ائمہ کرام بھیک نہیں مانگتے!

(Rizwan Ullah Peshawari, Peshawar)

وسیم بادامی کے پروگرام الیونتھ آورآپ دیکھیں، محترم وزیراعلیٰ کے پی کے پرویزخٹک نے ائمہ کرام کے بارے جوالفاظ استعمال کیے، وہ اعزازیہ پیکج کی روح کے خلاف ہیں، ہمارے دین ودنیا کے سرخرو لوگ ائمہ کرام ہیں،انہیں ائمہ کرام کے ایک آواز پر لوگ اٹھتے اور جھکتے ہیں،یہ ائمہ کرام وہی لوگ ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ نے ایک عظیم مقصداور مشن کے لیے اس دنیا میں پید افرمایا ہے اور وہ مشن نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی مشن ہے،کہ دنیا کے کونے کونے میں اسلام عام ہو جائے،ہر جگہ پر دینِ اسلام کا بول بالا ہو،عوام الناس کی زبانیں اس بارگاہ لایزال کے ذکر میں مشغول ہو،اسی مقصد کے لیے انبیائے کرام کی بعثت ہوتی رہی ،اب چونکہ انبیاء کا سلسلہ بندہوچکا ہے،تویہی علمائے کرام اب اس مشن کو آگے لے کر چلتے ہیں اور چلتے رہیں گے،یہی تو وہی وئمہ کرام ہے کہ ابھی چند دن پہلے بیت المقدس( فلسطین )کے بارے منبرومحراب سے آواز اٹھایا،خوب مظاہرے کئے،وہ تو ہم ہے کہ ٹرمپ کے سامنے دست بستہ کھڑے ہیں، زبان کھولتے ہیں اور نہ ہی کھول سکتے ہیں۔ائمہ کرام وہ خود دار لوگ ہیں،جو اپنے حق کے لیے نہیں بلکہ مملکت خداداد پاکستان کے حق کے لیے لڑتے ہیں،انہی علمائے کرام کو اپنے دوستوں کے وہ کارنامے یاد ہیں جن کی بدولت اس مملکت خداداد کو آزاد کیا گیا۔

مگر افسوس صد افسوس کہ آج کل کے لوگ انہی علمائے کرام کی بولی لگانے میں مصروف نظر آرہے ہیں،اگر ان سے پوچھا جائے کہ آپ لوگوں نے ان ائمہ حضرات کو یہ اعزازیہ دینے کا علان کیوں کیا ہے؟تو وہ کہتے ہیں کہ یہی ائمہ حضرات اگر بھیک مانگتے ہیں تو اس بھیک سے یہ اچھا نہیں کہ ہم ان کو اعزازیہ دیدیں،محترم میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ کس امام نے بھیک مانگا ہے؟تاریخ گواہ ہے کہ آج تک کسی نے نہیں دیکھا کہ کوئی عالم بھوک کی وجہ سے مرا ہو،اسی کی رونا تو ہم روتے ہیں کہ آج کے اس دور میں صرف یہی لوگ ہیں جو مملکت خداداد پاکستان کے محافظین ہیں،مگر آج ان کی بھی سودا ہو رہی ہے۔

آئمہ مساجد ہوشیار رہیں!آئمہ کرام کو معاشی طور پر بے اثر کرنے کے لئے مغربی این جی اوز کی مذموم کوششیں آب وتاب میں ہیں، مغربی اور طاغوتی این جی اوز کے فنڈ سے آئمہ کرام کو ملنے والی فنڈ تنخواہ کی آڑ میں یہ لوگ اپنے مذموم مقاصد میں اپنے آپ کو کامیاب کرنا چاہتے ہیں،مگر مجھے اپنے رب پر اتنا بھروسہ ہے کہ یہ لوگ کبھی بھی منبر نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم پر اپنا تسلط قائم نہیں کر سکیں گے،انہیں لوگوں نے تو ایک مقدس اور عظیم المرتب کام جہاد کو بھی دہشت گردی کا نام دے کر جہاد کو بدنام کرنا چاہااوربالکل اسی طرح رشوت کو ہدیہ کا نام دے کر اپنے پیٹ کو جہنم بنا دیا ہے، اسی طرح بے شمار مذموم مقاصد لے کر اب مغربی این جی اوز کے فنڈ سے آئمہ کرام کو تنخواہ/اعزازیہ کے نام سے بہلا پھسلا کر تنخواہ/اعزازیہ قرار نہیں دیا جاسکتا،وہ کثیر،مذموم اور خطرناک مقاصد کیا ہے ؟ہمیں یقین ہے کہ موجودہ دور کے آئمہ مساجد ان تمام مذموم مقاصد سے یقینا آگاہ ہونگے ،لیکن اگر بعض آئمہ اس سے لا علم ہیں تو یہ بھی ایک المیہ سے کم نہیں۔

آئیں ہم آپکو مختصرا بتاتے ہیں :٭عالمی اداروں کو آئمہ کرام کے مطلوبہ کوائف کی باآسانی فراہمی٭آئمہ کرام کی آزادی کو سلب کرکے انکی بلیک میلنگ ، زبان بندی اور ممبر و محراب کی آزادی پر قدغن لگانا٭ماحول پر اثرانداز ہونے والے علماء کرام کو تبادلے اور ٹرانسفر کے نام پر دور دراز علاقوں میں انکی تعیناتی،جس سے فرقہ وارانہ اور مسلکی تنازعات کوسر اٹھانے کا موقع ملے گا٭چند ماہ کے بعد فنڈ کے خاتمے پر برائے نام تنخواہوں/اعزایہ کی بندش،جس کے بعد قوم آئمہ کے ساتھ مالی تعاون سے بھی ہاتھ روک لے گی،جس سے آئمہ مساجد معاشی طور پر مفلوج ہوکر اپنے فرائض منصبی کا حق ادا نہیں کرسکیں گے اور یہاں سے مسجد اور امام معاشرہ میں بے اثر ہوکر طاغوتی ایجنڈا پایہ تکمیل تک پہنچ جائیگااور یہی سب سے بڑا مذموم مقصد ہے ۔

آخر میں صرف یہ عرض کرنا ضروری چاہتا ہوں کہ یہ لوگ تو عام ائمہ کو دس ہزار کا اعزازیہ دینا چاہتے ہیں تو پہلے وہ لوگ جو ابھی تک محکمہ اوقاف میں کنٹریکٹ پر ہیں ،جن کی تعداد ایک گاؤں کے ائمہ کو بھی نہیں پہنچتا تو پہلے ان کو بحال کر دیا جائے،بعد میں عام ائمہ کو اعزازیہ دیدیں اور دوسری بات یہ کہ محکمہ اوقاف کے کنٹریکٹ خطباء کو ابھی تک جو نو ہزار دوسو روپے تنخواہ دیتے ہیں اور وہ بھی کبھی دو مہینوں کی اکٹھا تو کبھی کئی سارے مہینوں کی تنخواہ شاٹ ہوتی ہے اور عام ائمہ کو دس ہزار!کیا یہ سوچنے کی بات نہیں ہے؟یا تو عام ائمہ کے اس اعزازیہ کو بھی ان کنٹریکٹ کے برابر کر دے یا اس سے کم کردے اور اگر اس طرح نہیں ہونا ہے تو پھر ان کنڑیکٹ والوں کا تنخواہ بڑھا دیا جائے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rizwan Ullah Peshawari

Read More Articles by Rizwan Ullah Peshawari: 162 Articles with 107083 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Dec, 2017 Views: 499

Comments

آپ کی رائے