جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو Bina
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے Bina
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے Bina
ایک خوبصورت غزل تم نے مجھے چھوڑا، ہم مرے تو نہیں
ہم نے دنیا والوں کو چھوڑا، دنیا تو نہیں
آ بیٹھے ہیں خلوت میں کہیں دور
مزاج میرا بدلا ہے، زمانہ تو نہیں
بدلے ہیں میں نے اپنے معاملاتِ زندگی
اس میں مرا کوئی کمال تو نہیں
سلسلے توڑ آیا محبت کے کہیں سارے
مجھ کو بھاتا اب اُس کے چہرے کا جمال بھی نہیں
میں جنگل میں خیمہ زن ہوئے بیٹھا ہوں، زیب
وہ ملتا تو لالٹین کی ضرورت بھی نہیں
اسے مری رنجشوں سے اگر فرق پڑتا
برملا نہ کہتی کہ اب مجھ کو تری ضرورت تو نہیں
چھوڑ آیا ہوں اپنے پیچھے پیار کرنے والی خدائی بھی
اے خدا! اب مجھے اس خدائی کی بھی ضرورت تو نہیں
Zohaib sarwar
ہم نے دنیا والوں کو چھوڑا، دنیا تو نہیں
آ بیٹھے ہیں خلوت میں کہیں دور
مزاج میرا بدلا ہے، زمانہ تو نہیں
بدلے ہیں میں نے اپنے معاملاتِ زندگی
اس میں مرا کوئی کمال تو نہیں
سلسلے توڑ آیا محبت کے کہیں سارے
مجھ کو بھاتا اب اُس کے چہرے کا جمال بھی نہیں
میں جنگل میں خیمہ زن ہوئے بیٹھا ہوں، زیب
وہ ملتا تو لالٹین کی ضرورت بھی نہیں
اسے مری رنجشوں سے اگر فرق پڑتا
برملا نہ کہتی کہ اب مجھ کو تری ضرورت تو نہیں
چھوڑ آیا ہوں اپنے پیچھے پیار کرنے والی خدائی بھی
اے خدا! اب مجھے اس خدائی کی بھی ضرورت تو نہیں
Zohaib sarwar
گلدستہ محبت کا غزل گلدستہ محبت کا مرے ساتھ ہے
الفت تم سے ایسی پکڑ کر ہاتھ ہے
تم سے ملکر الگ احساس جاناں
لگتا ہے باغ گلاب مرے ساتھ ہے
میں نے حقیقت میں جانا کچھ
پکڑا تیرا ہاتھ لگا مہتاب مرے ساتھ ہے
تم نے کہا ہلنا مت میں نے جنبش نہ کی
ڈر لگا بہت لیکن کہا جناب مرے ساتھ ہے
زیب فطرت میں ہی محبت مری
تو شروع سے ہی بے وفا کہ ساتھ ہے
مومن زمانے میں آینہ نہیں دیکھتا
بکھرے بالوں میں حیوانیت اسکے ساتھ ہے Zohaib sarwar
الفت تم سے ایسی پکڑ کر ہاتھ ہے
تم سے ملکر الگ احساس جاناں
لگتا ہے باغ گلاب مرے ساتھ ہے
میں نے حقیقت میں جانا کچھ
پکڑا تیرا ہاتھ لگا مہتاب مرے ساتھ ہے
تم نے کہا ہلنا مت میں نے جنبش نہ کی
ڈر لگا بہت لیکن کہا جناب مرے ساتھ ہے
زیب فطرت میں ہی محبت مری
تو شروع سے ہی بے وفا کہ ساتھ ہے
مومن زمانے میں آینہ نہیں دیکھتا
بکھرے بالوں میں حیوانیت اسکے ساتھ ہے Zohaib sarwar
رات ہے بات ہے تم سجھو تو بات ہے رات ہے بات ہے تم سمجھو تو بات ہے
رات ہے بات ہے تم سمجھو تو بات ہے
نگاہ ہے منتظر تم دیکھو تو بات ہے
تم مجھ سے پیار کرتے ہو مجھ سے
محبوب میرے تم کہہ دو تو بات ہے
دل نہ لگے پل بھی تم بن بن تمھارے
پل پل ہرپل تم سنگ ہو تو بات ہے
نہیں جاؤ کہیں بینا مجھے چھوڑ کر تم
ہماری مان جاؤ تم تو تو بات ہے Bina
رات ہے بات ہے تم سمجھو تو بات ہے
نگاہ ہے منتظر تم دیکھو تو بات ہے
تم مجھ سے پیار کرتے ہو مجھ سے
محبوب میرے تم کہہ دو تو بات ہے
دل نہ لگے پل بھی تم بن بن تمھارے
پل پل ہرپل تم سنگ ہو تو بات ہے
نہیں جاؤ کہیں بینا مجھے چھوڑ کر تم
ہماری مان جاؤ تم تو تو بات ہے Bina