سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کے بل پر غور

image

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کے بل پر غور کرتے ہوئے موجودہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد، قانونی خامیوں کے خاتمے اور ایسے جرائم میں ملوث افراد کے احتساب کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

سینیٹر فاروق حامد نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں غیرت کے نام پر قتل، فیملی کورٹس، کم عمر ملزمان کے نظام انصاف، مسلم عائلی قوانین اور وفاقی پراسیکیوشن سروس سے متعلق نجی ارکان کے بلوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹرز شہادت اعوان، ضمیر حسین گھمرو، محمد طلال بدر اور کامران مرتضیٰ نے شرکت کی، جبکہ غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کے بل کی محرک سینیٹر سمیعہ ممتاز زہری ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئیں۔

اجلاس میں فوجداری قوانین (ترمیم) (غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام) بل 2026 زیر غور آیا۔ سینیٹر سمیعہ ممتاز زہری نے مؤقف اختیار کیا کہ 2016 میں قانون سازی کے باوجود غیرت کے نام پر قتل کے واقعات جاری ہیں، جس کے باعث قانونی سقم دور کرنے، سخت سزاؤں اور ایسے جرائم کی حوصلہ افزائی یا معاونت کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے جرگوں اور روایتی رسم و رواج کے ذریعے ایسے جرائم کی ترغیب دینے والوں کو بھی جواب دہ بنانے پر زور دیا۔

وفاقی وزیر قانون و انصاف نے کہا کہ مجوزہ بل میں شامل متعدد حفاظتی اقدامات پہلے ہی موجودہ قوانین کا حصہ ہیں، اس لیے غیر ضروری قانون سازی کی تکرار سے گریز کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اصل چیلنجز تفتیش، استغاثہ اور قوانین پر مؤثر عملدرآمد سے متعلق ہیں، جن پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

کمیٹی کے ارکان نے غیرت کے نام پر قتل کو سنگین اور قابل مذمت جرم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ کوئی رسم، روایت یا سماجی جواز انسانی جان لینے کا جواز فراہم نہیں کر سکتا۔ ارکان نے معاشرتی رویوں میں بنیادی تبدیلی اور موجودہ قوانین، بالخصوص فساد فی الارض سے متعلق قانونی دفعات، پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

غور و خوض کے بعد وزارت قانون و انصاف اور بل کی محرک کی درخواست پر بل پر مزید غور مؤخر کر دیا گیا۔ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فاروق حامد نائیک نے لا ڈویژن کو ہدایت کی کہ موجودہ قانونی ڈھانچے، مجوزہ ترامیم اور ان کے ممکنہ اثرات کا احاطہ کرنے والی جامع قانونی رپورٹ پیش کی جائے۔

اجلاس میں فیملی کورٹس (ترمیمی) بل 2026، جووینائل جسٹس سسٹم (ترمیمی) بل 2026، مسلم عائلی قوانین (ترمیمی) بل 2026 اور وفاقی پراسیکیوشن سروس (ترمیمی) بل 2026 پر غور بھی متعلقہ محرکین کی درخواست پر مؤخر کر دیا گیا۔

چیئرمین کمیٹی نے لا ڈویژن کو مزید ہدایت کی کہ قانون و انصاف کمیشن آف پاکستان سے کمیٹی کی جانب سے پہلے طلب کی گئی رپورٹس جلد حاصل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US