’امریکہ کے لیے اسلام آباد سے رابطہ اور تعلقات برقرار رکھنا ناگزیر ہے‘: انڈیا میں دیا گیا مارکو روبیو کا بیان زیرِ بحث کیوں ہے؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ پاکستان ایسا ملک ہے جس کے ساتھ امریکہ کو تعلقات برقرار رکھنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح انڈیا اپنے قومی مفادات کے تحت ایران کے ساتھ روابط رکھتا ہے، اسی طرح امریکہ کے لیے بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات اہم ہیں اور انھیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو منگل کو ممبئی پہنچے
AFP via Getty Images
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو منگل کو ممبئی پہنچے

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، جو 19 سے 22 اکتوبر تک انڈیا کے دورے پر ہیں، نے پاکستان کو ایک اہم جوہری طاقت اور جنوبی ایشیا میں کلیدی جغرافیائی حیثیت کا حامل ملک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے لیے اسلام آباد کے ساتھ رابطے اور تعلقات برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔ ان کے اس بیان نے انڈیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور کئی مبصرین اسے پاکستان کی تزویراتی اہمیت کے امریکی اعتراف کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

ممبئی میں مختلف انٹرویوز کے دوران مارکو روبیو سے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کے بارے میں سوالات کیے گئے۔

سی این این نیوز 18 کے راہول جوشی نے ان سے پوچھا کہ 2025 میں بطور سینیٹر انھوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان انڈیا کے خلاف دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے تو وہ پاکستان کو دی جانے والی امریکی سکیورٹی امداد میں کمی کے لیے بل پیش کریں گے۔ سوال یہ تھا کہ کیا اس معاملے پر ان کا مؤقف اب تبدیل ہو چکا ہے؟

اس کے جواب میں مارکو روبیو نے کہا کہ ’ہم دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کے خلاف ہیں اور دہشت گردی کی حمایت کرنے والے افراد اور ممالک کی مخالفت کرتے ہیں۔ لیکن اب میرا کردار ایک سینیٹر کا نہیں بلکہ وزیر خارجہ کا ہے۔ اس حیثیت میں مجھے امریکہ کی خارجہ پالیسی چلانی ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے، حتیٰ کہ ایسے ممالک کے ساتھ بھی جن سے بعض معاملات پر اختلافات موجود ہوں۔‘

انھوں نے پاکستان کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح انڈیا اپنے قومی مفادات کی بنیاد پر ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتا ہے، اسی طرح امریکہ کے لیے بھی پاکستان کے ساتھ روابط رکھنا ضروری ہیں۔ مارکو روبیو کے مطابق واشنگٹن پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے، تنازعات کی روک تھام اور استحکام کے فروغ کے تناظر میں دیکھتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کے اس مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے معروف دفاعی تجزیہ کار پروین ساہنی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے پاکستان کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ مبصرین کے مطابق حالیہ عرصے میں، خصوصاً آپریشن سندور کے بعد، واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان روابط میں بہتری اور پاکستانی قیادت پر امریکی اعتماد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

مارکو روبیو نے انڈین ایکسپریس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ تاثر بھی مسترد کیا کہ امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات، انڈیا کے مفادات کی قیمت پر استوار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور انڈیا کے تعلقات اپنی جگہ مضبوط اور اہم ہیں، جبکہ پاکستان کے ساتھ روابط خطے میں استحکام برقرار رکھنے اور ممکنہ تنازعات کو کم کرنے کی وسیع سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

اس انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ انڈیا میں بعض حلقے موجودہ امریکی پالیسی کو نکسن۔کسنجر دور کی یاد دلاتے ہیں، جب واشنگٹن پاکستان کے فوجی حکمرانوں کے قریب سمجھا جاتا تھا۔

اس سوال کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’میں 1970 کی دہائی سے موازنہ نہیں کروں گا، کیونکہ آج کی دنیا اس دور سے یکسر مختلف ہے۔ اس وقت سرد جنگ جاری تھی اور عالمی حالات بھی بالکل الگ تھے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک کے ساتھ ہمارے تعلقات، انڈیا کے ساتھ ہمارے تعلقات کی قیمت پر نہیں ہیں۔ میرے خیال میں میرا دورۂ انڈیا، تجارتی معاہدوں کے حوالے سے ہماری وابستگی، اور دونوں ممالک کے درمیان جاری تعاون اس بات کا واضح ثبوت ہیں۔‘

پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ’پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے ساتھ ہمارے تعلقات موجود ہیں اور انھیں برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اگر ہم ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی کر سکیں جو مستقبل میں تنازع کا سبب بن سکتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہو گی۔ اسی طرح اگر ہم اپنے اثر و رسوخ کو تعمیری انداز میں استعمال کر سکیں تو اس سے بھی مدد مل سکتی ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’انڈیا کو اس بات کا مکمل اعتماد ہونا چاہیے کہ پاکستان یا دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ ہمارے تعلقات، انڈیا کے ساتھ تعلقات کے متبادل نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی قیمت پر استوار ہیں۔ ہم انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو اسی نظر سے نہیں دیکھتے۔‘

ممبئی سے جام نگر تک: مارکو روبیو کے دورۂ انڈیا میں توانائی اور تجارت کیوں اہم ہیں؟

اپنے دورۂ انڈیا کی اہمیت بیان کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ انڈیا دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک، ایک مضبوط جمہوریت اور امریکہ کا اہم جیو پولیٹیکل شراکت دار ہے۔ ان کے بقول امریکی حکام کے انڈیا کے دورے نسبتاً کم ہوتے ہیں اور واشنگٹن کو نئی دہلی کے ساتھ روابط مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق روبیو کے موجودہ دورے کا ایک اہم محور توانائی کے شعبے میں تعاون اور توانائی کے تحفظ سے متعلق امور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دورے میں ممبئی اور گجرات کے شہر جام نگر کو خصوصی اہمیت دی گئی، جہاں دنیا کی بڑی آئل ریفائنریوں میں سے ایک واقع ہے۔

مارکو روبیو نے انڈیا پر ممکنہ امریکی ٹیرف کے معاملے پر بھی بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کا مقصد انڈیا کو سزا دینا یا نقصان پہنچانا نہیں بلکہ یہ امریکہ کی وسیع تر خارجہ پالیسی کا حصہ ہیں، جس کا تعلق روس۔یوکرین جنگ اور اس کے خاتمے کی کوششوں سے بھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بعض حالات میں کانگریس سے منظور شدہ قوانین کے تحت ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کرنا ضروری ہو سکتا ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے میں احتیاط برت رہے ہیں تاکہ امریکہ اور انڈیا کے سٹریٹیجک تعلقات متاثر نہ ہوں۔

مارکو روبیو کے مطابق واشنگٹن ایک جانب روس اور یوکرین کو مذاکرات کی میز پر لانے کا خواہاں ہے، جبکہ دوسری جانب اپنے اہم شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچائے بغیر خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھنا بھی ضروری سمجھتا ہے۔

دورۂ انڈیا سے قبل مارکو روبیو یہ بھی تسلیم کر چکے تھے کہ انڈیا کے لیے روس سے توانائی کی درآمدات فوری طور پر بند کرنا عملی طور پر آسان نہیں۔

یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ حال ہی میں ان ممکنہ پابندیوں کو مؤخر کر چکے ہیں جن کے تحت روسی تیل اور گیس خریدنے والے ممالک، بشمول انڈیا، پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جا سکتا تھا۔

انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر منگل کو ممبئی میں امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو (بائیں) اور متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کے ساتھ
ANI
انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر منگل کو ممبئی میں امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو (بائیں) اور متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کے ساتھ

ماہرین کے مطابق مارکو روبیو کے حالیہ دورۂ انڈیا سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن جنوبی ایشیا میں اپنے تزویراتی مفادات کے ساتھ ساتھ توانائی کے تحفظ، تجارت اور اقتصادی تعاون کو بھی ترجیح دے رہا ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہر برہما چیلانی کے مطابق امریکہ اور انڈیا کے درمیان بعض سیاسی اختلافات کے باوجود روبیو کے دورے کا بنیادی مقصد توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانا، تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنا اور کاروباری شراکت داریوں کو فروغ دینا ہے۔

برہما چیلانی کا کہنا ہے کہ مارکو روبیو نے اپنے دورے کے لیے ممبئی اور جام نگر کا انتخاب کیا، جہاں دنیا کے بڑے آئل ریفائننگ مراکز میں سے ایک واقع ہے۔ ان کے بقول جام نگر میں امبانی خاندان کی میزبانی اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ سفارتی اختلافات کے بجائے عملی اقتصادی تعاون، توانائی کے تحفظ اور نجی شعبے کے روابط کو اہمیت دے رہے ہیں۔

ادھر بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی سینیئر فیلو تنوی مدان نے نشاندہی کی کہ انڈین اور امریکی حکام کی جانب سے جاری بیانات میں توانائی کے شعبے میں تعاون کو غیرمعمولی اہمیت دی گئی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کے بڑھتے ہوئے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔

روبیو کے دورے کے دوران ممبئی میں امریکہ، انڈیا اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کے درمیان سہ فریقی ملاقات بھی ہوئی، جس میں اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں شراکت داری بڑھانے پر غور کیا گیا۔ اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں علاقائی سلامتی، استحکام اور مشترکہ تزویراتی اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن خطے میں اپنے اقتصادی اور سکیورٹی مفادات کو بیک وقت آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US