دوسروں کا صدقہ دینے والوں کا صدقہ کون دے گا؟

(Ishrat Javed, )
خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور چیل گوشت بیچنے والوں کی حالت زار پر رپورٹ

کبھی کبھی زندگی بہت امتحان لیتی ہے ،جب وہ امتحان لینے کا سوچ لے تو پھرعمر کا لحاظ بھی نہیں رکھتی:میرے ذہن میں یہ سوچ اس وقت آئی جب میں نے سبز رنگ کے فراک میں اس ننھی سی بچی کو دیکھا ،آج اس نے سرد موسم کی مناسبت سے فراک اورجرسی جبکہ بند جوتوں اور موزوں کی جگہ کھلی چپل پہنی ہوئی تھی ،میرے دل میں خیال آیا کہ ایسی کون سی مجبوری ہے جس نے اسے یہاں صبح صبح لا کھڑا کیا ہے اس کی عمر کے بچے یا تو سکول جاتے ہیں یااس وقت کمبل اور رضائی میں آرام کر رہے ہوتے ہیں مگر یہ یہاں روزی روٹی کے چکر میں پڑی اپنا بچپن گھر کا بوجھ بانٹنے میں نذر کر رہی ہے ۔میں ہر روز آفس آتے ہوئے کئی افراد کے ساتھ اس بچی کو بھی دیکھتی ہوں وہ بچی جس کا نام میں نہیں جانتی مگر اس کا بچپن اور روزی کمانے کی تگ و دو ایک ساتھ دیکھتی ہوں توپریشان ہو جاتی ہوں۔ ہر روز راوی پل پر اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ ہاتھ میں 10سے 15گوشت کی بنی ہوئی چھوٹی تھیلیاں اٹھائے کھڑے ہوتی ہے،چند سکینڈ کے اندر کبھی اس میں بچوں کی سی شرارت جاگ اٹھتی ہے تو وہ انہی تھیلیوں کو تھامے ہوئے اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ کھیلنے لگتی ہے تو دوسرے لمحے ہی ان کے اندر احساس روزگار پیدا ہوتے ہی اس کابچپنا شعور کی لاتعداد سیڑھیاں ایک ساتھ عبور کر کے سیانوں کی طرح کا م میں جت جاتا ہے۔

میں نے اس کے پاس ایک موٹر سائیکل سوا ر فیملی کو رکتے ہوئے دیکھا تو اس نے خوشی خوشی ان سے پوچھا کہ کتنے روپے کا صدقہ دینا ہے تو انہوں نے اسے 5تھیلیاں گوشت کا صدقہ اتارنے کا کہا تو اس نے اس فیملی کے سر سے پاؤں تک چیل گوشت کو7بار گھماتے ہوئے صدقہ اتارا اس کے بعد اس نے باری باری سب کو گوشت پر ہاتھ لگانے کو کہا اور پھر اس نے ان کی سواری (موٹر سائیکل/کار )کے ساتھ بھی گوشت کولگا کے پل سے نیچے دریا میں پھینک دیا ،گوشت پھینکتے ہی کوئے اور چیل وہاں امڈ آئے اور اس گوشت کو اپنی خوراک بنانے لگے۔گوشت پھینکنے کے بعداور پیسے سنبھالنے کے بعد وہ نئے آنے والے کی آس لگائے وہیں کھڑی رہی۔میں نے اسے اتنی مہارت سے یہ سب کرتے دیکھا تو حیرت زدہ ہو گئی کہ اس چھوٹی سی بچی کو بڑوں کی دیکھا دیکھی سب کرنا آتا ہے۔ وہاں صرف ایک بچی نہیں تھی بلکہ چند قدم کے فاصلے پر آپ کو ایسے کئی افراد نظر آئیں گے جن میں مرد،خواتین ،بچے ،بوڑھے اور معذور افراد شامل ہیں۔یہ لوگ کہاں سے آئے اور اس کاروبار کا آغاز کب ہوا اور کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ سردی ہو یا گرمی،بارش ہو یا آندھی ،آپ کو وہاں ضرور نظر آئیں گے۔

اس کی ایک بہت بڑی وجہ تو یہ ہے کہ مذہب اسلام میں صدقہ کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور مانا جاتا ہے کہ صدقہ ہر بلا کو ٹال دیتا ہے اس لیے ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ صدقہ نکالنے سے مصیبتوں سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے ، اس کے علاوہ مذہب اسلام میں صدقہ کے ساتھ ساتھ زکوۃ کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے زکوۃ تو سال میں ایک بار نکالنے کا حکم ہے جبکہ صدقہ سال میں کسی بھی د ن کسی بھی مقدارمیں کیا جاسکتا ہے۔اسلام انسانیت کی فلاح وبہبود کا مذہب ہے اورصدقہ فلاح انسانیت کاایک ایسا عمل ہے جسے کسی بھی دن اور کسی بھی ساعت میں نکالا جاسکتا ہے لیکن جمعے کے روز کو کیونکہ اسلام میں خاص حیثیت حاصل ہے اس لئے جمعہ کے دن صدقے کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔صدقے اور خیرات کی اہمیت کے لئے واضح قرآنی آیات اورصحیح احادیث متواتر موجود ہیں جن سے صدقے کی اہمیت مسلمہ ہوجاتی ہے اوراسے دنیا اورآخرت دونوں میں نفع بخش قراردیتی ہے۔جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں بیان کیا گیا ہے کہ ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا’’جو کوئی ایک کھجور کے برابر بھی حلال کمائی سے صدقہ کرے، اور اﷲ تعالیٰ حلال کمائی سے ہی صدقہ قبول کرتا ہے۔ (حلال کمائی سے کیا گیا صدقہ) اﷲ تعالیٰ دائیں ہاتھ میں لیتا ہے پھر اس کے مالک کے لئے اسے پالتا(بڑھاتا)رہتا ہے،جس طرح کوئی تم میں سے اپنا بچھڑا پالتا ہے یہاں تک کہ وہ(صدقہ) پہاڑکے برابر ہوجاتا ہے‘‘(رواہ بخاری)۔صدقہ اﷲ تعالیٰ کے غصہ کو دور کرتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے۔ابو سعید رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ’’پوشیدہ صدقہ اﷲ تعالیٰ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے صلہ رحمی عمر میں اضافہ کرتی ہے نیک عمل آدمی کو برائی کے گڑھے میں گرنے سے بچاتی ہے‘‘(رواہ بیہقی)مرثد بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعض صحابہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے ’’قیامت کے روز صدقہ ایماندار کے لئے سایہ ہوگا۔‘‘ (رواہ احمد)۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا’’ صدقہ گناہ کو بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے‘‘۔(ترمذی)۔یہ احادیث بلاشبہ صدقہ کی مسلمہ اہمیت پر روشنی ڈالتی ہیں اس لیے ہر صاحب مسلم حتی کہ غیر مسلم بھی صدقہ کی اہمیت کو جانتے ہوئے ہر مصیبت ،دکھ درد ،بیماری،پریشانی سے نجات حاصل کرنے کے لیے صدقہ کرنا اپنا اولین فرض سمجھتا ہے ۔اب جمعہ،منگل یا کسی بھی دن صدقہ مختلف اشکال،یعنی پیسوں،انڈوں ، گوشت اور دالوں کی شکل میں اپنے اوپر سات بار سر سے پاؤں تک وار کے پھینکا جاتا ہے،اکثر لوگ پانی اور کھلے اور خالی میدانوں میں صدقہ پھینک دیتے ہیں۔انہی سب رواجوں نے اس کو باقاعدہ کاروبار کی شکل دی اور آج آپ کو راستوں میں کہیں نا کہیں یہ لوگ مل جائیں گے اور ان میں سے اکثر تو سائیکل یاموٹر سائیکل پر گلی گلی چکر لگا کر گھریلو خواتین کو چیل گوشت کی سروس فراہم کرتے ہیں ۔ ہمارے ہاں یہ تاثرعام پایا جاتا ہے کہ اگر کوئی شخص نیا کاروبار شروع کرتا ہے جس کے لئے بہت ہی قلیل رقم کی ضرورت ہو اور اگر وہ چل جائے تو اس کے دیکھا دیکھی دوسرے بھی اس کاروبار میں اپنی قسمت آزمانے لگتے ہیں۔ زیادہ پہلے کی بات نہیں ہے لاہو رکی اہم شاہراہ کینال روڈ پر سب سے پہلے صدقے کے گوشت کے لفافے فروخت کرنے والے نظر آنا شروع ہوئے۔ اس وقت ان افراد کی تعداد بہت کم تھی یعنی صرف انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی ان افرادکی قسمت اْس وقت جاگی جب وہاں سے گزرنے والے امراء نے گوشت کا چندروپے کالفافہ پانچ سوروپے میں خریدا، بس پھر کیا تھا دیکھتے ہی دیکھتے کینال روڈ،راوی پل اور سگیاں راوی پل پر صدقے کا غیر معیاری گوشت فروخت کرنے والے مرد، خواتین بچے امڈآئے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ یہ کاروبار کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔یہ لوگ صبح سے شام تک یہاں آپ کو نظر آئیں گے اور روزانہ بڑی تعداد میں لوگ ان سے چیل گوشت خریدتے اور اپنا صدقہ اتار کر پر سکون ہو جاتے ہیں۔

جہاں ایک طرف صدقہ اتارنے والے اور اس کاروبار سے منسلک ہونے والے اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ، وہیں اس کا نقصان بھی ہے جیسے وہاں کی فضاؤں میں تمام دن چیلیں اورکوئے پرواز کرتے دکھائی دیتے ہیں جن کا مقصد پھینکے گئے صدقے کے گوشت کے ٹکڑے کھانا ہے۔ چیلوں اور کوؤں کی بہتاب کی وجہ سے ان علاقوں میں چھوٹے پرندوں نے پرواز کرنا ہی چھوڑ دیاہے۔جس سے ظاہر ہوا کہ صدقے کا گوشت چھوٹے پرندوں کیلئے خطرناک ہے۔کیونکہ جب پرواز کرتے ہوئے ان کا گزر وہاں سے ہوتا ہے تو چیل اور کوے اْن پر حملہ کر دیتے ہیں۔وہ وقت تو ماضی کا حصہ بن چکا ہے جب وہاں چڑیوں، میناؤں،طوطوں کی بہتات ہوتی تھی لیکن اب چیل اور کوئے ان کی راہ کی رکاوٹ ہیں جس سے جہازوں کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے پرندوں کی افزائش نسل متاثر ہونے سے گارڈن برڈز بھی ہجرت کرنے لگے ہیں جس سے شہر کا ایکوسسٹم بھی بگڑکررہ گیا ہے۔ اس ساری سنگینی کو دیکھتے ہوئے ماضی میں بھی ضلعی حکومت نے صدقے کے گوشت کے نام پر غیر معیاری گوشت فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیامگر خط غربت کے نیچے زندگی بسر کرنے والے یہ لوگ اگلے ہی روز وہاں موجود نظر آتے ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ گوشت کہاں سے آتا ہے اورڈپٹی میئر نے بھی اسے غیر معیاری گوشت قرار دیا ہے تبھی ان لوگوں کے خلاف آئے رو ز عوام الناس کو بے وقوف بنانے کے جرم میں کریک ڈاؤن کیا جاتا ہے اس حوالے سے جب روزنامہ انصاف کی ٹیم نے ان لوگوں سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ اس کام کو شروع کرنے کے لیے زیادہ سرمائے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن یہ ایسا بدبو دار کام ہے کہ ہرکوئی اسے کر بھی نہیں پاتا۔کیونکہ یہ واقعی گوشت نہیں ہوتا بلکہ یہ گائے اوربھینس کے پھیپھڑے ہوتے ہیں اور اس کے حصول کے لیے صبح صبح قصائی کے پاس جانا ہوتا ہے وہاں سے گائے بھینس کے پھیپھڑے کے ٹکڑے لانا پڑتے ہیں جن کو گھر لا کر پہلے تو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا جاتا ہے پھر اس کو سرخ رنگ دیا جاتا ہے تاکہ اس میں خون کی چمک دکھائی دے جب یہ گوشت کی شکل میں تیار ہو جاتا ہے تو ہم اسے چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں ڈال کربیچنے کیلیے تیار کر دیتے ہیں ۔اور پھر دن بھر ایک تھیلی کو دس روپے میں بیچنا کسی اذیت سے کم نہیں ہوتا مگر ہم اس سب کے عادی ہو چْکے ہیں۔دوران سروے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ دھوکہ نہیں کہ آپ پھیپھڑوں کو رنگ کر کے گوشت کے نام پر بیچتے ہیں جبکہ صدقہ اتارنے والے تو اسے گوشت ہی سمجھتے ہیں اوران کو تو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ یہ گوشت نہیں ہے جس کا وہ صدقہ اتار رہے ہوتے ہیں۔ان سوالوں کے جواب میں ان لوگوں کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے اس دور میں گوشت تو ہر کسی کی پہنچ میں نہیں ہوتا ،یعنی یہاں کھانے کو ملتا نہیں اور صدقے کے لیے گوشت کہاں سے لائیں اور ویسے بھی 10روپے میں گوشت کا کون سا پیکٹ ملتا ہے ،مگر پھر بھی لوگ اسے خریدتے اور اپنا صدقہ اتارتے ہیں۔

دوران سروے ایک8سالہ اقراء نامی بچی سے بات ہوئی جو رات کے 7بجے بھی راوی کے پل پر کھڑی اپنی روزی کما رہی تھی اس وقت سردی اس قدر تھی مگر وہ بنا موزے کھلی چپل میں وہاں کھڑی تھی البتہ اس نے سویٹر اور ٹوپی پہن رکھی تھی،اقراء نے بتایا کہ اس کا گھر بتی چوک میں ہے اوراسے یہ کام کرتے ہوئے ایک سال ہو گیا ہے اور وہ پیدل یہاں تک آتی ہے،اسے اس کام میں ڈالنے والا اس کا کوئی انکل تھا اور وہ صبح سے لیکر شام تک یہیں صدقہ کا گوشت فروخت کرتی ہے۔میرے سکول نا جانے پر اس نے بتایا کہ پہلے میں سکول جاتی تھی مگر اب نہیں جاتی کیونکہ امی کے پاس نا یونیفارم کے لیے پیسے ہیں نا سکول کی پڑھائی کے لیے،اس لیے امی نے مجھے سکول سے اٹھا کر یہاں کام پر بھیج دیا۔اقراء اپنی عمر سے کافی سیانوں والی باتیں کر رہی تھی میں نے اسے جب پوچھا کہ تم نے بند جوتا اور موزے کیوں نہیں پہنے تو اس کا کہنا تھا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں کہ میں موزے خریدو اور جب میں نے اسے کہا کہ میں تمہاری تصویر بنا سکتی ہوں تو اس نے صاف منع کیا کہ میں تصویر نہیں بنوا سکتی کیونکہ ادارے والے جب میری تصویر دیکھیں گے تو مجھے لے جائیں گے اس سے قبل بھی 2بار مجھے لے جا چکے ہیں ،وہاں سے میری امی مجھے واپس لے آتی ہیں۔

12سالہ عابد کا کہنا ہے کہ وہ صبح کے وقت سکول جاتا ہے اور4بجے یہاں گوشت فروخت کرنے آ تا اور
رات تک یہی کام کرتا ہوں ۔عابد نے بتایا کہ ہم 8بہن بھائی ہیں اور میرے دوسرے بھائی بھی یہی کام کرتے ہیں،مگر وہ سکول نہیں جاتے،بس میں چھٹی جماعت میں پڑھتا ہوں،ہمارے گھر کے اخراجات اس قدر ہیں کہ میرا اس کام کو کرنے کے بغیر گزارا نہیں ہوتا۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بن جاؤں تب میں یہاں کام کرنے والے بچوں کیلیے سکول بناؤں گا اور ان کو وہاں بغیر فیس کے پڑھاؤ گا تاکہ میرے جیسے دوسرے بچے جو تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں پڑھ لکھ کر بڑے آدمی بن سکیں۔ محمد عباس باسٹھ سال کی عمر کو پہنچ چْکے ہیں لیکن روزی روٹی کی فکر ہے کہ انھیں سکون سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے راوی پل پر سڑک کنارے بیٹھ کر دن بھر صدقے کا گوشت فروخت کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ اس عمر میں وہ کوئی اور کام کرنے کے قابل نہیں یہی وجہ ہے کہ انھوں نے صدقے کا گوشت بیچنا شروع کیا وہ دن بھر کی محنت کے بعد 4 سے 5 سو روپے کما لیتے ہیں جن سے وہ اپنا اور اپنی بیوی کا پیٹ باآسانی پال سکتے ہیں۔ عباس کی خواہش ہے کہ وہ سڑک کنارے بیٹھنے کی بجائے سائیکل یا ریڑھی پر گلی محلوں میں گوشت بیچے لیکن اْس کے پاس اتنا سرمایہ نہیں کہ وہ ایک عدد سائیکل ہی خرید سکے۔راوی روڈ کے عرفان علی بھی گزشتہ چار سال سے اسی کام سے منسلک ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ دن بھر سڑک کنارے بیٹھ کر صرف چار پانچ سو روپے کما پانا بے شک ایک بڑی رقم نہیں لیکن وہ مزدوری کے لیے اور کہاں جائیں؟ یہاں کوئی بھی مزدوری دینے کو تیار نہیں۔ بس لوگ گوشت پھینکتے ہیں تو ہماری روزی روٹی چلتی رہتی ہے۔میرے 4 بچے ہیں جو سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پہلے میں مزدوری کرتا تھا لیکن وہاں کبھی دیہاڑی لگتی تھی اور کبھی نہیں۔ جب سے یہ کام شروع کیا ہے، سکون میں ہوں۔رمضان اور صفر کے مہینوں میں کمائی اچھی ہو جاتی ہے کیونکہ بہت سے لوگ زیادہ سے زیادہ ثواب اور بلائیں ٹالنے کے لیے صدقہ دیتے ہیں۔اس کے علاوہ جمعہ اور اتوار کے دنوں میں رش زیادہ ہوتا ہے لیکن اس کاروبار میں افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ اب ہر ایک قدم پر ایک شخص بیٹھا ہے جس کے باعث گاہک تقسیم ہو جاتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اْن کے پاس سائیکل والے سے لے کرگاڑی والے تک ہر طرح کے لوگ آتے ہیں لیکن انھیں گاڑی والوں کا زیادہ انتظارہوتا ہے۔ہر کسی کی اپنی حیثیت ہے۔ سائیکل والے دس روپے، موٹر سائیکل والے تیس چالیس روپے جبکہ گاڑی والے ایک سے پانچ سو روپے تک بھی صدقہ کر دیتے ہیں مگر ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے۔

دلشاد بی بی جو پاس ہی جھگیوں میں رہتی ہے۔وہ بھی صبح سے لے کر شام تک صدقے کا گوشت فروخت کرتی اور اپنے اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتی ہے۔اس نے بتایا کہ ایک تو یہ اتنا آسان نہیں کہ سارا دن یہاں کھڑے ہو اور پھر ہمیں یہاں سکون سے روزی روٹی بھی کمانے نہیں دی جاتی ۔حکومت کے لوگ ہمیں یہاں یہ کام کرنے سے منع کرتے ہیں مگر ہمارے پاس کمائی کا کوئی اور ذریعہ بھی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ میں نے آپ کو اپنی تصویر بنوانے سے بھی منع کیا ہے۔برکت ٹاؤن کے رہائشی امجد علی نے اپنا صدقہ اْتارنے کے لیے دلشاد کے پاس بریک لگائی ۔امجد اس با ت پرایمان کامل رکھتاہے کہ صدقہ ردِ بلا کا ذریعہ ہے۔ان کے مطابق کچھ عرصہ قبل وہ مالی لحاظ سے کافی پریشان تھے ،ان کے قریبی رشتہ دار نے انہیں صدقہ اتارنے کا مشورہ دیا تب سے وہ لگا تار صدقہ اْتارنے لگے ہیں انہوں نے کہا کہ صدقہ اتارنے سے انھیں ذہنی سکون ملتا ہے اور کاروبار بھی اچھا چلتا ہے۔کچھ زیادہ نہیں تو ہمارے چندروپے سے ان غریبوں کی مدد ہو جاتی ہے اور ہم بھی نفسیاتی طور پر پْرسکون رہتے ہیں ۔

18سالہ سارہ نامی لڑکی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ چونکہ صدقہ ہرمصیبت کو ٹالتاہے اسی لئے لوگ ہمارے پاس گوشت خرید کر صدقہ دیتے ہیں ، یہ ضروری نہیں کہ گوشت ہی کے ذریعے صدقہ دیا جائے، اپنے صدقے میں کوئی بھی چیز دی جا سکتی ہے، جیسے نقد رقم یا کھانے والی کوئی چیز۔ میں گوشت اس لئے بیچتی ہوں کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ گوشت کے ذریعے صدقہ دینا زیادہ بہتر ہے جس کی وجہ سے ہمیں زیادہ گاہک میسر آ جاتے ہیں۔ میرے پاس صدقے کے لئے گائے کے پھیپھڑوں کا گوشت ہوتا ہے کیونکہ یہ بہت سستا ہے، صرف دس روپے میں یہ لفافہ دیتی ہوں جس میں گوشت کی آٹھ ، دس بوٹیاں ہوتی ہیں ، اسے صدقہ دینے والے کے گرد سات مرتبہ گھما کر پھینک دیتی ہوں جو چیل کوئے کھا جاتے ہیں اسی لئے اسے’’ چیل گوشت‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ میرا روزانہ کا معمول ہے کہ میں صبح سویرے یہاں آتی ہوں اور چیل گوشت فروخت کر کے 12بجے دوپہر تک فارغ ہو کر گھر چلی جاتی ہوں۔میں روزانہ 300سے400اورکبھی کبھار اس سے زیادہ بھی کما لیتی ہوں ۔میں پچھلے 2سال سے اس کام سے منسلک ہوں۔

اس کی ساتھی ناز نے ہم سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میں یہ کام 1سال سے کر رہی ہوں اس کام میں زیادہ کمائی تو نہیں مگر پھر بھی گھر کی دال روٹی چل رہی ہے۔ناز کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس آنے والے افراد کی اکثریت یہیں پر اپنا صدقہ اتار دیتی ہے اور کچھ لوگ شاپنگ بیگ میں ڈال کر لے بھی جاتے ہیں۔ ایسے افراد عموماً اپنے بیوی بچوں کا صدقہ دینے کے لئے گوشت لے کر جاتے ہیں اور گھر جا کر ان کا صدقہ اتارنے کے بعد گوشت چھت پر یا باہر کھلی جگہ پر پھینک دیتے ہیں۔ جادو ٹونے والے یہ گوشت استعمال نہیں کرتے ، ان کے اپنے ہتھکنڈے ہوتے ہیں وہ اتنا سستا گوشت کیوں لیں گے، کیونکہ انھوں نے کونسا پیسے خود دینا ہوتے ہیں ، پیسے تو بے چارہ وہ بھرتا ہے جو قسمت کا مارا ان کے ہتھے چڑھ چکا ہوتا ہے۔ میرے پاس اچھے لوگ آتے ہیں اور وہ اپنی پریشانیوں کو ختم کرنے کے لیے صدقہ اتار کر اچھا محسوس کرتے ہیں۔

یہ تمام افراد ایک ہی کام سے منسلک ہیں اور ایک ہی بھاؤ پر صدقے کا گوشت فروخت کرتے ہیں ،اسی طرح ان سب کی معاشی پریشانیاں اور روزی روٹی کی فکر ایک جیسی ہی ہوتی ہے ،یہ لوگ ایک دن میں بس اتنا ہی کماپاتے ہونگے کہ ان کے گھر کا چولہا جل سکے ،نا تو یہ لوگ اپنی اس کمائی سے گھر بنا پاتے ہیں اور نااپنی خوشیوں کو معاشی پریشانیوں کے بغیر منا پاتے ہیں۔یقینا ان لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے پھر کریک ڈاؤن کے خوف کے سائے ان لوگوں کے سر پر منڈلاتے رہتے ہیں۔حکوت کو چاہیے کہ ان افراد کی معاشی مدد کرے اور ان کو کسی اور کام سے منسلک کرنے کا انتظام کرے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ishrat Javed

Read More Articles by Ishrat Javed: 69 Articles with 51759 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Jan, 2018 Views: 275

Comments

آپ کی رائے