کہیں آپ بھی ترس کے نام پر دھوکہ تو نہیں کھارہے؟ ۔۔۔ بھکاریوں کو پیسے دینے سے پہلے ایک بار ضرور سوچ لیں

image

آپ کسی بازار میں ہوں یا ٹریفک سگنل پر کھڑے ہوں یہاں پیشہ ور بھکاریوں سے آپ کا واسطہ ضرور پڑتاہے لیکن انتہائی خستہ حالت اور جذباتی جملوں سے آپ سے پیسے اینٹھنے والے ان گداگروں کی اصلیت آپ کے سامنے آجائے تو اپنی سخاوت اور ان جعلسازوں کے ہاتھوں بیوقوف بنے پر آپ کے ہوش اڑ جائینگے۔

دوستو جگہ جگہ لوگوں کو مجبوریوں کے قصے سناکر اور اپنی فرضی چوٹیں دکھا کر بیوقوف بناکر پیسے اینٹھنے والے یہ بھکاری ضرورت مند نہیں بلکہ پیشہ ور گداگر ہوتے ہیں۔ ان کو باقاعدہ بھیک مانگنے کی تربیت دی جاتی ہے اور یہاں جو جتنی بری اور خستہ حالت میں ہوگا اس کا دام بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے کیونکہ اس کی ظاہری حالت کو دیکھ کر لوگ ترس کھاکر زیادہ پیسے دیتے ہیں۔

یہ پیشہ ور بھکاری ملک کے مختلف گاؤں دیہاتوں سے شہروں کا رخ کرتے ہیں اور کچی آبادیوں، پل اور ندی کناروں پر اپنے پڑاؤ ڈال کر بسیرہ کرتے ہیں اور انتظامیہ بھی اکثر ان کو غریب جان کر رہنے کی اجازت دے دیتی ہے جبکہ اکثر اوقات انہیں ہٹانے کیلئے آپریشن بھی کئے جاتے ہیں تاہم انسانی ہمدردی کی آڑ میں یہ پیشہ ور بھکاری جہاں پڑاؤ ڈال دیں وہاں سے آسانی سے جاتے نہیں ہیں۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ گداگری میں بچوں کو خاص اہمیت خاصل ہوتی ہے کیونکہ لوگ بچوں کو دیکھ کرزیادہ ترس کھاتے ہیں۔ جن بھکاریوں کے اپنے بچے ہوتے ہیں ان کی تو کمائی ڈبل ہوجاتی ہے لیکن اکثر پیشہ ور بھکاریوں کے پاس نظر آنے والے بچے ان کے اپنے نہیں ہوتے بلکہ یہ بچے کرائے پر بھی دستیاب ہوتے ہیں اور اس مقصد کیلئے ملک کے مختلف علاقوں سے بچوں کو اغواء بھی کیا جاتا ہے۔

دوستو جس طرح کوئی دکاندار اپنی اشیاء کو سجا کر خریداروں کو راغب کرتا ہے اسی طرح یہ پیشہ ور بھکاری دردناک چوٹیں، معذوری اور زخم دکھا کر لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ دردناک چوٹیں، معذوری اور زخم سب فرضی ہوتے ہیں اور اس کیلئے جسم پر اکثر پٹیاں باندھ کر اوپر پائیوڈین ڈال دیا جاتا ہے یا مختلف طریقوں سے فرضی چوٹیں اور رپورٹس دکھا کر لوگوں کو بیوقوف بنایا جاتا ہے۔

جس طرح کسی بھی کاروبار کیلئے جگہ باقاعدہ الاٹ کروائی جاتی ہے اور اس کارورباری افراد کی یونین ہوتی ہے یہاں مختلف بااثر افراد اس کام کی سرپرستی کرتے ہیں اور ان کی اپنی یونین بھی ہوتی ہے جو باقاعدہ اس مذموم کام میں ملوث لوگوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔

بھیک مانگنے کیلئے علاقوں اور مختلف مقامات کی بولیاں لگتی ہیں اور بولی جیتنے والا ٹھیکیدار اپنے بھکاریوں کو وہاں بھیک مانگنے کیلئے چھوڑ دیتا ہے، ان گداگروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے اور ٹھیکیداروں کے نمائندے ان پر نظر رکھتے ہیں۔

یہاں پولیس اور شہری انتظامیہ بھی انہیں کچھ نہیں کہہ سکتی اور یہ گداگر کسی دوسرے کو اپنی حدود میں بھیک مانگنے کی قطعی اجازت نہیں دیتے اور زبردستی دوسرے کی جگہ بھیک مانگنے والے کے ساتھ مارپیٹ اور جھگڑے کے واقعات بھی عام ہیں۔

شہریوں کیلئے حقیقی ضرورت مند اور پیشہ ور بھکاری میں فرق کرنا بہت مشکل امر ہوتا ہے اور اکثر لوگ کسی کو منع کرنے کے بعد پشیمانی کاشکار بھی ہوجاتے ہیں کہ شائد سامنے والا حقیقت میں ضرورت مند نہ ہو تو ایسے میں آپ کوشش یہ کریں کہ اس کو نقد رقم دینے کے بجائے کھانا، راشن یا دیگر ضروری سامان خرید کردیں اور آپ چاہیں تو تصدیق کیلئے اس کے ساتھ بھی جاسکتے ہیں اور مکمل تسلی ہونے کے بعد اس شخص کی مدد کرنے سے آپ کو قلبی سکون و اطمینان بھی محسوس ہوگا۔


مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.