نوجوانوں میں باڈی بلڈنگ کا رجحان اور غذا کا انتخاب: ’صرف پروٹین شیک پینے سے آپ کے بازو نہیں بن جائیں گے‘

شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد سے وابستہ ماہر غذائیت زینب غیور نے بی بی سی اردو کی آسیہ انصر کو بتایا کہ ’پاکستان میں بھی کم عمر نوجوانوں میں پروٹین پاؤڈر لینے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور 14 سے 15 سال کی عمر کے نوجوان مسلز بنانے کے لیے شارٹ کٹس کی جانب جاتے ہیں۔‘
Gym
Getty Images
پاکستان میں بھی کم عمر نوجوانوں میں پروٹین پاؤڈر لینے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے

12 سالہ بین پروٹین پاؤڈر کو استعمال کرنے کے لیے بیتاب ہیں لیکن ان کی اس خواہش کو پورا کرنے میں ایک مسئلہ حائل ہے اور وہ یہ کہ ان کی والدہ انھیں اس کی اجازت نہیں دے رہیں۔

بین کہتے ہیں کہ ’میں تقریباً 20 بار پوچھ چکا ہوں اور وہ ہر بار انکار کر دیتی ہیں۔‘

بین کے کئی دوست پروٹین پاؤڈر کا استعمال کرتے ہیں اور اب خود بین کا خیال ہے کہ پروٹین پاؤڈر انھیں ’زیادہ فِٹ اور طاقتور‘ بنا دے گا۔

حالیہ برسوں میں ’ہائی پروٹین‘ کے نام سے فروخت ہونے والی مصنوعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان میں دودھ، دہی، بریڈ، سیریلز، سنیک بارز اور پروٹین پاؤڈر شامل ہیں۔

سوشل میڈیا بھی مختلف غذائی سپلیمنٹس، خصوصاً پروٹین پاؤڈر، کے اشتہارات سے بھرا پڑا ہے۔

صحت کے موضوعات پر رپورٹنگ کرنے والی صحافی ہونے کے ناطے مجھے اس بارے میں شکوک و شبہات ہیں اور میرا خیال ہے کہ بین کی عمر میں اسے اپنی روزمرہ خوراک سے ہی کافی پروٹین مل جانی چاہیے۔

تو کیا ماہرین کے نزدیک کم عمر بچوں اور نوجوانوں کے لیے پروٹین پاؤڈر استعمال کرنا محفوظ ہے، یا پھر ایک اچھا سٹیک بھی اتنا ہی مفید ثابت ہو سکتا ہے؟

بی بی سی کے صحافی نیٹ ورٹ کے لکھے اس مضمون میں ہم نے پاکستان میں ٹین ایجرز میں پروٹین پاؤڈر کے بڑھتے رجحان اور اثرات کا بھی جائزہ لیا ہے۔

The image shows a peri peri chicken dinner, a porridge pot, 2 tall yoghurt pouches, 1 smaller yoghurt pot and a pack of flat breads - all labelled clearly with the word protein clearly displayed.
BBC
حالیہ برسوں میں 'ہائی پروٹین' کے نام سے فروخت ہونے والی مصنوعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے

’میرا بیٹا کھیلوں کا شوقین ہے اور اسی لیے پہلے ہی سے نہ صرف متوازن اور صحت بخش غذا کھاتا ہے بلکہ اب گاہے بگاہے مجھ سے پروٹین پاؤڈر کے بارے میں پوچھتا رہتا ہے۔‘

بین کا ایک 12 سالہ دوست لوئس تقریباً ایک سال سے ہفتے میں ایک یا دو بار ورزش کے بعد اپنی معمول کی خوراک کے ساتھ پروٹین پاؤڈر بھی استعمال کر ر ہا ہے اور ان کے والدین کو بھی اس بات کا علم ہے۔

لوئس کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں اس سے فائدہ ہوا ہے۔ اس سے مجھے زیادہ توانائی ملتی ہے اور شاید اس نے میری صحت کو بھی بہتر کرنے میں مدد کی ہے۔‘

تاہم بین کے ایک دوسرے دوست اوٹس اس بات سے متفق نہیں۔ 13 سالہ اوٹس کا کہنا ہے کہ نوجوانوں پر پروٹین سپلیمنٹس استعمال کرنے کا دباؤ پایا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہو سکتا ہے لوگ اس کے نتائج یا ممکنہ اثرات کے بارے میں سوچے بغیر ہی اسے استعمال کرنا شروع کر دیں۔‘

پاکستان میں نوجوانوں میں پروٹین سپلیمنٹ کا استعمال

پاکستان میں 18 سال سے کم عمر نوجوانوں میں پروٹین پاؤڈر لینے کا رجحان کیسا ہے اور اس عمر میں باڈی اور مسلز بنانے کے شوقین نوجوان پروٹین پاؤڈر کے بجائے کون سے غذائیں استعمال کر کے اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں؟

شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد سے وابستہ ماہر غذائیت زینب غیور نے بی بی سی اردو کی آسیہ انصر کو بتایا کہ ’پاکستان میں بھی کم عمر نوجوانوں میں پروٹین پاؤڈر لینے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور 14 سے 15 سال کی عمر کے نوجوان مسلز بنانے کے لیے شارٹ کٹس کی جانب جاتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’نوجوان بچے جم میں اکثر ایسے لوگوں سے مشورہ لے لیتے ہیں، جو تربیت یافتہ یا کولیفائیڈ نہیں ہوتے اور وہ نوجوانوں کو کو مختلف پروٹین سپلیمنٹ تجویز کردیتے ہیں جس میں کچھ ہی عرصے میں ان کے صحت کے مسائل شروع ہو جاتے ہیں۔ اور بعض اوقات ایسے مسئلے ہو جاتے ہیں جس سے انھیں انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑ ہو سکتا ہے۔‘

زینب غیور کے مطابق ’کم عمری میں جسم کی نشوونما ہوتی ہے اس میں قدرتی پروٹین کا استعمال ہی بہترین ہوتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’پروٹین سپیلمنٹس کو کبھی ڈاکٹر کے تحریری نسخے کے بغیر نہ لیا جائے۔ ایک تو پروٹین پاؤڈر عموماً 18 سال سے کم عمر لوگوں کے لیے نہیں ہوتا لیکن اگر ڈاکٹر کبھی کسی کو تجویز کیا جانا ضروری سمجھیں تو اس کو جسمانی صحت کو مد نظر رکھ کر ہی تجویز کیا جاتا ہے۔‘

’چکن، فش، بکرے کا گوشت، انڈے اور یہاں تک کے بیف یہ سب بہت اچھے پروٹین ہیں، جن سے بہت اچھے مسلز بنتے ہیں۔ اس کو اگر مختلف قسم کے فائبر والی کھانوں مثلاً سبزیوں کے ساتھ مکس کر کے کھائیں تو اس کے نہ ہی مضر اثرات ہوتے ہیں بلکہ بہت اچھے پروٹین کے حصول کے باعث ان غذاؤں کے استعمال سے بہترین مسلز بن سکتے ہیں۔‘

The photo shows a tin of tuna, a plate of cooked chicken, a bowl of pumpkin seeds, a tub of greek yoghurt, a carton of eggs and a can of chickpeas laid out on a black kitchen work surface. You can see a wooden floor in the background.
BBC
پروٹین صرف سپلیمنٹس تک محدود نہیں بلکہ گوشت، مچھلی، انڈے، دودھ سے بنی اشیا، بریڈ، اناج اور دالوں میں یہ قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے

’ہمیں پروٹین کی ضرورت کیوں ہوتی ہے‘

پروٹین جسم میں ٹوٹ کر امینو ایسڈز میں تبدیل ہوتا ہے، جو جسم کی نشوونما اور(ٹشوز) بافتوں کی مرمت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

تاہم جسم اپنی ضرورت کے تمام امینو ایسڈز خود نہیں بنا سکتا، اس لیے بعض امینو ایسڈز خوراک کے ذریعے حاصل کرنا ضروری ہوتے ہیں اور انھیں لازمی امینو ایسڈز کہا جاتا ہے۔

برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے مطابق صحت مند وزن کے حامل ایک بالغ فرد کے لیے روزانہ پروٹین کی تجویز کردہ مقدار جسمانی وزن کے ہر کلوگرام کے لیے 0.75 گرام ہے۔

ایک سادہ اصول یہ ہے کہ ہر کھانے میں پروٹین کی مقدار تقریباً آپ کی ہتھیلی کے برابر ہونی چاہیے۔

اگر آپ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں، یا عمر بڑھنے کے ساتھ، آپ کو زیادہ پروٹین کی ضرورت پڑ سکتی ہے، اور یہ مقدار جسمانی وزن کے ہر کلوگرام کے لیے دو گرام تک پہنچ سکتی ہے۔

لیکن اگر نوجوان متوازن اور مناسب خوراک لے رہے ہوں تو کیا انھیں واقعی اضافی پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے؟

Pakistan
Getty Images
ایک سادہ اصول یہ ہے کہ ہر کھانے میں پروٹین کی مقدار تقریباً آپ کی ہتھیلی کے برابر ہونی چاہیے

ماہرِ غذائیت نکولا لڈلم رین کے مطابق ’نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنی ضرورت کی تمام پروٹین عام خوراک سے حاصل کر سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ خاص طور پر نوعمر لڑکیوں کے لیے آئرن اور کیلشیم کی مناسب مقدار حاصل کرنا ضروری ہے، اس لیے پروٹین پر ضرورت سے زیادہ توجہ دیتے ہوئے دیگر غذائی اجزا کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

لڈلم رین کے مطابق پروٹین شیکس، پاؤڈر یا بارز بعض افراد کے لیے مفید ہو سکتے ہیں، جن میں پیشہ ور کھلاڑی اور بعض غذاؤں سے الرجی رکھنے والے لوگ شامل ہیں تاہم یہ صحت مند اور متوازن خوراک کا متبادل نہیں ہیں۔

پروٹین پاؤڈر کے استعمال سے بعض مضر اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں جن میں پیٹ پھولنا، گیس، پیٹ میں مروڑ اور اسہال شامل ہیں۔

جن افراد کو پہلے سے کوئی طبی مسئلہ لاحق ہو انھیں ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر پروٹین پاؤڈر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

لڈلم رین کا کہنا ہے کہ پروٹین پاؤڈر کی مارکیٹ پر ادویات کی طرح سخت نگرانی نہیں ہوتی۔

انھوں نے کہا کہ ’یقیناً کچھ معتبر کمپنیاں تیسرے فریق سے اپنے مصنوعات کی جانچ کراتی ہیں اور یہ یقینی بناتی ہیں کہ پیکٹ پر جو کچھ درج ہے، وہی اس کے اندر موجود ہو، لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔‘

ان کے مطابق ’صرف پروٹین شیک پینے سے آپ کے بازوؤں کے پٹھے خود بخود نہیں بن جائیں گے۔‘

بعض پروٹین پاؤڈرز میں اضافی چینی، مصنوعی اجزا اور ایسی دیگر اشیا بھی شامل ہو سکتی ہیں جن کا واضح طور پر ذکر نہ کیا گیا ہو۔

’ہر کھانے میں 20 سے 25 گرام پروٹین لینا صحت کے لیے بہترین‘

ڈاکٹر رمنک ماتھر مغربی لندن سے تعلق رکھنے والے بچوں کے امراض کے ماہر (کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن) ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جسم کو زنک، کیلشیم اور میگنیشیم جیسے خرد غذائی اجزا (مائیکرونیوٹرینٹس) کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو روز مرہ کی غذاؤں میں پائے جاتے ہیں۔

اس لیے اگر کھانوں کی جگہ پروٹین شیکس استعمال کیے جائیں تو جسم ان غذائی اجزا سے محروم رہ سکتا ہے۔

ماہرین روزانہ درکار پروٹین کو پورے دن میں مختلف اوقات میں تقسیم کر کے استعمال کرنا تجویز کرتے ہیں جبکہ ان کے مطابق ہر کھانے میں تقریباً 20 سے 25 گرام پروٹین لینے کی کوشش صحت کے لیے بہتر ہے۔

اگر آپ اپنی پروٹین کی مقدار بڑھانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے مختلف غذائی تراکیب بھی آزما سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق آپ ناشتے میں دہی اور نٹس کے ساتھ اوٹس لے سکتے ہیں جبکہ کیلے کے قتلے اور سلائس پر پینٹ بٹر(مونگ پھلی کا مکھن) لگا کر کھانا بھی مفید کہا جاتا ہے۔

دوپہر کے کھانے میں انڈوں کا خاگینہ(سکریمبل) ڈبل روٹی کے سلائس کے ساتھ لھانا بھی ایک بہتر تجویز مانی جاتی ہے جبکہ ہمس یا فلافل کا ریپ بھی پروٹین کی مقدار کو پورا کرنے میں مدد دیتا ہے۔

اسی طرح رات کے کھانے میں مرغی کے گوشت کا سالن، دالیں اور سپگیٹی بھی پروٹین کی مقدار کو پورا کرنے میں مدد دیتی ہے۔

ذیادہ پروٹین خارج کرنے میں گردوں اور جگر پر اضافی دباؤ

ماہرین غذائیت کے مطابق بلوغت کے دوران، جب بچوں کی جسمانی نشوونما تیزی سے ہوتی ہے، انھیں نسبتاً زیادہ پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ان کا جسم نئی ہڈیوں اور پٹھوں کو بنانے کے عمل میں مصروف ہوتا ہے۔ تاہم ڈاکٹر رمنک ماتھر کا کہنا ہے کہ بہت زیادہ پروٹین کھانے کے بھی خطرات ہو سکتے ہیں۔

ان کے بقول کہ ’اگر آپ سوشل میڈیا دیکھیں تو وہاں کہا جاتا ہے کہ بہت زیادہ پروٹین کھانی چاہیں لیکن جسم ایک حد تک ہی پروٹین کو استعمال کر سکتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’ضرورت سے زیادہ پروٹین جسم سے خارج کرنے کا کام گردوں اور جگر کو کرنا پڑتا ہے، جس سے ان پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے اور اس کے صحت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘

ڈاکٹر ماتھر کے مطابق اس بحث کا اہم نکتہ یہ ہے کہ ’اگر 12 سال کا بچہ صحت مند اور متوازن غذا کھا رہا ہے تو اسے اضافی پروٹین کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔‘

نکولا لڈلم رین کا مشورہ ہے کہ نوجوانوں کو باقاعدگی سے پروٹین پاؤڈر استعمال کرنے سے پہلے اپنی خوراک بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔

اگر اس کے بعد بھی وہ پروٹین پاؤڈر استعمال کرنا چاہیں تو پہلے کسی رجسٹرڈ ماہرِ غذائیت یا غذائی ماہر سے مشورہ کر لینا چاہیے۔

اور اب میں اپنے بیٹے کو جا کر یہی بتانے والی ہوں کہ جواب اب بھی انکار میں ہے اور ماہرین کی رائے بھی یہی ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US