’توقیر بھاگو، ہم تمھیں چھڑوانے آئے ہیں‘: وسیم عباس کے قتل کے ملزم کا پولیس حراست سے فرار اور تین گھنٹے بعد فائرنگ میں ہلاکت کا دعویٰ

پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کا دعویٰ ہے کہ ملتان میں کم عمر لڑکے وسیم عباس کو گاڑی سے ٹکر مارنے والے ٹھیکیدار توقیر نذیر مقامی پولیس کی تحویل سے فرار ہونے کے بعد ’اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔‘ لیکن یہ واقعہ پولیس کے مطابق کیسے پیش آیا؟

انتباہ: اس رپورٹ میں موجود تفصیلات قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں۔

پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کا دعویٰ ہے کہ ملتان میں کم عمر لڑکے وسیم عباس کو گاڑی سے ٹکر مارنے والے ٹھیکیدار توقیر نذیر مقامی پولیس کی تحویل سے فرار ہونے کے بعد ’اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

اس کیس نے پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی۔ 19 اکتوبر کے واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 15 سالہ وسیم عباس ملتان کے علاقے رائل آرچرڈ کی ایک گلی میں بھاگ رہے ہیں اور ملزمان کار میں ان کا تعاقب کر رہے ہیں۔ ایک موقع پر توقیر نذیر اپنی کار سے وسیم عباس کو ٹکر مارتے ہیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ دیتے ہیں۔

واقعے کے ایک روز بعد یعنی 20 اکتوبر کو مقامی عدالت نے ملزم توقیر نذیر کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا۔ تاہم سی سی ڈی حکام نے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ اس مقدمے کی تفتیش کا معاملہ سی سی ڈی کو سونپ دیا گیا تھا، جیسا کہ بچوں اور عورتوں سے متعلق تمام کیسز میں ہوتا ہے۔

سی سی ڈی کے انسپکٹر انور مجید کا کہنا تھا کہ ملزم توقیر مقامی پولیس کی تحویل سے فرار ہو گیا تھا۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ بہاولپور کے ناردرن بائی پاس کے قریب موٹر سائیکلوں پر سوار ان کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں توقیر موقع پر ہی ہلاک ہوگیا جبکہ فائرنگ سے پولیس اہلکار محفوظ رہے۔

دریں اثنا ایس پی سی سی ڈی عرفان اکبر کے مطابق ملزم کے دوسرے ساتھی امجد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

’توقیر بھاگو، ہم تمھیں چھڑوانے آئے ہیں‘

تھانہ سی سی ڈی ملتان نے ملزم توقیر کے فرار سے متعلق مقدمہ رات گئے درج کیا جس کے مطابق وہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب اپنے ساتھیوں کی مدد سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔

پولیس کی مدعیت میں درج اس مقدمے کے متن کے مطابق ملزم توقیر سے تفتیش کا معاملہ سی سی ڈی کو منتقل ہوچکا تھا اور سی سی ڈی کی ٹیم انھیں ملتان میں اپنے پولیس سٹیشن لے جا رہی تھی۔

ایف آئی آر کے مطابق قریب 11 بج کر 40 منٹ پر ایم پی ایس روڈ کے قریب سرکاری گاڑی کا پچھلا ٹائر پنکچر ہو گیا جس کی وجہ سے (پولیس ٹیم کو) مجبوراً رکنا پڑا۔ ٹائر تبدیل کرنے کی غرض سے ملزم کو گاڑی سے اتار کر ایک جانب کھڑا کیا گیا۔‘

اس دوران ملزم توقیر کی ہتھکڑی ’کانسٹیبل نے پکڑی ہوئی ہوئی تھی‘ جبکہ ڈرائیور ’گاڑی کا ٹائر تبدیل کرنے میں مصروف‘ تھا۔

مگر مقدمے کے مطابق اچانک دو موٹر سائیکلوں پر تین افراد آئے جنھوں نے ’گاڑی سے فاصلے پر ہی رُک کر پولیس ٹیم پر جان لیوا سیدھی فائرنگ کر دی۔‘

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ’ملزمان یکے بعد دیگرے فائر کرنے لگے اور زور زور سے آوازیں لگانے لگے کہ توقیر بھاگو ہم تمھیں چھڑوانے آئے ہیں۔‘

اس دوران ملزم توقیر نذیر نے کانسٹیبل کو ’دھکا دیا ار ہتھکڑی سمیت ان (فائرنگ کرنے والے ملزمان) کی طرف دوڑا۔ کانسٹیبل نے آگے بڑھ کر پکڑنا چاہا لیکن فائرنگ کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکا۔‘

سی سی ڈی اہلکار نے ایف آئی آر میں بیان دیا کہ ملزم توقیر نذیر کو ’نامعلوم ملزمان نے موٹر سائیکل پر بٹھایا‘ اور وہ ’فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔‘

اس کے بعد تھانہ سی سی ڈی بہاولپور نے ایک الگ مقدمے میں بتایا کہ ایسٹرن بائی پاس روڈ پر ’ایک موٹر سائیکل پر دو افراد تیزی سے آئے جن کو سرکاری گاڑی کی ریوالونگ لائٹ آن کر کے اور ٹارچ لائٹ کے اشارہ سے روکنا چاہا۔ بجائے رکنے کے، انھوں نے پولیس ٹیم پر جان لیوا سیدھی فائرنگ کر دی۔‘

اس دوسری ایف آئی آر میں واقعے کا وقت رات تین بج کر 15 منٹ درج ہے۔ اس کے مطابق ایک پولیس کانسٹیبل کی بلٹ پروف جیکٹ پر ’ملزمان کا ایک فائر لگا جو خوش قسمتی سے محفوظ رہا۔ سرکاری گاڑی پر بھی دو فائر لگے۔‘

پولیس کے مطابق ’کچھ دیر فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ سرکاری گاڑی کی لائٹ کی روشنی میں دیکھا ایک کس اپنے ساتھی کا فائر لگنے سے زمین پر گر گیا۔ اس دوران دوسرا ملزم موٹر سائیکل پر سوار ہو کر بھاگ جانے میں کامیاب ہو گیا۔‘

ایف آئی آر میں مزید لکھا ہے کہ موقع پر ریسکیو 1122 کی ٹیم کو بلایا گیا جنھوں نے لاش کا معائنہ کیا اور تصدیق کی کہ ملزم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو چکا ہے۔

بعد ازاں سی سی ڈی کے اہلکار نے تصدیق کی کہ یہ ملزم توقیر نذیر تھے جو کچھ ہی گھنٹوں قبل سی سی ڈی کی تحویل سے فرار ہوئے تھے اور بعد میں ’اپنے ساتھی کی فائرنگ‘ میں ہلاک ہوئے۔

وسیم عباس کی موت اور سی سی ٹی وی ویڈیوز

ایک منٹ سے بھی کم دورانیے کے اس ویڈیو کلپ میں سفید شلوار قمیض پہنے ایک لڑکا گلی میں دوڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ ابتدائی طور پر ایک تیز رفتار چھوٹی کار اس کا تعاقب کرتی نظر آتی ہے۔

یہ واقعہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر ملتان میں 19 اکتوبر کی شام پانچ بج کر 40 منٹ کو پیش آیا جس کے مناظر گلی کے ایک گھر پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے نے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیے ہیں۔

ویڈیو میں کچھ ہی سیکنڈ بعد یہ واضح ہو جاتا ہے کہ کم عمر لڑکا اسی کار میں سوار لوگوں سے اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر ایک موقع پر ڈرائیو تیز رفتاری میں اپنی کار سے لڑکے کو ٹکر مار دیتا ہے۔

سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گاڑی کی ٹکر گیٹ کو بھی لگتی ہے جس سے گیٹ ہلتا نظر آتا ہے، گاڑی اور گیٹ کے درمیان یہی لڑکا ہوتا ہے جو کہ بے دردی سے کچلا جا چکا ہوتا ہے۔

ڈرائیور گاڑی کو چند فٹ ریورس کرتا ہے اور گاڑی کے دونوں دروازے کھلتے ہیں جن سے دو مرد باہر نکلتے ہیں۔

ان میں سے ایک مرد کچلے جانے والے لڑکے کو بازوؤں سے پکڑ کر ایک گھر کے دروازے کے سامنے لٹا دیتا ہے۔ یہ لڑکا کوئی حرکت نہیں کر رہا اور اس کی سفید شلوار قمیض واضح طور پر خون آلود دکھائی دیتی ہے، حتیٰ کہ اس کا خون بہتا ہوا بھی دکھائی دیتا ہے۔

اسی دوران گلی میں اس واقعے کے بعض عینی شاہدین اور رہائشی ان مردوں سے واقعے کے بارے میں پوچھتے نظر آتے ہیں۔

ملتان پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والے دونوں ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جن میں سے ایک کو گرفتار کرنے کے بعد منگل کے روز عدالت پیش کیا گیا، جہاں انھیں چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا۔

منگل کے روز جب پولیس ملزم کو پیشی کے لیے عدالت لائی تو اس کا موقع پر کچھ وکلا نے ان پر تشدد کیا۔

دریں اثنا پولیس کا کہنا ہے کہ دوسرا ملزم مفرور ہے جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

پولیس کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مرنے والے لڑکا ایک یتیم خانے میں رہتا تھا جسے سات روز قبل الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ایک ٹھیکیدار کے پاس بھیجا گیا تھا۔

مقتول کون تھا اور ملزمان اس کا تعاقب کیوں کر رہے تھے؟

تھانہ ڈی ایچ اے میں پولیس کی مدعیت میں درج مقدمے میں مرنے والے لڑکے کی شناخت وسیم عباس کے نام سے کی گئی ہے جس کی عمر 15 سے 16 سال کے درمیان ہے۔

مقدمے کے متن کے مطابق ملتان کے علاقے رائل آرچرڈ میں پولیس کی سرکاری گاڑی گشت پر تھی جب ایک شخص نے اہلکاروں کو بتایا کہ ان کا ماموں زاد بھائی وسیم عباس ملزمان کے پاس بطور الیکٹریشن کام کرتا تھا۔

اس شخص نے پولیس کو بتایا کہ ملزمان وسیم پر ’تشدد کرتے تھے اور جان سے مار دینے کے درپے تھے۔‘ ایف آئی آر کے مطابق وسیم ملزمان کے ’خوف اور تشدد سے جان بچانے کے لیے وہاں سے بھاگ کر ساتھ والی گلی میں جا رہا تھا‘ اور دوسری طرف ایک گاڑی میں سوار ملزمان ’اس کو جان سے مار دینے کی خاطر اس کا پیچھا کر رہے تھے۔‘

ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ ملزمان نے ’قتل کرنے کی نیت سے گاڑی وسیم عباس پر چڑھا دی جس سے اس کا سر کوٹھی کے گیٹ کے پلر کے ساتھ لگا اور اس کا سر کچلا گیا جس سے اس کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی۔‘

مقدمے کے متن کے مطابق عینی شاہدین نے پولیس کو بتایا ہے کہ اس واقعے کے بعد ملزمان اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے بھاگنا چاہتے تھے مگر ’گاڑی سٹارٹ نہ ہونے کی وجہ سے گاڑی چھوڑ کر موقع سے فرار ہونے لگے۔‘

اس دوران اہلِ علاقہ نے ایک ملزم پر قابو پا لیا جبکہ دوسرا جائے وقوعہ سے فرار ہو گیا۔

پولیس نے یہ کار بطور ثبوت اپنے قبضے میں لے لی ہے جبکہ وسیم کے رشتہ داروں نے مظفر گڑھ کے آبائی گاؤں میں ان کی تدفین کر دی ہے۔

ادھر ملتان پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم اور کار کے ڈرائیور کا دعویٰ ہے کہ اس نے وسیم کو ’دانستہ طور پر قتل نہیں کیا۔‘ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ دوڑتے ہوئے ’لڑکے کے آگے گاڑی کھڑی کر کے انھیں روکنا چاہتے تھے لیکن گاڑی گھر کے سامنے گاڑی پھسلنے کی وجہ سے لڑکے کو ٹکر لگی۔‘

انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وسیم نے کام سے بھاگنے کی کوشش کی تھی اور وہ پہلے بھی کام سے بھاگ چکے تھے۔

وسیم عباس کو ’یتیم خانے سے ٹھیکیدار کے پاس بھجوایا گیا‘

ملتان کے سٹی پولیس آفیسر اختر فاروق نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد ایک ملزم، جو کار کے ڈرائیور تھے، کو گرفتار کر لیا گیا جنھیں منگل کے روز عدالت پیش کر کے ان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا۔ جبکہ دوسرا ملزم مفرور ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ان کے مطابق پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وسیم عباس 'مظفرگڑھ کا رہائشی تھا۔ وہ اور اس کا چھوٹا بھائی ملتان کے یتیم خانے میں رہتے تھے۔'

وسیم کے رشتہ داروں نے میڈیا کو بتایا کہ وسیم کے والد کچھ سال پہلے فوت ہوگئے تھے۔ وسیم اور اس کے چھوٹے بھائی کو پانچ سال پہلے ان کی والدہ نے گھریلو حالات سے تنگ آ کر ایک یتیم خانے میں داخل کروا دیا تھا۔

وسیم عباس کے بزرگ نانا غلام شبیر کا کہنا ہے کہ جب ان کی بیٹی کے خاوند کی وفات ہوئی تو بیٹی نے دوسری شادی کر لی اور دونوں نواسوں کو یتیم خانے بھیجا گیا تاکہ وہ وہاں ’پڑھ لکھ جائیں۔‘ ان کا الزام ہے کہ ٹھیکیدار ’سخت گیر انسان تھا‘ جو یتیم خانے کے بچوں کو ’سستی لیبر سمجھتے ہوئے‘ ان سے ’ٹریننگ کے نام پر کام کرواتا تھا۔‘

پولیس کے مطابق وسیم کو سات روز قبل الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ملزم کے پاس بھیجا گیا تھا۔ ’ملزم ٹھیکیدار ہے جو مختلف عمارتوں میں بجلی کے کام کے ٹھیکے لیتا تھا۔ ماضی میں بھی یتیم خانے کے بچے اس کے پاس تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔‘

آفیسر اختر فاروق کا کہنا ہے کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے یتیم خانے کی انتظامیہ سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے کہ ’وہ کس اختیار کے تحت یہاں مقیم لڑکوں کو پرائیویٹ افراد کے پاس بھجواتے رہے ہیں اور اس بارے ان کا ٹھیکیداروں سے کوئی معاہدہ ہوا ہے کہ نہیں۔‘

انھوں نے واضح کیا ہے کہ ’اگر یتیم خانے کی انتظامیہ کا کوئی قصور پایا گیا تو ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہوگی۔‘

پولیس کے مطابق یتیم خانے کے انچارج جواد حیدر نے پولیس کو بتایا ہے کہ انھوں نے الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے یہ لڑکا ٹھیکیدار کو دیا تھا مگر وہ ’نہیں جانتے تھے کہ اس کے ساتھ کیا برا سلوک کیا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ یتیم خانے میں رہنے والے لڑکوں کو ’چھوٹے موٹے ہنر سکھانے کے لیے کچھ افراد کے پاس بھجوایا جاتا ہے جو کہ ان کو معاشرے کا کارآمد فرد بنا سکیں تاکہ یہ لڑکے اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US