تحریک تحفظ آئین پاکستان کا نیا میثاقِ جمہوریت لانے پر اتفاق، اے پی سی بلانے پر مشاورت

image

اپوزیشن اتحاد 'تحریک تحفظ آئین پاکستان' نے مولانا فضل الرحمان کے نئے 'میثاقِ جمہوریت' کے موقف کی مکمل حمایت کر دی ہے۔

اس سلسلے میں مولانا فضل الرحمان نے وفد کے ہمراہ اسلام آباد میں قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجا ناصر عباس اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئینی و جمہوری امور اور اپوزیشن جماعتوں کے آپسی تعاون پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔

ملاقات کے دوران شرکاء نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عوام کی حاکمیت کے جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ، اسپیکر صوبائی اسمبلی اور قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین کی گرفتاریوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا، جبکہ تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی اور ملک میں سیاسی آزادیوں کے تحفظ کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

ملاقات میں آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے انعقاد سے متعلق بھی مشاورت کی گئی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ سیاسی و آئینی بحرانوں سے نکلنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو نئے میثاقِ جمہوریت کی جانب پیشرفت کرنی چاہیے۔ اس اہم ملاقات میں پی ٹی آئی وفد میں بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، بیرسٹر علی ظفر، عامر ڈوگر اور زین قریشی شامل تھے جبکہ جے یو آئی (ف) کی نمائندگی سینیٹر کامران مرتضیٰ، میر یونس زہری اور عثمان بادینی نے کی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US