"مجھے معلوم تھا کہ دریا سے اتنا سونا تلاش کرنا آسان نہیں ہوگا اور اس میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں، لیکن میں اپنی محبوبہ کے لیے کچھ ایسا کرنا چاہتا تھا جو ہمیشہ یاد رہے۔ یہی سوچ مجھے ہر مشکل کے باوجود کوشش جاری رکھنے کا حوصلہ دیتی رہی۔"
محبت کا اظہار کرنے کے لیے لوگ مہنگے تحائف اور خوبصورت انگوٹھیوں کا انتخاب کرتے ہیں، لیکن امریکہ میں ایک نوجوان نے اپنی محبوبہ کو شادی کی پیشکش کرنے کے لیے ایسا راستہ اپنایا جس نے سب کو حیران کر دیا۔
امریکی ریاست کولوراڈو کے رہائشی جیک ولکانی نے اپنی دیرینہ گرل فرینڈ جو این کے لیے منگنی کی انگوٹھی کسی جیولری شاپ سے خریدنے کے بجائے خود سونا تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے وہ کئی مہینوں تک مختلف دریاؤں کے کناروں پر سونے کے چھوٹے چھوٹے ذرات جمع کرتے رہے۔
جیک جانتے تھے کہ یہ کام نہ صرف مشکل بلکہ وقت طلب بھی ہے لیکن وہ اپنی محبوبہ کو ایسا تحفہ دینا چاہتے تھے جس کے پیچھے ان کی اپنی محنت اور محبت شامل ہو۔
بالآخر جب مطلوبہ مقدار میں سونا جمع ہو گیا تو جیک اسے ایک مقامی سنار کے پاس لے گئے، جس نے سونے کو پگھلا کر ایک خوبصورت منگنی کی انگوٹھی تیار کر دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سنار کے لیے بھی یہ پہلا تجربہ تھا کہ کوئی شخص اپنی انگوٹھی بنوانے کے لیے خود تلاش کیا ہوا سونا لے کر آیا ہو۔
انگوٹھی تیار ہونے کے بعد جیک نے جو این کو پہاڑی علاقے میں سیر کے لیے لے جانے کا منصوبہ بنایا۔ وہاں انہوں نے شادی کی پیشکش سے پہلے اپنے موبائل پر ایک ویڈیو دکھائی، جس میں وہ دریاؤں سے سونا نکالتے نظر آ رہے تھے۔
شروع میں جو این کو سمجھ نہیں آیا کہ انہیں یہ ویڈیو کیوں دکھائی جا رہی ہے، لیکن جب جیک نے بتایا کہ مہینوں کی یہ محنت صرف ان کے لیے منگنی کی انگوٹھی تیار کروانے کی خاطر تھی تو وہ جذباتی ہو گئیں اور ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔
جیک کی اس منفرد کوشش نے سوشل میڈیا پر بھی لوگوں کی توجہ حاصل کی، جہاں ان کی کہانی محبت کے اظہار کے ایک غیر معمولی انداز کے طور پر سامنے آئی۔