ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ ملزم نے گاڑی روک کر ان کی بہن کو مخاطب کر کے کہا کہ ’تم نے کسی اور سے شادی کر کے میری غیرت کو للکارا ہے۔‘
فائل فوٹو: یہ واقعہ گوجرانوالہ کے علاقے سمن آباد میں 23 اکتوبر کو پیش آیا تھاپنجاب کے وسطی شہر گوجرانوالہ میں ایک نوبیاہتا دلہن کو اس وقت گولی مار کر قتل کر دیا گیا جب وہ ولیمے کی تقریب کے بعد اپنے شوہر کے ہمراہ گاڑی میں سوار ہو کر میکے جا رہی تھیں۔
یہ واقعہ گوجرانوالہ کے علاقے سمن آباد میں 23 اکتوبر کو پیش آیا تھا، جس کا مقدمہ اتوار کو تین افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
پولیس اور مقتولہ کے اہلِ خانہ کے مطابق صبا طفیل کی شادی دو روز قبل ہوئی تھی۔ ولیمے کی تقریب کے بعد جب وہ اپنے شوہر کے ساتھ گاڑی میں میکے جا رہی تھیں تو سمن آباد کے قریب موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے ان کی گاڑی کو روک لیا۔
مقامی پولیس اور مقتولہ کے بھائی اعجاز کے مطابق دونوں ملزمان میرج ہال سے ہی گاڑی کا پیچھا کر رہے تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ ملزم نے گاڑی روک کر ان کی بہن کو مخاطب کر کے کہا کہ ’تم نے کسی اور سے شادی کر کے میری غیرت کو للکارا ہے۔‘
گوجرانوالہ پولیس کا ایک بیان میں دعویٰ ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ’ملزم نے مقتولہ صبا کے ساتھ پسند کی شادی نہ ہونے کی رنجش پر اسے قتل کیا۔‘
’تین سال قبل رشتے کی بات ہوئی تھی‘
مقتولہ کے بھائی اعجاز نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ تقریباً تین سال قبل ملزم نے ’اپنے والدین کو صبا کے رشتے کے گھر بھیجا تھا، تاہم غیر برادری ہونے کی وجہ سے اس رشتے سے انکار کر دیا گیا تھا۔‘
ان کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ملزم کو اسی بات کا رنج تھا۔
اعجاز کا مزید کہنا تھا کہ ’رشتے سے انکار کے بعد ملزم کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا اور نہ ہی مقتولہ یا خاندان کو کسی قسم کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اسی وجہ سے خاندان کو یقین تھا کہ یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔
مقدمے میں ایک خاتون بھی نامزد
اس واقعے کے حوالے سے درج ایف آئی آر میں ایک خاتون کو بھی بطور ملزمہ نامزد کیا گیا ہے اور مدعی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ قتل ان ہی کی ایما پر ہوا ہے، جو کہ صبا کی شادی میں بھی شریک تھیں۔
مقدمے کی تفتیش سے وابستہ ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتولہ صبا طفیل اور مقدمے میں نامزد خاتون گوجرانوالہ میں بال پوائنٹس تیار کرنے والی ایک فیکٹری میں کام کرتی تھیں، جہاں دونوں کے درمیان دوستی ہوئی۔
اس واقعے کے حوالے سے درج ایف آئی آر میں ایک خاتون کو بھی بطور ملزمہ نامزد کیا گیا ہےتفتیشی اہلکار کے مطابق اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ اسی دوران ملزم کی اپنی کزن (ملزمہ) کے ذریعے مقتولہ سے واقفیت ہوئی ہو۔
انھوں نے بتایا کہ چونکہ مقتولہ اور نامزد ملزمہ ایک ساتھ کام کرتی تھیں، اس لیے غالب امکان ہے کہ مقتولہ نے ہی ان کو اپنی شادی میں مدعو کیا ہو۔
دوسری جانب مقتولہ کے بھائی اعجاز کا کہنا ہے کہ ان کی بہن نے دو سال قبل ملازمت چھوڑ دی تھی اور اس کے بعد وہ ڈی سی کالونی میں واقع ایک مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔
تفتیش جاری، گرفتاری کے لیے چھاپے
اس واقعے کا مقدمہ گوجرانوالہ میں سی سی ڈی کے تھانے میں درج کیا گیا ہے۔
سی سی ڈی گوجرانوالہ کے انچارج رضوان طارق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے تکنیکی ذرائع سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔
رضوان طارق کے مطابق جیو فینسنگ سمیت دیگر تکنیکی شواہد حاصل کیے جا رہے ہیں جبکہ مختلف علاقوں میں چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں تاکہ ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے۔