پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں ہونے دیں گے، وزیراعظم

image

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ عوام پر منتقل ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، ملک میں فیول سبسڈی پروگرام کامیابی سے جاری ہے، جس سے اب تک ساڑھے سات کروڑ افراد مستفید ہو چکے ہیں، جبکہ اس مد میں تقریباً 28 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جاچکی ہے۔ ایل این جی کی درآمد سے اربوں روپے کمانے والے مافیا کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب شفافیت اور مسابقت کی بنیاد پر ایل پی جی کی درآمد کا نظام وضع کیا گیا ہے۔

بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام اور کشیدگی میں کمی کے لیے مخلصانہ سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ گزشتہ ہفتے پاکستانی وفد نے دو مرتبہ تہران کا دورہ کیا، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی تہران میں اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں، جن میں پاکستان، سعودی عرب، ایران اور ترکیہ کے درمیان علاقائی تعاون اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کیا ہے۔ جمعہ کو پٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا گیا، اس سلسلے میں وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور ان کی ٹیم نے ریفائنریز سے مذاکرات کیے اور انہیں اضافی بوجھ خود برداشت کرنے پر آمادہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ فیول سبسڈی پروگرام کامیابی سے جاری ہے اور دسمبر کے آخر تک جاری رہے گا۔ اب تک ڈیڑھ کروڑ افراد ٹوکن استعمال کر چکے ہیں، جن سے تقریباً ساڑھے سات کروڑ افراد مستفید ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ سبسڈی پروگرام میں بدعنوانی یا بے ضابطگی کرنے والے پٹرول پمپس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، ایسے پٹرول پمپس بند کرکے ذمہ داران کو سزا دی جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے کئی دہائیوں بعد ایل این جی مافیا سے چھٹکارا حاصل کیا ہے، جو ایل این جی کی درآمد سے اربوں روپے کما رہا تھا۔ اب پی ایس او اور پارکو جیسے سرکاری اداروں کے ذریعے شفاف اور مسابقتی بنیادوں پر ایل پی جی کی درآمد اور انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ مقامی ایل پی جی کی نیلامی بھی مسابقتی بنیادوں پر ہوگی اور اس سے حاصل ہونے والا فائدہ عوام کو سبسڈی کی صورت میں منتقل کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا ترقیاتی پیکیج دیا گیا ہے، جس میں سکیورٹی کو خصوصی ترجیح حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر بھرپور اقدامات کریں گی۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان طویل عرصے سے دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم فورسز کی قربانیوں اور پوری قوم کی دعاؤں سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔ 2018 میں دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا گیا تھا، تاہم بدقسمتی سے اس نے دوبارہ سر اٹھایا۔

وزیراعظم نے موسم سرما کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بحری راستوں میں رکاوٹوں اور ایندھن کی فراہمی سے متعلق صورتحال کا ہر دوسرے یا تیسرے روز جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ ایل پی جی اور پٹرولیم مصنوعات کی طلب پوری کی جائے، بجلی کے کارخانے چلتے رہیں اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے اضافے کا دباؤ عوام تک منتقل نہ ہو۔

انہوں نے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کو گروپ آف 24 (G-24) کی چیئرمین شپ ملنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ملنے والی اس عزت اور ذمہ داری کو پوری محنت سے نبھایا جائے گا۔

وزیراعظم نے پاکستان کے پہلے مقامی طور پر تیار کردہ فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے کامیاب تجربے پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کامیابی کا سہرا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ان کی ٹیم، متعلقہ اداروں اور ماہرین کو جاتا ہے۔

اجلاس کے دوران وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے وزیراعظم کو ایل پی جی کی درآمد اور اس حوالے سے کیے گئے انتظامات پر بریفنگ بھی دی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US