آسٹریلیا میں سونے کی تلاش کا شوق رکھنے والے ایک شخص کو زمین سے ایسا قیمتی خزانہ ملا ہے جس کی قیمت پاکستانی کرنسی میں کروڑوں روپے بنتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شخص کو ابتدا میں یقین ہی نہیں آیا کہ اس کے ہاتھ لگنے والا سنہری پتھر واقعی سونا ہے۔
آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی کے مطابق یہ واقعہ ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے علاقے ٹیبوبرّا کے قریب پیش آیا، جہاں ایک شخص ماؤنٹ اسٹورٹ اسٹیشن پر میٹل ڈیٹیکٹر کی مدد سے قیمتی دھاتیں تلاش کر رہا تھا۔ عام دنوں میں اسے زمین سے معمولی اور بے کار چیزیں ملتی تھیں، لیکن اس مرتبہ مشین کے ایک سگنل نے اس کی قسمت بدل دی۔
شہری نے بتایا کہ جب اس نے اشارہ ملنے والی جگہ پر کھدائی شروع کی تو تھوڑی سی مٹی ہٹاتے ہی اسے ایک زرد رنگ کی چمک دکھائی دی۔ زمین سے نکالنے پر یہ آلو جیسا پتھر معلوم ہوا۔ پہلے تو اسے شک ہوا کہ کہیں یہ مصنوعی رنگ والا عام پتھر نہ ہو، تاہم بعد میں ہونے والی جانچ نے اس کی حیرت کو خوشی میں بدل دیا۔
ماہرین نے تصدیق کی کہ اس ٹکڑے کا وزن 1.2 کلوگرام سے زیادہ ہے، جس میں تقریباً 940 گرام خالص سونا موجود ہے، جبکہ باقی حصے میں کوارٹز نامی معدنی مادہ شامل ہے۔ اس کی عام مارکیٹ میں قیمت ڈیڑھ لاکھ سے ایک لاکھ 60 ہزار امریکی ڈالر بتائی گئی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 4 کروڑ 16 لاکھ سے 4 کروڑ 44 لاکھ روپے بنتی ہے۔ اگر کوئی نایاب پتھروں کا شوقین خریدار اسے حاصل کرنا چاہے تو اس کی قیمت تقریباً 5 کروڑ 54 لاکھ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
دریافت ہونے والی اس منفرد ڈلی کو مقامی علاقے اور اس کی آلو جیسی شکل کی وجہ سے ’’ٹیبوبرّا اسپاڈ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
سونے کی تلاش کے آلات فروخت کرنے والے گریگ اسپینگلر کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے حجم میں قدرتی سونا ملنا بہت کم ہوتا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں انہیں اس نوعیت کی صرف ایک اور دریافت یاد ہے، کیونکہ عام طور پر لوگوں کو چند گرام کے ذرات یا چھوٹی ڈلیاں ہی ملتی ہیں۔
ٹیبوبرّا کا علاقہ تقریباً 140 سال سے سونے کی تلاش کے حوالے سے مشہور ہے۔ یہاں آج بھی مقامی افراد اور سیاح قسمت آزمانے آتے ہیں۔ بعض مخصوص مقامات پر اجازت اور مقررہ فیس کے بعد کھدائی کی جاسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس خطے میں مزید قیمتی دھاتیں ملنے کا امکان موجود ہے، خاص طور پر بارشوں کے بعد جب مٹی کی سطح بدلنے سے زمین میں چھپے معدنی ذرات ظاہر ہوسکتے ہیں۔
اس دریافت نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ سونے کی تلاش میں صرف جدید آلات ہی نہیں بلکہ صبر، محنت اور مناسب جگہ کا انتخاب بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔