہ قیمتیں اس بات کا تعین کریں گی کہ آیا ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکتی ہے یا نہیں۔
رائے شماری کے اندازوں سے پتا چلتا ہے کہ امریکیوں کی اکثریت معیشت اور ایران جنگ سے نمٹنے کی حکمت عملی کو پسند نہیں کرتی۔
جنگ کے اثرات امریکی زرعی ریاستوں میں شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں زرعی مشینری چلانے اور مصنوعات کو منڈی تک پہنچانے کے لیے ڈیزل پر بہت زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔
امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن (اے اے اے) کے مطابق امریکہ میں اس وقت ڈیزل کی اوسط قیمت 6.28 ڈالر (4.74 پاؤنڈ) فی گیلن ہے، جو ستمبر کے آخر میں ریکارڈ 6.53 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی تھی۔
تجزیہ کاروں نے اس بات پر سوال اٹھایا ہے کہ آیا روس اس مقدار میں ڈیزل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ بھی کہ ایسا کرنے سے امریکی صارفین کے لیے قیمتوں میں کس حد تک کمی آئے گی۔
امریکہ روزانہ تقریباً 36 لاکھ بیرل ڈیزل استعمال کرتا ہے، لہٰذا اگر روس اس ماہ اپنے وعدے کے مطابق تین لاکھ ٹن ڈیزل بھی فراہم کر دے تو یہ مقدار بھی امریکہ کی یومیہ کھپت کے تقریباً نصف کے برابر بنتی ہے۔
روس کے ساتھ ڈیزل معاہدے کے حوالے سے ٹرمپ کو صرف ملکی سطح پر ہی مخالفت کا سامنا نہیں ہے۔ متعدد عالمی رہنماؤں نے بھی اس پر تنقید کی ہے، جن میں کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی اور برطانیہ کے سیکریٹری دفاع ویس سٹریٹنگ شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یوکرین کے دیگر اتحادیوں کو جنگ کے خاتمے کے لیے روس پر دباؤ بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔