ٹی ٹی پی سے منسلک اور افغان میڈیا کے پروپیگنڈا اکاؤنٹس خیبر پختونخوا کے موجودہ حالات ظاہر کرنے کے لیے پرانی ویڈیوز دوبارہ پھیلا رہے ہیں۔ اس گمراہ کن مواد کا مقصد عوام میں خوف اور بے چینی پیدا کرنا ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ نئی انتظامیہ نے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں میں نئے عزم کا مظاہرہ کیا ہے، جس سے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں افغان میڈیا پرانے واقعات کی ویڈیوز کو دوبارہ پھیلا کر پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستانی فوجیوں کے بڑی تعداد میں ہتھیار ڈالنے کے دعوے بے بنیاد ہیں۔ پرانی ویڈیوز کو سنسنی خیز سرخیوں کے ساتھ دوبارہ پھیلانے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایسے واقعات حالیہ دنوں میں پیش آئے ہیں۔
نئی انتظامیہ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کے بعد، ٹی ٹی پی سے منسلک، پی ٹی آئی اور افغان اکاؤنٹس پرانی ویڈیوز پھیلانے پر انحصار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان گروہوں کے پاس اب جعلی یا پرانی ویڈیوز کے ذریعے من گھڑت بیانیے بنانے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کے سوا کیا رہ گیا ہے؟