ایک رقص پر دولت اور شہرت ۔۔ ہمارے معاشرے کیلئے آئیڈیل کون؟

image

سوشل میڈیا پر گزشتہ چند روز سے ایک ڈانس ویڈیو کا چرچا ہے، شادی کی تقریب میں ایک لڑکی کے ڈانس کی ویڈیو وائرل ہوئی جس کے بعد لڑکی کو کروڑوں روپے ملنے کی اطلاعات ہیں، ہمارے معاشرے میں جہاں بیروزگاری اور بے پناہ معاشی مسائل ہیں کیا وہاں اب سب کو ناچ گانے کی ویڈیوز بنانا شروع کردینی چاہئیں؟۔

پاکستان میں سوشل میڈیا پر گزشتہ کئی روز سے عائشہ عرف مانو کے (میرا دل یہ پکارے )گانے پر ڈانس کی ویڈیو کے چرچے ہورہے ہیں۔اپنی دوست کی شادی پر ڈانس کرکے مشہور ہونے والی عائشہ عرف مانو نے یہ ڈانس کیوں کیا اور ویڈیو کیسے وائرل ہوئی آیئے آپ کو بتاتے ہیں۔

اس وقت ٹک ٹاکر کی وباء پاکستان کے کونے کونے میں پھیل چکی ہے۔تھوڑی سی تفریح اور شہرت کیلئے نوجوان لڑکیاں اور خواتین گھر میں ویڈیوز بنانے میں مصروف ہیں۔اس سے پہلے کہ عائشہ عرف مانو کی ویڈیو کے بارے میں بات کریں آپ کو یاد دلاتے چلیں کہ ہم ایک اسلامی ریاست کے باسی ہیں۔

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اسلام کا قلع ہونے کے بعد پاکستان میں اسلامی اقدار اور تعلیمات کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہورہی ہے۔اسلامی معاشرے میں ناچ گانا اور خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کا نامحرموں کے سامنے ایسا ڈانس کسی صورت اسلامی ملک میں قابل تقلید اقدام نہیں ہوسکتا۔

قابل افسوس بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں اسلامی اور معاشرتی اقدار کی دھجیاں اڑانے میں ہمارا مین اسٹریم میڈیا بھی پیش پیش ہے۔عائشہ نامی ٹک ٹاکر لڑکی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اپنے بچپن کی سہیلی کی شادی پر ایک فرمائشی گانے پر ڈانس اس کو ایسی شہرت سے نوازے گا۔

عائشہ نے تقریب میں ڈانس تو کیا لیکن اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر راتوں رات وائرل ہوگئی۔ حیرت اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ویڈیووائرل ہونے پر عائشہ کے اہل خانہ نے کوئی خاص ری ایکشن نہیں دیا۔

معاشرتی اقدار کی ناقدری کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ عائشہ کے والدین نے ڈانس کی ویڈیو وائرل ہونے پر شرمندگی کے بجائے الٹا مانو کو ہی شاباشی دی اور اس کے ڈانس کو خوب سراہا۔

پاکستان میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے پہلے ایک نوجوان لڑکی کو ایک عجیب و غریب جملے کی وجہ سے شہرت ملی اور حیرت کی بات تو یہ کہ وہ اب پاکستان کی شوبز اسٹار بن چکی ہے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ ارشد چائے والاصندل خٹک اور پاؤں کی ٹھوکر سے حکمرانوں کے دروازے کھولنے والی حریم شاہ بھی ایسی ہی ویڈیوز کی وجہ سے مشہور ہوئیں۔

دوستو حیرت کی یا شرمناک بات تو یہ ہے کہ ان لوگوں کے فالوررز کی تعداد ایسی نازیبا اور شرمناک ویڈیوز کے بعد سیکڑوں یا ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں بڑھتی ہے۔

سوشل میڈیا بھی ایسے لوگوں کو ہیرو بناکر پیش کرتا ہے اور ویڈیوز سے کمائی کیلئے ایسے ایسے شرمناک کام کئے جاتے ہیں کہ دیکھنے والے دانتوں تلے انگلیاں دبالیتے ہیں۔

پاکستان میں ارفع کریم رندھاو، مریم مختیار، جسٹس عائشہ ملک، جنرل نگار جوہر، شازیہ پروین اور ثناء میر ہی نہیں بلکہ سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے والی پانچ شیر بہنیں بھی ہیں جن سے شائد ہی لوگ واقف ہوں۔

یہاں سب سے افسوس کی بات تویہ ہے کہ ایسے لوگوں کو ہم اور آپ ہی مشہور کرتے ہیں کیونکہ اگر ہم ایسی ویڈیوز کو پذیرائی نہ دیں تو شائد یہ لوگ ایسے کاموں سے خود ہی باز آجائیں۔

اب ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہمیں اپنے معاشرے کو ایسے بیہودہ رقص کی طرف لے کر جانا ہے یا اپنی بیٹیوں کو مریم مختیار، ارفع کریم اور ایسے شاندار کارناموں سے شہرت پانے والی خواتین کو ہیرو بنانا ہے۔


مزید خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.