امریکی خاتون ایتھلیٹ کیتھرین برئیڈ نے خطرناک سمندری لہروں، طوفانوں اور شارک مچھلیوں کے خدشات کے باوجود 900 میل طویل تیراکی مکمل کرکے غیر معمولی کارنامہ انجام دے دیا۔
33 سالہ کیتھرین نے یکم جولائی کو امریکی ریاست اوریگن سے سفر شروع کیا اور 111 دن بعد، 19 اکتوبر کو امریکا اور میکسیکو کی بحری سرحد پر پہنچ کر یہ سفر مکمل کیا۔ وہ روزانہ اوسطاً 10.3 میل تیرتی رہیں اور اس دوران صرف 18 دن آرام کے لیے پانی سے باہر گزارے۔
اس طویل سفر کے دوران کیتھرین روزانہ 6 ہزار سے زائد کیلوریز پر مشتمل غذا استعمال کرتی تھیں جبکہ ان کی ٹیم 52 فٹ طویل کشتی پر ان کے ساتھ موجود رہی۔ سفر کے اختتام کے قریب آلودہ پانی سے ممکنہ انفیکشن سے بچاؤ کے لیے انہیں اینٹی بائیوٹکس بھی استعمال کرنا پڑیں۔
کیتھرین برئیڈ کے مطابق اس مہم کا مقصد سمندری حیات کے تحفظ اور نازک بحری ماحولیاتی نظام کو درپیش خطرات کے بارے میں شعور اجاگر کرنا تھا۔ ان کے اس کارنامے کو غیر معمولی جسمانی برداشت اور عزم کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔