بجھا دیئے گئے تو کیا دیے تھے ہم تو ماند سے بجھا دیئے گئے تو کیا
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا Rasheed Hasrat
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا Rasheed Hasrat
گلزارِ درد کون کہتا ہے مے کشی ہے حرام
یہ سنا تھا کہ بے خودی ہے حرام
کس طرح لوگ خون پیتے ہیں
آدمی پر تو آدمی ہے حرام
یوں رہا ملنے سے خدا تم کو
عشق نہ ہو تو بندگی ہے حرام
آج سرخی لگائی ہے اس نے
میرے ہونٹوں پہ تشنگی ہے حرام
ایک پل چین کا نہیں ملتا
عاشقی میں تو زندگی ہے حرام
تم سے مل کر مجھے خوشی ہے وہ !
مر نہ جاؤں کہ خودکشی ہے حرام
تیری آنکھوں سے یہ ہوا معلوم
کس لیے مےکشی ہوئی ہے حرام
گھر کے سارے چراغ گُل کر دو
شبِ فرقت میں روشنی ہے حرام
تیوری کیوں چڑھائی ہے تم نے
حسن والوں پہ بے رخی ہے حرام
صرف ذکرِ شباب اور ساغر
دردؔ تیری تو شاعری ہے حرام Abdul Rehman
یہ سنا تھا کہ بے خودی ہے حرام
کس طرح لوگ خون پیتے ہیں
آدمی پر تو آدمی ہے حرام
یوں رہا ملنے سے خدا تم کو
عشق نہ ہو تو بندگی ہے حرام
آج سرخی لگائی ہے اس نے
میرے ہونٹوں پہ تشنگی ہے حرام
ایک پل چین کا نہیں ملتا
عاشقی میں تو زندگی ہے حرام
تم سے مل کر مجھے خوشی ہے وہ !
مر نہ جاؤں کہ خودکشی ہے حرام
تیری آنکھوں سے یہ ہوا معلوم
کس لیے مےکشی ہوئی ہے حرام
گھر کے سارے چراغ گُل کر دو
شبِ فرقت میں روشنی ہے حرام
تیوری کیوں چڑھائی ہے تم نے
حسن والوں پہ بے رخی ہے حرام
صرف ذکرِ شباب اور ساغر
دردؔ تیری تو شاعری ہے حرام Abdul Rehman
قفس نشیں دل اگرچہ میرے پاس روابط کے تمام ذرائع ہیں میسر،
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
Malaika Khan
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
Malaika Khan
پرانی یادوں کی خوشبو وہ پرانے دن وہ باتیں وہ زمانہ یاد ہے
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
Mohammed Masood
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
Mohammed Masood
غموں کا سمندر ہے سینے میں ساقی غموں کا سمندر ہے سینے میں ساقی
مگر اک تبسم ہے جینے میں ساقی
عجب آگ سی ہے مرے دل کے اندر
مزا آ رہا ہے یہ پینے میں ساقی
نہ باقی رہی کوئی خواہش دلوں میں
سکوں آ گیا سب کو کھونے میں ساقی
کئی خواب ٹوٹے کئی دل ہیں بکھرے
گئی بیت عمریں ہیں چننے میں ساقی
وفاؤں کے بدلے ملا درد ایسا
لگی عمر ساری سنبھلنے میں ساقی
چھپا رکھے ہیں زخم دنیا کی خاطر
مگر درد شامل ہے ہنسنے میں ساقی
کہاں اب وہ خوشبو، کہاں وہ اجالے
مزا کچھ نہیں اس زمانے میں ساقی
یہ دنیا تو آخر سرائے فغاں ہے
بھلا کون خوش ہے جینے میں ساقی Ab Shahzad
مگر اک تبسم ہے جینے میں ساقی
عجب آگ سی ہے مرے دل کے اندر
مزا آ رہا ہے یہ پینے میں ساقی
نہ باقی رہی کوئی خواہش دلوں میں
سکوں آ گیا سب کو کھونے میں ساقی
کئی خواب ٹوٹے کئی دل ہیں بکھرے
گئی بیت عمریں ہیں چننے میں ساقی
وفاؤں کے بدلے ملا درد ایسا
لگی عمر ساری سنبھلنے میں ساقی
چھپا رکھے ہیں زخم دنیا کی خاطر
مگر درد شامل ہے ہنسنے میں ساقی
کہاں اب وہ خوشبو، کہاں وہ اجالے
مزا کچھ نہیں اس زمانے میں ساقی
یہ دنیا تو آخر سرائے فغاں ہے
بھلا کون خوش ہے جینے میں ساقی Ab Shahzad
نہ جینے میں ساقی نہ۔مرنے میں ساقی نہ جینے میں ساقی
مری دفن حسرت ہے سینے میں ساقی
غموں کی حکومت ہے دل پر مسلسل
خوشی رہ گئی ہے خزینے میں ساقی
نہ آنسو رکے ہیں نہ آہیں تھمی ہیں
عجب درد ہے اس مہینے میں ساقی
وہی زخم تازہ، وہی یادِ جاناں
نیا کچھ نہیں اس قرینے میں ساقی
محبت کی قیمت چکائی ہے ہم نے
کمی کچھ نہیں ہے پسینے میں ساقی
جنہیں دل کا مالک بنایا تھا ہم نے
وہ مصروف ہیں اور نگینے میں ساقی
نہ دنیا نے سمجھا نہ اپنوں نے جانا
رہا عمر بھر اس دفینے میں ساقی
مرے دل کی بستی اجڑتی رہی ہے
مگر لوگ خوش ہیں کمینے میں ساقی Ab Shahzad
مری دفن حسرت ہے سینے میں ساقی
غموں کی حکومت ہے دل پر مسلسل
خوشی رہ گئی ہے خزینے میں ساقی
نہ آنسو رکے ہیں نہ آہیں تھمی ہیں
عجب درد ہے اس مہینے میں ساقی
وہی زخم تازہ، وہی یادِ جاناں
نیا کچھ نہیں اس قرینے میں ساقی
محبت کی قیمت چکائی ہے ہم نے
کمی کچھ نہیں ہے پسینے میں ساقی
جنہیں دل کا مالک بنایا تھا ہم نے
وہ مصروف ہیں اور نگینے میں ساقی
نہ دنیا نے سمجھا نہ اپنوں نے جانا
رہا عمر بھر اس دفینے میں ساقی
مرے دل کی بستی اجڑتی رہی ہے
مگر لوگ خوش ہیں کمینے میں ساقی Ab Shahzad
ازل سے گونچتی آئی ہے صدا کربل کے پیچھے ازل سے گونجتی آئی صدا کربل کے پیچھے
خدا کی مصلحت تھی ہر ادا کربل کے پیچھے
جھکایا سر نہ باطل پر، کٹایا سر خوشی سے
یہی اک راز ہے زندہ بقا کربل کے پیچھے
زمینِ دشت پر سجدے نے ایسا رنگ بکھرا
نظر آتی ہے رب کی کبریا کربل کے پیچھے
نبیؐ کے دین کی خاطر لٹایا گھر کا گھر جس نے
وہی شبیرؑ ہیں، ساری وفا کربل کے پیچھے
ابھی تک اشک بہتے ہیں دلوں سے یاد میں اُن کی
چھپا ہے درد کا اک سلسلہ کربل کے پیچھے
یزیدی سوچ مٹ جاتی ہے اپنے آپ شہزاد
اگر سمجھو حسینؑ دینِ شہا کربل کے پیچھے Ab Shahzad
خدا کی مصلحت تھی ہر ادا کربل کے پیچھے
جھکایا سر نہ باطل پر، کٹایا سر خوشی سے
یہی اک راز ہے زندہ بقا کربل کے پیچھے
زمینِ دشت پر سجدے نے ایسا رنگ بکھرا
نظر آتی ہے رب کی کبریا کربل کے پیچھے
نبیؐ کے دین کی خاطر لٹایا گھر کا گھر جس نے
وہی شبیرؑ ہیں، ساری وفا کربل کے پیچھے
ابھی تک اشک بہتے ہیں دلوں سے یاد میں اُن کی
چھپا ہے درد کا اک سلسلہ کربل کے پیچھے
یزیدی سوچ مٹ جاتی ہے اپنے آپ شہزاد
اگر سمجھو حسینؑ دینِ شہا کربل کے پیچھے Ab Shahzad