ایزی شادی

(Ata Ur Rehman Chohan, Islamabad)

شادی ہر جوان کا خواب ہے۔ شادی ایک دینی فریضہ اور ایک سماجی بندھن بلکہ انسانیت کی بقاء کی ضامن۔ ہرفرد کی ضرورت بھی ہے، اس کے باوجود اسے مشکل تر بنا دیا گیا ہے۔ ہم بچپن میں سنتے تھے کہ قیام پاکستان سے قبل مسلمان مہاجنوں سے سود پر قرض لے کر شادی کرتے تھے اور پھر زندگی بھر وہ قرض اتارنے کے لیے جتنے کرتے رہتے تھے۔ تب شادی مرد کے لیے مشکل تھی اور آج جہیز جیسی ہندوانہ رسم نے عورت کے لیے مشکل بنا دی گئی ہے۔

جہیز نے کتنی بچیوں کی جوانیاں اجاڑ رکھی ہیں، کتنے بھائیوں کا سکون اور کتنے والدین کی نیندیں حرم کررکھی ہیں۔ اس کے باوجود پورا سماج اس جہنم کدے سے نجات پر آمادہ نہیں۔ خون کے آنسو پی پی کر اس ناسور کو گلے لگا رکھا ہے۔ ایک ایسا طوق جان بوجھ کر گلے میں لٹکانے پر مجبور ہیں جو تپتے لوہے کی مانند جسم کو بھسم کیے جارہا ہے۔ یہ ایک دون کی بات نہیں صدیوں سے انسانیت اس طوق میں بھسم ہوتی جارہی ہے اور اس کرب میں کتنا چسکا ہے کہ خون آلودہ ہاتھوں سے انسان اس کو اٹھائے ہوئے ہیں۔

میں نے جس خاندان میں آنکھ کھولی وہ الحمدﷲ ان آلائشوں سے آزاد تھا لیکن اپنے اردگرد جب دیکھتا ہوں تو لرزہ سا طاری ہو جاتا ہے کہ بہن اور بیٹی جیسے محبت کرنے والے ہستی اس سماج کے لیے کتنا بڑا بوجھ بنتی جا رہی ہے۔ مائیں تو پیدائش کے دن سے بچی کی ہاتھ پیلے کرنے کی فکر میں گھلتی چلی جاتی ہیں۔ باپ ساری زندگی اسی خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ اس مرحلے کو کیسے عبور کرے گا۔ جن بھائیوں پر گھر کا بوجھ پڑتا ہے وہ اپنی جوانیاں بہنوں کے ہاتھ پیلے کرنے پر قربان کردیتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں کرپشن، عدم اعتدال اور بے رحمی کی ایک بڑی وجہ جہیز ہی ہے۔ جرائم کی دنیا کے واقعات پر نظر ڈال کر دیکھیے 30 فیصد جرائم کی جڑیں جہیز کی پیداوار ہیں۔ گھروں میں اسی فیصد جھگڑے اور بیماریاں بھی اسی ناسور کی پروردہ ہیں۔ خاندانوں میں ناچاکیاں اور نہ ختم ہونے والے تنازعات میں بھی جہیز کا بڑا حصہ ہے۔

مجھے آج اپنے نانا حضور حضرت مولانا عبدالرحمن رحمتہ اﷲ علیہ رہ، رہ کر یاد آتے ہیں۔ ہمارا خاندان بھی اسی طرح کی سینکڑوں ہندوانہ رسومات میں گرفتار تھا۔ شادی پر درجنوں رسومات کا قبضہ تھا۔ مہندی تھی، خرچی تھی، نیدرہ تھا ، پھاجی تھی، بھاری زیورات اور ملبوسات تھے، لمبی چوڑی شرائط اور پابندیاں تھیں۔ جن کے باعث نسلیں مقروض رہتی تھیں اور معاشرہ باہمی کھچاو اور انتشار کا شکار تھا۔ مولانا نے اپنے گھر اور پھر اپنے خاندان سے ہندووانہ اور جاہلانہ رسومات کے خاتمے کا آغاز کیا۔ اس پیغام کی بنیاد اسلامی طرز حیات پر رکھی اور اسے رب کی اطاعت اور عدم اطاعت سے تعبیر کیا۔ رسومات بھی معاشرے میں کتنی سراعت کرجاتی ہیں کہ اصلاح کی جدوجہد کرنے والے کا شکرگزار ہونے کے بجائے سارا سماج مولانا کا دشمن بن گیا۔ حد تو یہ ہے کہ ایک مسلم معاشرہ ہندووانہ رسومات پر اڑ گیا تھا بلکہ ڈٹ گیا تھا۔ ان ہندووانہ رسومات کو اپنے آباؤ اجداد کا طرز زندگی قرار دے کر چھوڑنے پر تیار نہ تھا۔ ہفتے نہیں مہینے نہیں بلکہ سالوں بعد ایک گاوں میں آباد کچھ گھرانوں نے ان شیطانی چکروں سے نجات پائی۔ میں خود کو اس سماج میں سب سے زیادہ خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ ہمارے گھروں میں بیٹیاں اور بہنیں بوجھ نہیں ہیں، الحمدﷲ صدبار الحمدﷲ۔

مجھے یہ بات بھی سمجھ نہیں آتی کہ محمدرسول اﷲ کا کلمہ پڑھنے کے بعد ہندووانہ رسومات کو اختیار کرتے ہوئے پورے معاشرے کو جہیز کی آگ میں جلانے سے آخر حاصل کیا ہورہا ہے۔اس رسم میں آخر ایسی کیا کشش ہے کہ پوری زندگی اس خوف میں جھلسنے اور اپنے خالق و مالک کی ناراضگی مول لینے تک انسان تیار ہو جاتا ہے۔ میں نے اس پر کسی کو خوش بھی نہیں دیکھا اور اس سفاکانہ رسم کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرنے پر بھی کسی کو آمادہ نہیں پایا۔

ہم بھی عجب مسلمان ہیں بچیوں کو جائیداد میں حق دینے پر تو تیار نہیں لیکن جہیز جیسی لعنت پوری کرنے کے لیے پورے خاندان کو قربان کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ اس شیطانی رسم میں پائی جانے والی کشش کی تفصیلات تو وہی بیان کرسکتے ہیں جو اس سے گزررہے ہیں۔ میں کچھ ماؤں کے قربب کو جانتا ہوں جو سوتے جاگتے اپنی بیٹی کے جہیز کے لیے خون کے گھونٹ پی رہی ہیں۔ انہیں میری یہ بات سرے سے سمجھ نہیں آتی کہ جہیز کے بغیر بھی بچی کو رخصت کیا جاسکتا ہے۔ کئی بار مجھے یوں لگتا ہے کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں شاید ان الفاظ کے معنی ہوتے ہی نہیں کہ کوئی سمجھ پائے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جہیز کے ہاتھوں مجبور خاندان اس رسم پر "سب کچھ" ہاں "سب کچھ" قربان کرنے پر مجبور ہیں۔ بھیک تو ان قربانیوں میں کسی درجے میں شمار ہی نہیں ہوتا۔ جہیز میسر نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان بچیوں پر جو گزررہی ہے وہ وہی جانتی ہیں اور ہمارے سماج میں اس کے جو سیاہ اثرات ہیں، ان کے اظہار کے لیے میرے پاس الفاظ ناپید ہیں۔

مجھے جہیز کے نام سے نفرت تو ہے لیکن جہاں میرے نانا مرحوم نے جس رسم کو دیس نکالا دیا تھا وہیں ایسے "وسیع النظر" صلاح کار بھی پیدا ہوئے کہ سو سال قبل جہالت کے اندھیروں میں جو چراغ روشن ہوا تھا وہ آج پڑھے لکھے اور نام نہاد اسلام پسندوں کے ہاتھوں گْل ہوا جارہا ہے۔ ہمارا خاندان جو پچھلی صدی میں ہندووانہ رسم سے نجات پا چکا تھا، آج روشن خیالی کی ہاتھوں جان بوجھ کر اپنی نسلوں کو زندہ درگور کررہا ہے۔ میں پناہ مانگتا ہوں اس کرب سے جو ہمارے ارد گرد ننگا ناچ رہا ہے اور ہم آنکھیں ہوتے ہوئے اندھوں کی طرح اس آگ میں گھسے جارہے ہیں اور اپنی آئندہ نسلوں کو بھی اس میں بھسم کرنے کا اہتمام پورے شعور سے کیے جارہے ہیں۔

30 دسمبر 2017 کے دن کوٹلی آزادکشمیر میں ایک ایسی تقریب میں شرکت کا موقع ملا، جس میں 10 مستحق جوڑوں کو شادی کے بندھن میں باندھا گیا۔اس تقریب کا اہتمام الخدمت فاونڈیشن ضلع کوٹلی نے کیا تھا۔ سو ڈیڑھ سو مہمانوں کے درمیان سٹیج پر دس دلھے لائن میں بیٹھے ہوئے کتنے پیارے لگ رہے تھے، اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ مجھے زیادہ خوشی اس بات کی ہوئی کہ ان بچوں کی عمریں 25 سال سے زیادہ نہیں تھیں، یقینا بچیوں کی عمریں بھی لگ بھگ ہی ہوں گی۔ معاشرے کو آلودگیوں سے پاک رکھنے کے لیے اس سے بہتر کوئی اور طریقہ ممکن نہیں۔ بعض لوگوں کے لیے یہ محض ایک سرگرمی ہوگئی۔ کچھ لوگ اسے نمود و نمائش سے تعبیر کریں گے اور کچھ دل جلے اسے کمپنی کی مشہوری بھی قرار دیں گے لیکن مجھے جو سکون اس مجلس سے ملا، وہ کبھی کبھار ہی ملتا ہے۔ ہمارے دوست ارشاد پاشا راولپنڈی سے ہمارے ساتھ تھے۔ جاتے ہوئے وہ اجتماعی شادیوں کے خلاف خطبہ ارشاد فرماتے رہے لیکن دوران تقریب وہ بے ساختہ اپنے موبائل سے عکس بندی کرتے پائے گئے اور واپسی پر وہ آبدیدہ تھے کہ ایسی خوشی میسر آئی جو زندگی کا ماحاصل رہے گی۔ الخدمت فاونڈیشن آزاد کشمیر کے صدر ڈاکٹر ریاض احمد نے تقریب میں کہا کہ میں نے کراچی سے پیسہ، پیسہ مانگ کر ان بچوں بچیوں کے گھر بسانے کا بندوبست کیا ہے۔ وہ اپنی گفتگو کے دوران آبدیدہ تھے کہ ہمارے ارد گرد کروڑ پتی لوگ اپنی شادیوں پر لاکھوں تو محض خرافات پر اڑا دیتے ہیں لیکن غریب بچی کے ہاتھ پیلے کرنے کے لیے ان کی جیب خالی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الخدمت فاونڈیشن آزادکشمیر کی ہر مستحق بچی کے سر پر ہاتھ رکھے گی۔ اس موقع پر کوٹلی کے رضا کاروں نے عزم کیا کہ وہ اگلے مرحلے پر 20 جوڑوں کی شادی کا اہتمام کریں گے۔الخدمت فاونڈیشن کے سلیم ظفر قریشی ، کامران خان اور احسن نے سردار ذاکر حسین اور راجہ مشتاق نواز کی قیادت میں دن رات محنت کرکے اس متبرک تقریب کا اہتمام کیا۔ اﷲ تعالیٰ ان کی مساعی کو شرف قبولیت سے نوازے۔

شادی ہال سے رخصتی کا مرحلہ کتنا خوشگوار تھا۔ 10 جوڑوں ، بیس خاندان اور ان کے عزیز واقارب کے چہروں پر خوشی اور مسرت کے مناظردیدنی تھے۔ ان کی زبانیں شکر گزاری اور دعاوں سے لبالب تھیں۔ جب معاشرے میں دوسروں کے دکھ بانٹنے اور خوشیاں بکھیرنے کا رواج عام ہو جائے گا تو یہ دھرتی امن و سکوں کا گہوارہ بن جائے گی۔ یقینا الخدمت فاونڈیشن اور اس کے رضا کار اس معاشرے کو سنوارنے میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Atta ur Rahman Chohan

Read More Articles by Atta ur Rahman Chohan: 127 Articles with 66993 views »
عام شہری ہوں، لکھنے پڑھنے کا شوق ہے۔ روزنامہ جموں کشمیر مظفرآباد۔۔ اسلام آباد میں مستقل کالم لکھتا ہوں۔ مقصد صرف یہی ہے کہ ایک پاکیزہ معاشرے کی تشکیل .. View More
04 Jan, 2018 Views: 478

Comments

آپ کی رائے