شادی کے ایک ماہ بعد بہو کوما میں چلی گئی، چینی ساس کی 17 سالہ محبت اور خدمت کی کہانی

image

جب وہ میرے بیٹے کی بیوی بن کر گھر آئی تو میں نے اسے اپنی بیٹی سمجھ لیا تھا۔ بھلا میں اپنی بچی کو اس حال میں کیسے چھوڑ سکتی تھی؟ میری بس یہی خواہش ہے کہ وہ صحت مند رہے اور اپنے کام خود کرنے کے قابل ہوجائے۔

چین میں ایک 68 سالہ خاتون کی اپنی بہو سے بے لوث محبت اور 17 سال تک مسلسل دیکھ بھال کی کہانی نے لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔ شوان فینگ ینگ نامی خاتون نے ایک حادثے کے بعد معذوری کا شکار ہونے والی بہو کی دیکھ بھال کو اپنی زندگی کا اہم حصہ بنا لیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق مشرقی چین کے صوبہ شان ڈونگ کی کاؤنٹی چنگ یون سے تعلق رکھنے والی شو نامی خاتون 2009 میں شادی کے صرف ایک ماہ بعد ٹرک حادثے کا شکار ہوگئی تھیں۔ حادثے میں شدید زخمی ہونے کے باعث وہ کوما میں چلی گئیں، جس کے بعد ان کی ساس نے ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھال لی۔

شوان فینگ ینگ اپنی بہو کو چمچ سے مائع غذا کھلاتی تھیں اور بعض اوقات ایک وقت کا کھانا کھلانے میں پورا گھنٹہ لگ جاتا تھا۔ وہ روزانہ کئی مرتبہ بہو کی کروٹ تبدیل کرتیں تاکہ مسلسل لیٹے رہنے سے جسم پر زخم نہ بنیں۔ اس کے علاوہ نہلانے، جسم کی مالش کرنے اور صفائی کا بھی خاص خیال رکھتیں۔

وہ اپنی بہو سے باتیں کرتیں، اسے گھر اور گاؤں کی خبریں سناتیں اور اس کے پسندیدہ گانے بھی چلاتیں۔ کئی سال تک یہ معمول جاری رہا، یہاں تک کہ شو بالآخر کوما سے باہر آگئیں۔

تاہم حادثے کے باعث ان کے دماغ کو شدید نقصان پہنچ چکا تھا اور ان کی ذہنی صلاحیتیں تقریباً چار سال کے بچے کی سطح تک محدود ہوگئی تھیں۔ اس کے باوجود ان کی ساس نے ہمت نہیں ہاری اور انہیں دوبارہ چلنے پھرنے اور روزمرہ کے کام سیکھنے میں مدد دینا شروع کردی۔

مسلسل دیکھ بھال اور بحالی کی مشقوں کے بعد شو اب چند الفاظ بول سکتی ہیں اور سادہ کھانا بھی خود تیار کرلیتی ہیں۔ ان کی یہ پیش رفت شوان فینگ ینگ کے لیے خوشی اور اطمینان کا باعث ہے۔

معمر خاتون کا کہنا ہے کہ انہیں سب سے زیادہ سکون اس بات سے ملتا ہے کہ ان کی بہو اب اپنے لیے کھانا بنا سکتی ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان کے بعد بھی شو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو۔

شوان فینگ ینگ نے اپنے بیٹے کو بھی ہدایت کی ہے کہ ان کے انتقال کے بعد وہ اپنی اہلیہ کی دیکھ بھال جاری رکھے۔

ساس اور بہو کے اس رشتے کی کہانی محبت، صبر اور برسوں تک نبھائی جانے والی ذمہ داری کی ایک غیر معمولی مثال بن کر سامنے آئی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US