قصور کے علاقے کنگن پور میں ایک افسوس ناک واقعے نے پورے خاندان کی جان لے لی۔ گاؤں محمود خانیکے میں مبینہ طور پر مضر صحت کھیر کھانے کے بعد بیمار ہونے والے ایک ہی گھر کے پانچوں افراد انتقال کر گئے، جن میں میاں بیوی اور ان کے تین بیٹے شامل ہیں۔
یہ واقعہ چھ روز قبل پیش آیا تھا، جب کھیر کھانے کے کچھ وقت بعد گھر کے تمام افراد کی حالت بگڑنے لگی۔ انہیں فوری طبی امداد کے لیے لاہور جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود کسی کی جان نہ بچائی جا سکی۔
ریسکیو حکام کے مطابق متاثرین میں 40 سالہ قاسم علی، ان کی اہلیہ حسنہ بی بی اور تین بیٹے شامل تھے۔ سب سے پہلے 25 سالہ ناظم کا انتقال ہوا، جس کے بعد اس کے دونوں بھائی بھی دم توڑ گئے۔ بعد ازاں والد قاسم علی اور آخر میں والدہ حسنہ بی بی بھی زندگی کی جنگ ہار گئیں۔
ابتدائی اطلاعات میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کھیر میں چھپکلی گرنے سے وہ مضر صحت ہو گئی تھی، تاہم اس بات کی ابھی تک کوئی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی کہ کھیر میں زہریلا مادہ کیسے شامل ہوا۔
پولیس نے واقعے کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی تھیں اور کھیر کے نمونے بھی جانچ کے لیے حاصل کیے گئے تھے۔ تاہم اب تک ٹیسٹ کے نتائج یا تحقیقات سے متعلق کوئی نئی سرکاری تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
اس المناک واقعے میں ایک ہی گھر کے پانچ افراد کی موت نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جن کے جواب کھانے کے نمونوں کی لیبارٹری رپورٹ اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکیں گے۔