انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی ایم اے) کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ پائیدار معاشی استحکام کے لیے فیصلہ کن اور شواہد پر مبنی پالیسیاں کلیدی اہمیت کی حامل ہیں۔ شدید عالمی اور علاقائی دھچکوں کے باوجود بروقت اور پیش بین اقدامات کی بدولت 2024ء سے اب تک پاکستان کی معاشی بنیادوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ نمایاں رسدی دھچکوں کے باوجود محتاط زری پالیسی کے ذریعے معیشت پر منفی اثرات کو محدود رکھا گیا، جس سے مہنگائی کو 30 فیصد سے زائد کی بلند ترین سطح سے کم کر کے وسط مدتی ہدفی حد میں لانے میں مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے جبکہ حقیقی جی ڈی پی کی نمو، جو مالی سال 23ء میں گراوٹ کا شکار تھی، مالی سال 26ء کے دوران بڑھ کر 3.7 فیصد ہو گئی ہے اور جاری مالی سال میں اس میں مزید اضافے کی امید ہے۔ معاشی بنیادوں میں اس بہتری اور استحکام کو بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں، کثیر جہتی شراکت داروں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھی تسلیم کیا ہے۔
انہوں نے مالی سال 22ء اور 23ء کے دوران کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی ریٹ میں اضافہ اور اسے ایک سال تک برقرار رکھنا نیز غیر قرض زرمبادلہ کے اخراجات کی عارضی تنظیم جیسے اقدامات کلی معاشی استحکام کی بحالی اور مزید سنگین مالی بحران سے بچنے کے لیے ناگزیر تھے۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد قلیل مدتی اقدامات پر نہیں رکھی جا سکتی۔
فارغ التحصیل اکاؤنٹنگ اور فنانس پروفیشنلز کو مبارکباد دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ وہ مشکل فیصلوں میں شواہد، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور ملک کی پائیدار ترقی کو اپنے لیے رہنما اصول بنائیں۔ انہوں نے اداروں کو مضبوط بنانے، جواب دہی کے فروغ، سرکاری وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال اور پیداواری سرمایہ کاری میں فنانس اور اکاؤنٹنگ کے شعبے کے بنیادی کردار کو بھی اجاگر کیا۔