خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمٰن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ زیرِ غور نہیں تھا، اس لیے ان کی وہاں موجودگی ضروری نہیں تھی۔ دونوں رہنماؤں نے قومی اسمبلی میں تہران اجلاس، کشمیر کمیٹی، معدنیات اور گورنر راج سمیت مختلف سیاسی و آئینی معاملات پر ایک دوسرے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران میں ہونے والی ملاقاتوں کا تعلق کسی دفاعی معاہدے یا دفاعی اجلاس سے نہیں تھا، اس لیے وہاں ان کی موجودگی ضروری نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ کوئی دفاعی معاہدہ زیرِ غور تھا اور نہ ہی کسی ملک کا وزیرِ دفاع اس عمل کا حصہ تھا۔
جمعرات کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے ایک روز قبل مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے بدھ کو ایوان میں خطاب کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ ایران میں دفاعی امور سے متعلق اہم اجلاس ہو رہا ہے، لیکن پاکستان کے وزیرِ دفاع اس میں شریک نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ وزیرِ دفاع اور وزیرِ خارجہ ایوان میں موجود ہیں جبکہ وزیر داخلہ تہران میں بیٹھے ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ ایسے موقع پر پاکستان کی نمائندگی اور متعلقہ وزرا کی عدم موجودگی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اپنی تقریر کے دوران انھوں نے خواجہ آصف کی 2014 کی ایک تقریر کے بعض جملوں کا حوالہ بھی دیا تھا۔
آج اس خطاب کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے اعتراضات حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔
اُنھوں نے اپنی تہران میں عدم موجودگی پر اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ہونے والی سرگرمیاں وزارتِ دفاع کے مینڈیٹ کا حصہ نہیں تھیں، اس لیے اُن کی موجودگی ضروری نہیں تھی۔ ان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر وہاں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی کوششوں کے سلسلے میں موجود تھے۔
مولانا فضل الرحمٰن کی گذشتہ روز کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف نے ان پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مذہب اور سیاست کو کمائی کا ذریعہ نہ تحریکِ انصاف نے بنایا ہے اور نہ کسی دوسری جماعت نے، بلکہ ان کے بقول ایک ہی جماعت ہے جس نے مذہب اور سیاست کو مفادات کے لیے استعمال کیا ہے۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن بینچوں سے احتجاج اور نعرے بازی پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے طنزیہ انداز میں کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے دفاع کے لیے اب کوئی مرد باقی نہیں رہا، اس لیے خواتین کو میدان میں آنا پڑا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ بحث کسی اور رخ اختیار کرے، تاہم گذشتہ روز جن باتوں کا ذکر کیا گیا، ان پر وضاحت دینا ضروری تھی۔ انھوں نے خبردار کیا کہ ان سے ماضی کی باتیں نہ کھلوائی جائیں۔
یاد رہے مولانا فضل الرحمٰن حالیہ عرصے میں حکومت کے مختلف فیصلوں اور پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ جولائی 2026 میں بھی انھوں نے شدت پسندی سے نمٹنے کی حکومتی حکمتِ عملی پر سوالات اٹھائے تھے، جس پر حکومت اور جے یو آئی (ف) کے درمیان سخت بیان بازی دیکھنے میں آئی تھی۔
’حصہ مل جائے تو خاموشی، اور حصہ نہ ملے تو تنقید‘: خواجہ آصف کا الزام
وزیر دفاع خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمٰن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’حصہ مل جائے تو خاموشی، اور حصہ نہ ملے تو تنقید‘ کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔
خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ اگر حکومت خیبر پختونخوا میں بعض لوگوں کو اقتدار میں حصہ دے دیتی تو گذشتہ روز کی تنقید سننے کو نہ ملتی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہہ رہے ہیں۔
کشمیر کمیٹی کی سابق سربراہی کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے سوال اٹھایا کہ مولانا فضل الرحمٰن تقریباً دس برس تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے، لیکن کشمیر کے لیے ان کی عملی خدمات کیا تھیں، سوائے مراعات حاصل کرنے کے۔
وزیرِ دفاع نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں ان کی اپنی جماعت سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں اور اقتدار کے حصول کے لیے بعض سیاسی سمجھوتے نہیں کرنے چاہیے تھے۔ ان کے بقول ایسے اتحادوں کے بجائے حزبِ اختلاف میں بیٹھنا بہتر ہوتا ہے جن کے نتیجے میں حکومت کو مسلسل دباؤ اور بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑے۔
خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن چاہتے ہیں کہ انھیں خصوصی اہمیت دی جائے اور حکومت میں شامل کرنے کے لیے ان سے رابطے کیے جائیں۔
اپنی تقریر کے اختتام پر انھوں نے کہا کہ سینئر سیاست دانوں کو عوام کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ سیاست ذاتی، گروہی یا مفاداتی بنیادوں پر نہیں بلکہ آئین اور ملک کی سالمیت کے لیے کی جانی چاہیے۔

حکومت آئینی تقاضے پورے کیے بغیر فیصلے کر رہی ہے: مولانا فضل الرحمٰن کا الزام
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ماضی میں جب ان کی جماعت نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ عالمی طاقتیں اور بعض بااثر حلقے خطے کے معدنی وسائل میں دلچسپی رکھتے ہیں اور دہشت گردی کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، تو ان پر تنقید کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج معدنیات کے حوالے سے جو بحث ہو رہی ہے، وہ ان کے خدشات کو تقویت دیتی ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان پر امریکی حملے کے لیے دہشت گردی کو جواز بنایا گیا، جس کے نتیجے میں افغانستان سمیت کئی مسلم ممالک عدم استحکام کا شکار ہوئے۔ مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق اس پوری صورتحال کے اثرات مسلم دنیا پر مرتب ہوئے۔
جے یو آئی کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ جب وہ دہشت گردی اور معدنی وسائل کے درمیان تعلق کی بات کرتے تھے تو ان کے مؤقف کو مسترد کیا جاتا تھا، لیکن آج مختلف حلقوں کی جانب سے معدنیات کے موضوع پر کھل کر بات کی جا رہی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ بھی اس حوالے سے اپنی دلچسپی کا اظہار کر چکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ مکمل اطمینان اور معلومات کی بنیاد پر مؤقف اختیار کرتے ہیں اور بغیر تحقیق کے کوئی بات نہیں کرتے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے گورنر راج سے متعلق آئینی نکات بھی اٹھائے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق صدرِ مملکت اس وقت گورنر راج نافذ کر سکتے ہیں جب وہ اس بات پر مطمئن ہوں کہ کسی صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے اور حکومت آئینی طریقے سے نہیں چل رہی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ دستاویز میں صدر کے اطمینان کا واضح ذکر موجود نہیں، اس لیے آئینی تقاضے مکمل نہیں کیے گئے۔
انھوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جاری احتجاج پر بھی بات کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کے حل کی طرف بڑھے۔