ایمسٹرڈیم کے چڑیا گھر میں زخمی پرندے کے علاج میں نئی تاریخ رقم ہوگئی جہاں پہلی بار تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تیار کردہ مصنوعی چونچ کے دو حصے لگا دیے گئے۔
نیدرلینڈز کے آرٹس چڑیا گھر میں موجود کم عمر نر سدرن ہارن بِل کی اوپری اور نچلی چونچ ٹوٹ گئی تھی جس کے باعث اسے خوراک کھانے اور اپنی دیکھ بھال کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔
چڑیا گھر کی انتظامیہ نے یوٹریخت یونیورسٹی کے شعبہ ویٹرنری میڈیسن کے تعاون سے پرندے کے لیے خصوصی طور پر پلاسٹک کی مصنوعی چونچیں تیار کروائیں۔ تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے بنائے گئے ان حصوں کو سرجنز نے پیچوں کی مدد سے پرندے کے ساتھ جوڑ دیا۔
آرٹس چڑیا گھر کے مطابق چونچ کا کچھ حصہ کھو دینا پرندے کے لیے محض ظاہری نقصان نہیں بلکہ اس سے اس کی خوراک حاصل کرنے اور خود کو صاف رکھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔
1838 میں قائم ہونے والا آرٹس چڑیا گھر دنیا کے قدیم ترین چڑیا گھروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس علاج کو جانوروں کی دیکھ بھال میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔