پاکستان نے چین کی 'ون چائنا پالیسی' کی کامل تائید و حمایت کرتے ہوئے تائیوان کی ایئر لائنز کے لیے اپنی فضائی حدود مکمل طور پر بند کر دی ہیں۔ اس بات کی تصدیق وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بلومبرگ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کی، جس میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا ایوی ایشن ڈویژن 'ون چائنا پالیسی' پر سختی سے عمل پیرا ہے اور صرف مین لینڈ چائنا کی ایئر لائنز کو ہی پاکستان کے اوپر سے پرواز کی اجازت حاصل ہے۔
'فلائٹ ریڈار 24' کے فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق تائیوان کی دو بڑی ایئر لائنز، 'چائنا ایئر لائنز لمیٹڈ' اور 'ایوا ایئرویز کارپوریشن' نے 25 اکتوبر کی صبح سے پاکستان کی فضائی حدود کا استعمال مکمل طور پر ختم کر کے اپنے راستے تبدیل کرلیے ہیں۔ پاکستان کے اس فیصلے کے بعد دونوں ایئر لائنز کو ایشیا اور یورپ کے درمیان اپنی پروازوں کے لیے جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ یا روس کے طویل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے پروازوں کے دورانیے میں کئی گھنٹوں کا اضافہ ہوا ہے اور اضافی جیٹ فیول کے استعمال کی وجہ سے ان کے معاشی اخراجات میں شدید اضافے کا خدشہ ہے۔
یوکرین جنگ کے بعد سے بیشتر ایئر لائنز روسی فضائی حدود کے استعمال سے گریز کر رہی تھیں، تاہم تائیوان کی ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ان پر کبھی ایسی باقاعدہ پابندی نہیں تھی، اور حالیہ تبدیلی کے بعد اتوار سے ان کی متعدد پروازیں روس کے اوپر سے گزر رہی ہیں۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا یہ اقدام خود مین لینڈ چائنہ کی پالیسی سے بھی زیادہ سخت تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ چین تائیوانی ایئر لائنز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس معاملے پر تائیوان کی وزارتِ خارجہ اور دونوں ایئر لائنز نے فی الحال کوئی ردِعمل دینے سے گریز کیا ہے۔