پشاور کے علاقے دیر کالونی میں واقع نجی سکول کی چھت گرنے کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 29 ہو گئی ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے 28 بچوں میں چھ لڑکیاں بھی شامل ہیں جبکہ تمام بچوں کی عمریں 13 سال سے کم ہیں۔ ریسکیو آپریشن ختم ہونے کے بعد پولیس نے بتایا کہ سکول پرنسپل زیرِ حراست ہیں۔
- پشاور میں سکول کی چھت گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 29 ہو گئی، مرنے والوں میں ایک خاتون ٹیچر بھی شامل: ریسکیو حکام
- یہ سکول شہر کی تنگ گلیوں میں واقع ہے جہاں ریسکیو آپریشن میں دشواری پیش آئی۔ جب ریسکیو اہلکار پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ ’عمارت کی ایک چھت دوسری چھت پر گری ہوئی تھی‘
- پشاور پولیس کے مطابق سکول پرنسپل زیر حراست ہے، جبکہ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ملبے تلے سے تمام لاشوں اور زخمیوں کو نکال لیا گیا ہے
- ایک عینی شاہد سہیل نے بی بی سی کو بتایا ’میری بہن نے ساڑھے نو بجے مجھے بلایا کہ بھائی جلدی آ جاؤ۔ سکول کے چھوٹے چھوٹے بچے چھت کے نیچے آ گئے تھے۔ میں نے اور علاقے کے لوگوں نے جلدی سے بیلچے سے انھیں نکالنے کی کوشش کی‘
- پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سکول کی چھت گرنے سے بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ گورنر نے متعلقہ حکام سے سکول کی چھت گرنے کے واقعے کی تفصیلی رپورٹ کر لی ہے۔
پشاور میں سکول کی چھت گِرنے سے 28 بچے، ایک ٹیچر ہلاک: ’کئی بچے زندہ تھے جب انھیں ملبے سے نکالا، بہت خون بہہ رہا تھا‘