چین نے سمندر میں دنیا کا پہلا موبائل ریسرچ جزیرہ بنانے کا منصوبہ پیش کیا ہے جو شدید سمندری طوفانوں اور بلند لہروں کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جائے گا۔ طیارہ بردار بحری جہاز جتنے حجم کے اس منفرد منصوبے کو 2030 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے جہاں 200 سے زائد سائنسدان تحقیق کر سکیں گے۔
اس منصوبے کا نام ڈیپ سی آل ویدر ریزیڈنٹ فلوٹنگ ریسرچ فیسیلٹی رکھا گیا ہے جسے شنگھائی جیاؤ ٹونگ یونیورسٹی کی جانب سے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کی لاگت 2 ارب 70 کروڑ چینی یوان سے زیادہ بتائی گئی ہے۔
تقریباً 453 فٹ لمبا اور 278 فٹ چوڑا یہ تیرتا ہوا تحقیقی مرکز سمندر کی سطح سے بلند مرکزی عرشے اور جدید لیبارٹریز پر مشتمل ہوگا۔ اس کا ڈیزائن ایسا ہوگا کہ یہ مخصوص تجربات کے دوران جزوی طور پر پانی کے اندر بھی جا سکے گا، جبکہ خراب موسم میں بھی تحقیقی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔
اس جزیرے کو سمندری طوفانوں، بحری حادثات، گہرے سمندر کے ماحول اور زیرِ آب کان کنی کے نظام پر تحقیق کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس کے ذریعے موسم کی تبدیلیوں اور سمندری طوفانوں کی پیشگوئی بہتر بنانے میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔ منصوبے کے مطابق یہ مصنوعی جزیرہ 66 فٹ تک بلند لہروں کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جائے گا اور اسے جوہری دھماکوں سے تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت کے ساتھ تیار کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔