بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں تقریباً 100 سال سے قائم ایک تاریخی مسجد کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے قریب واقع ریس کورس مسجد کو خالی کرانے کے نوٹس نے نمازیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس دوران مسجد کے بزرگ امام محمد ہارون کی روتے ہوئے دعا مانگنے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جمعے کی نماز کے بعد امام محمد ہارون نہایت افسردہ انداز میں اللہ تعالیٰ سے مسجد کی حفاظت کی دعا کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ موجود نمازی بھی خاموشی سے دعا میں شریک ہیں۔ امام کا کہنا ہے کہ اس مشکل وقت میں اللہ ہی ان کا آخری سہارا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریس کورس مسجد ایک صدی پرانی عبادت گاہ ہے، جسے 2009 میں تاریخی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ مسجد تقریباً 53 ایکڑ پر مشتمل ریس کورس کلب کی حدود میں موجود ہے، جہاں سرکاری زمین واگزار کرانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بھارتی حکام نے قومی سلامتی اور سرکاری اراضی کی ملکیت کو بنیاد بناتے ہوئے علاقے کو خالی کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسجد کے اطراف رکاوٹیں لگا دی گئی ہیں، سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور صحافیوں سمیت غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد ہے۔
امام محمد ہارون کا کہنا ہے کہ متعلقہ سرکاری محکمے نے انہیں صرف 6 دن میں مسجد خالی کرنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ 7 اکتوبر کو وہاں بجلی اور پانی بھی بند کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں 15 اکتوبر کو دہلی ہائی کورٹ نے ان بنیادی سہولتوں کی بحالی کا حکم دینے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں امام کے قانونی اختیار اور دہلی وقف بورڈ کے کردار سے متعلق سوالات اٹھائے۔
اس معاملے پر سیاسی سطح پر بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے بھارتی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تاریخی عبادت گاہ کو ممکنہ انہدام سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں بھارت کے مختلف شہروں میں بھی مساجد کے خلاف انہدامی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ حکام ان اقدامات کو تجاوزات کے خاتمے، ترقیاتی منصوبوں اور عدالتی فیصلوں سے منسلک کرتے ہیں، جبکہ متاثرہ حلقوں کی جانب سے مذہبی مقامات کے تحفظ پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔
ریس کورس مسجد کے معاملے میں فی الحال اصل سوال یہ ہے کہ کیا تاریخی حیثیت رکھنے والی اس عبادت گاہ کو محفوظ رکھا جائے گا یا سرکاری کارروائی کے نتیجے میں اسے بھی ختم کردیا جائے گا؟ اس حوالے سے حتمی صورتحال واضح نہیں، تاہم امام کی جذباتی ویڈیو نے اس معاملے کو ایک بار پھر بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔