سردیوں کے کمبل گھر میں کیسے دھوئیں؟ واشنگ مشین بھی محفوظ رہے اور ڈرائی کلینر کا خرچہ بھی بچے

image

سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی گھروں میں رکھے کمبل، رضائیاں اور گرم چادریں نکلنا شروع ہوجاتی ہیں۔ کئی ماہ الماریوں اور صندوقوں میں بند رہنے سے ان میں گردوغبار، نمی اور عجیب سی بو پیدا ہوسکتی ہے۔ ایسے میں انہیں صاف کرنا ضروری ہوتا ہے، لیکن ہر بار ڈرائی کلینر کو پیسے دینا بھی آسان نہیں۔ چند احتیاطی تدابیر سے بعض کمبل گھر میں ہی دھوئے جاسکتے ہیں۔

سب سے پہلے کمبل کو کھلی جگہ پر اچھی طرح جھاڑیں اور کچھ دیر ہوا یا ہلکی دھوپ لگوائیں۔ اس سے گرد اور بند جگہ کی بو کم ہوسکتی ہے۔ دھونے سے پہلے کمبل کا لیبل ضرور دیکھیں کیونکہ روئی والی رضائیاں، اونی کمبل اور بعض بھاری لحاف مشین میں دھونے کے قابل نہیں ہوتے۔

پاکستانی گھروں میں عام استعمال ہونے والی ڈبل ٹب مشین میں کمبل ڈالنے سے پہلے اس کی گنجائش چیک کریں۔ مشین میں پانی اور مناسب مقدار میں مائع ڈٹرجنٹ شامل کریں، پھر کمبل ڈال کر نرم واش سائیکل چلائیں۔ اگر کمبل بہت بھاری ہو یا مشین کا ٹب صحیح طرح نہ گھومے تو فوراً بند کردیں۔ گیلے کمبل کو چھوٹے اسپن ڈرائر میں زبردستی ڈالنے سے بھی گریز کریں۔

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ زیادہ سرف سے کمبل بہتر صاف ہوگا، لیکن اضافی صابن کپڑے کے ریشوں میں رہ سکتا ہے۔ اس لیے کم مقدار میں مناسب ڈٹرجنٹ استعمال کریں اور صاف پانی سے اچھی طرح دھوئیں تاکہ جھاگ باقی نہ رہیں۔

اگر کمبل مشین میں نہیں سما رہا تو اسے زبردستی ڈالنے کے بجائے بڑے ٹب یا صاف باتھ روم میں دھو سکتے ہیں، بشرطیکہ کپڑا پانی سے دھونے کے قابل ہو۔ ڈٹرجنٹ ملے پانی میں کچھ دیر بھگو کر آہستہ آہستہ دبائیں۔ سخت برش یا زور سے نچوڑنے سے گریز کریں کیونکہ اس سے کپڑا خراب ہوسکتا ہے۔

پاکستان کے کئی علاقوں میں پانی کی قلت بھی ایک مسئلہ ہے۔ اگر کمبل مجموعی طور پر صاف ہے اور صرف چند داغ موجود ہیں تو پورا کمبل دھونے کے بجائے ان جگہوں کو الگ سے صاف کیا جاسکتا ہے۔ اس سے پانی اور وقت دونوں کی بچت ہوگی۔

دھونے کے بعد کمبل کو ایسی جگہ پھیلائیں جہاں ہوا اچھی طرح آتی ہو۔ بھاری گیلے کمبل کو ایک پتلی رسی پر لٹکانے کے بجائے مضبوط اسٹینڈ پر وزن برابر تقسیم کریں۔ وقفے وقفے سے کمبل پلٹتے رہیں تاکہ اندر کی نمی بھی ختم ہوجائے۔ گیلا کمبل تہہ کرکے رکھنے سے بدبو اور پھپھوندی پیدا ہوسکتی ہے۔

پاکستانی گھروں میں استعمال ہونے والی روئی کی رضائیوں کو پانی میں بھگونے سے اندر کی روئی خراب ہوسکتی ہے۔ بہتر ہے کہ ان پر الگ سے دھلنے والا کور استعمال کیا جائے۔ اس طرح بار بار پوری رضائی صاف کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

ہر کمبل کو گھر کی واشنگ مشین میں دھونا مناسب نہیں۔ اگر کمبل بہت بھاری ہے یا اس کے لیبل پر ڈرائی کلیننگ کی ہدایت ہے تو پیشہ ورانہ صفائی بہتر انتخاب ہوگا۔ درست طریقے سے دھونے اور مکمل خشک کرنے سے کمبل کی صفائی برقرار رکھنے کے ساتھ غیر ضروری اخراجات بھی کم کیے جاسکتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US