جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے آپ کی رائے سے اختلاف کیا تو آپ ہمارے خلاف ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے پر خیبر پختونخوا کی حکومت کو ہٹانے کا مؤقف اختیار کیا گیا اور ہماری قربانیوں کا مذاق اڑایا گیا۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ جب تک انہیں کسی معاملے پر کامل اطمینان نہ ہو، وہ تذبذب کی حالت میں کوئی بھی حتمی مؤقف اختیار نہیں کرتے۔