خیبرپخوتخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ: قومی اسمبلی اجلاس میں عمران خان کی ’ٹوتھ پیسٹ‘ کا تذکرہ اور مذاکرات کی مبینہ اندرونی کہانی

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر قومی اسمبلی میں بحث کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے حکومتی فیصلے کا دفاع کیا، جبکہ بیرسٹر گوہر نے حکومت سے مذاکرات کی تفصیلات بیان کیں۔ اس دوران عمران خان کی ’ٹوتھ پیسٹ‘ اور ’چیا سیڈز‘ کا ذکر بھی ہوا۔
BBC
BBC

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قومی اسمبلی میں آمد سے قبل کارروائی روایتی تھی، حکومت اور حزب اختلاف کی تقاریر اور جملے بازی۔ حکومت صوبہ خیبرپختونخواہ میں لگائے جانے والی ایمرجنسی کے فیصلے کا دفاع اور حزب اختلاف ان کی تقاریر کا جواب دے رہے تھے۔

بلاول بھٹو زرداری اس وقت ایوان میں داخل ہوئے جب قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اپنی تقریر میں یہ سوال حکومتی نشستوں پر بیٹھے نمائندوں سے کر چُکے تھے کہ ایک جمہوری حکومت میں وفاق کی جانب سے ایک صوبے کی حکومت کے خلاف ایمرجنسی اور گورنر راج جیسا انتہائی قدم کیوں اٹھایا گیا؟

وہ ایمرجنسی لگانے اور گورنر راج نافذ کرنے کے اس حکومتی مؤقف کا بھی گھیراؤ کر چکے تھے کہ ’خیبرپختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت دانستہ طور پر دہشت گردی کے خلاف اقدامات نہیں کر رہی تھی۔‘

جب بلاول اپنی تقریر کے لیے کھڑے ہوئے تو ایوان میں موجود وزیراعظم شہباز شریف بھی متوجہ ہوئے۔ وہ شاید سننا چاہ رہے تھے کہ بلاول بھٹو کیا دفاع پیش کرتے ہیں۔

خیبرپختونخواہ میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے پر دستخط پاکستان کے صدر کی حیثیت سے ان کے والد کے ہیں۔ تو حزب اختلاف کے اراکین یہ دیکھنا چاہ رہے تھے کہ بلاول اپنی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے اس کردار کا دفاع کیسے کریں گے۔

بلاول نے ابتدا اس بات سے کی کہ وہ ’اس اقدام کا دفاع کرنے میں زیادہ خوشی محسوس نہیں کر رہے۔‘ پھر انھوں نے پرجوش انداز میں اپنی تقریر میں اس کا دفاع بھی کیا۔ بلاول نے حزب اختلاف کی نشستوں پر بیٹھے رہنماؤں کو مخاطب کیا۔

Getty Images
Getty Images

بلاول نے کہا ’صدر آصف زرداری نے اس پر دستخط کیے۔۔۔ آپ اس پر تنقید ضرور کریں۔۔۔ لیکن آپ نے صدر آصف زرداری کو اور پاکستان پیپلز پارٹی کو کوئی ایسی وجہ ہی نہیں دی کہ وہ کہتے کہ میں دستخط نہیں کرتا۔‘

بلاول نے کہا کہ ’آپ کے وزیراعلیٰ نے سٹیج پر کھڑے ہو کر دہشت گردی کے خلاف وفاق کا ساتھ نہ دینے کا حلف لیا۔‘

چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے اس کے بعد پی ٹی آئی کے ساتھ حکومت کے ان مذاکرات کا رخ کیا جن کے اندر کی کہانی باضابطہ طور پر پی ٹی آئی کی جانب سے اس وقت تک سامنے نہیں آئی تھی۔

تاہم ان کے بارے میں مقامی ذرائع ابلاغ سے یہ تاثر ضرور سامنے آتا رہا کہ مذاکرات ’کامیابی کے قریب تھے اور پھر پی ٹی آئی کے رویے کی وجہ سے سبوتاژ ہوئے۔‘ بلاول نے بھی انہی باتوں کو دہرایا اور کہا کہ پی ٹی آئی نے موقع گنوا دیا۔

بلاول کی گفتگو کے جواب میں حزب اختلاف کی طرف سے مذاکرات کے اندر کی کچھ کہانی بیرسٹر گوہر علی خان کی زبانی سامنے آئی۔ اس کہانی میں ذکر عمران خان کو نہ ملنے والی ’ٹوتھ پسٹ‘ اور جواب میں ان کو ملنے والے ’چیا سیڈز‘ کا بھی آیا۔

’یہ دہشت گردی اچانک کہاں سے آ گئی درمیان میں‘

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی تقریر ختم ہونے پر سپیکر نے بیرسٹر گوہر کو اس کا جواب دینے کا موقع دیا۔

بیرسٹر گوہر نے 11 اکتوبر کو جمہوریت کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن قرار دیا۔ انھوں نے اسے آرٹیکل 58 ٹو بی کو دوبارہ زندہ کرنے سے تشبیہہ دی۔ انھوں نے کہا کہ عملاً ایک منتخب حکومت کو گھر بھیجا گیا۔ وہ 11 اکتوبر کو ہونے والے ہر نوٹیفکیشن کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’جن 12 ضلعوں میں آپ نے ایمرجنسی لگائی ہے ان ضلعوں کے عوام ہماری گواہی دیں گے کہ ہم ان کے ساتھ تھے اور دہشت گردوں کے پیچھے کوئی اور چھپ رہا تھا۔‘

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کی جماعت ہمیشہ سے دہشت گردی کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ وہ ایوان میں دہراتے ہیں کہ دہشت گرد ناسور ہیں، ان کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی کرو۔ ’ہم نے یہ کہا کہ گڈ اور بیڈ طالبان مت کرو۔‘

انھوں نے کہا کہ میٹنگ میں اپنی بات کرتے ہوئے انھوں نے حکومتی طرف کے اراکین کو مخاطب کر کے یہ کہا تھا کہ ’یہ دہشت گردی کی بات اچانک کہاں سے آ گئی درمیان میں، ہم تو لانگ مارچ کے حوالے سے بات چیت کرنے کے لیے آپ کے ساتھ بیٹھے تھے۔‘

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کا اس حوالے سے موقف واضح ہے کہ اگر اس معاملے پر بات کرنی ہے تو ایپکس کمیٹی میں کریں، صوبائی کمیٹی کو بلا لیں، وہ پہلے بھی آپ کے بلانے پر آتے رہے ہیں۔

’آپ نے کب ان کو کہا ہے۔ دو اکتوبر 2026 سے پہلے ایک جگہ بتاو کہ آپ نے یہ ذکر کیا ہو کہ دہشت گردی ہے۔‘

Getty Images
Getty Images

’ہم سے کہا گیا پولیس لا میں تبدیلیاں واپس لو‘

پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر نے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ مذاکرات کے دوران حکومت کی طرف سے ان سے کہا گیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ان کے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔

’ہم سے کہا گیا پولیس لا کے اندر آپ نے تبدیلیاں کر لی ہیں یہ تبدیلیاں واپس کر دیں۔ ساتھ ہمیں یہ کہا گیا کہ افغان مہاجرین کے کیمپوں میں آپ ان کی حمایت کرتے ہیں آپ ان کو جانے نہیں دیتے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ان سے کہا گیا کہ پانچ حساس اضلاع ہیں ان کے لیے آپ فنڈز جاری نہیں کرتے اور آخر میں یہ کہا گیا جب ہم آپ سے بات چیت کرتے ہیں تو رابطے میں بہت سی رکاوٹیں ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انھوں نے جا کر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے پوچھا اور ان سے کمٹمنٹ لی۔ اس پر انھوں نے حکومت کو جواب دیا۔

’ہم نے کہا ہم کے پی کے میں وہ پولیس ایکٹ بنا دیں گے جو باقی تینوں صوبوں میں ہے، یہ معاملہ ختم ہوا۔ ہم نے کہا جا کر چیک کر لیں جتنے افغان مہاجرین کے کیمپ ہیں صوبے میں وہ سارے خالی پڑے ہیں سارے مہاجرین جا چکے ہیں۔‘

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’ہم نے بتایا کہ کے پی حکومت نے پانچ حساس اضلاع کے لیے 21 ارب روپے مختص کیے اور اس میں سے نو ارب جاری بھی کر دیے۔ وفاقی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ دس ارب ہم دیں گے، ہم نے کہا آپ نے آج تک ایک روپیہ نہیں دیا۔‘

بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے کے پی حکومت بجٹ کا نو فیصد خرچ کر رہی ہے جو ان کے مطابق باقی تینوں صوبوں کے مقابلے سب سے زیادہ ہے۔

عمران خان کی ’ٹوتھ پیسٹ‘ اور ’چیا سیڈز‘ کا تذکرہ

Getty Images
Getty Images

مذاکراتی میٹنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ وہ میٹنگ کے اندر کی باتیں کچھ کریں گے کیونکہ اس کا ذکر کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم آپ سے (سابق وزیراعظم عمران) خان کے لیے جو چیزیں مانگ رہے تھے۔۔۔ یہاں تک کہ ان کے پاس ٹوتھ پیسٹ جانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ یہ تو انسانیت بھی نہیں مانتا کہ ایسے ایک بندے کو ٹوتھ پیسٹ کی اجازت کیوں نہیں ہے۔‘

’جناب سپیکر آپ میرے گواہ ہیں کہ میں نے آپ کے پاس آ کر نہیں کہا کہ خان کے کپڑے پہنچانے ہیں۔‘ پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ریڈ لائن کراس ہوئی، یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔ کون تھے جنھوں نے کہا کہ اٹھو بھائی اٹھو بس۔ ٹائم پورا ہو گیا۔‘

سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بیرسٹر گوہر علی کی گفتگو ختم ہونے پر اپنی طرف کا موقف بھی ایوان کے سامنے پیش کیا۔

ایاز صادق نے بیرسٹر گوہر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جب آپ لوگ مشورے کے لیے اندر گئے تو انھیں لگا کہ حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں اور ابھی دستخط ہوں گے۔‘

’لیکن جب وہ لوگ اندر سے آئے تو سب سے پہلے علامہ ناصر عباس صاحب نے کہا کہ انھیں افسوس ہے کہ آج ہم نہیں کر سکے اور وہ افسردہ ہو کے وہاں سے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد آپ لوگ سب وہاں سے چلے گئے۔‘

’ہم نے یہی کہا تھا کہ اس بات چیت کے رستے کو بند مت کریں۔۔۔ لیکن آپ لوگوں کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، یہ آپ بھی سمجھتے ہیں۔۔۔ آپ مینڈیٹ لے کر آئے تھے خود فیصلے کریں گے لیکن جب آپ نے مشورہ کیا اور جو ساتھ بیٹھے تھے ان کے ساتھ بھی بات کی تو جو نتیجہ آیا وہ سب کے سامنے ہے۔‘

سپیکر ایاز صادق نے بیرسٹر گوہر کو مخاطب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے وہ ان کے پاس شکایت لائے کہ ٹوتھ پیسٹ ان تک نہیں جاتی اور گٹر ان کے سیل کے اندر کھول دیا گیا ہے۔

’میں نے تو چیا سیڈز اور پھر ناشتے، ملک شیک اور پھر دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے اور کون کون ان سے مل رہا ہے وہ لسٹیں آپ کے سامنے رکھ دی تھیں۔‘

Getty Images
Getty Images

’کیا مطلب دہشتگردی کا معاملہ کہاں سے آیا‘

بلاول بھٹو کو سپیکر نے دوبارہ بیرسٹر گوہر کی گفتگو کا جواب دینے کا موقع دیا۔ انھوں نے جذباتی انداز میں حزب اختلاف کو مخاطب کیا اور کہا یہ لوگ سوال کرتے ہیں کہ دہشت گردی کہاں سے آ گئی۔

’کیا مطلب کہاں سے آئی۔ آپ لوگ لانگ مارچ کر رہے تھے تو پیچھے دہشت گردی کے واقعات نہیں ہو رہے تھے۔ آپ کے لانگ مارچ کے دوران ڈی آئی خان میں دہشت گردی کا واقعہ نہیں ہوا؟‘

بلاول نے جذباتی انداز جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’دہشت گردی پر بات نہ ہوتی تو کیا ٹوتھ پیسٹ پر بات ہوتی۔۔۔ ٹوتھ پیسٹ۔۔۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ خان صاحب کو ٹوتھ پیسٹ اور تمام سہولیات ملیں جناب سپیکر۔‘

بلاول نے کہا کہ ’میرے والد کی جیل میں زبان کاٹی گئی میں نہیں چاہوں گا کہ ایسے حالات خان صاحب کے ساتھ بھی ہوں۔‘

بلاول کی تقریر کے فوری بعد وزیراعظم شہباز شریف اٹھ کر ایوان سے چلے گئے تاہم جانے سے پہلے انھوں نے بلاول سے ہاتھ ملایا اور ان کے ہاتھ پر تھپکی دی۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US