اپنے کعبے کی حفاظت تمہیں خود کرنی ہے

(Ata Ur Rehman Noori, India)
لیبیا،مصر،شام،عراق،بحرین ،افغانستان ایسے ممالک ہیں جہاں کے باشندے ہر وقت خوف و حراس کے ماحول میں زندگی گذاررہے ہیں۔برما اور آسام میں رونما ہونے والے واقعات ہمارے سامنے ہیں۔ اسلامی ممالک کے حالات انتہائی تشویشناک ہیں۔قبلۂ اول بیت المقدس کے حا لات بھی کسی سے مخفی نہیں ہیں۔ابھی حال ہی میں مزارات صحابہ کی مسماری بھی امت مسلمہ کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔قبلۂ اول جہاں کئی سالوں سے لوگ گولیوں اور بموں کی آواز سن کر دہشت کے سائے میں زندگی گزاررہے ہیں باوجود اس کہ حق کی آواز بلند کرنے میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہیں کررہے ہیں جب کہ عالم اسلام کے مسلمان بیت المقدس میں امریکی سفارت خانہ کی تعمیر کی خبر پر احتجاج درج کرانے میں مشغول ہیں۔اسی طرح شام کی گلیوں میں ہر طرف احتجاجیوں کے ہنگامے اور پولس کی گولیاں گونج رہی ہیں،عراق وافغانستان میں ہر دم خود کش حملے کا خدشہ لگا رہتا ہے۔برما و آسام میں ایسی کتنی ہی سہاگنیں ہیں جن کے سر کا سہاگ سیاسی چپقلش اور منافرت کے سبب اجاڑ دیا گیاہے۔پوری دنیامیں ایسے ہزاروں مسلم بچے ہیں جن کے سر سے شفقت پدری کا سایہ اٹھالیاگیاہے،کون انہیں نئے کپڑے دلائے گا؟کون انہیں عیدگاہ لے جائے گا؟ اور کون انھیں عیدی دے گا؟چشم کور سے دیکھنے پر معلوم ہوگاکہ ایسے ہزاروں مسلمان ہیں جن کی میت پر کوئی نماز جنازہ پڑھنے والا بھی نہیں ہے ، کوئی کفن پہنا کر دفن کرنے والا بھی موجود نہ رہا،ان کی لاشیں یونہی بے گور وکفن کیڑے مکوڑوں کی غذا بن رہی ہیں۔

آخر ایسا کیوں ہوا؟صدیوں تک اکناف عالم پر حکومت کرنے والی قوم اس قدر بے بس اور لاچار کیوں ہوگئی؟اس سوال کا جواب پانے کے لیے تاریخ کے اوراق پر ایک سرسری نظر دوڑانی ہوگی۔مسلمانوں نے صدیوں تک دنیا پر حکومت کی،دینی ودنیاوی علوم پر عبور حاصل کیا،بڑی بڑی طاقتوں کوزیر کیا،اُٹھنے والے ہر طوفان کے سامنے سینہ سپر رہیں اور اسے پاش پاش کیا،تمام براعظموں پر اپنا پھریرا لہرایا،یہ تو مسلمانوں کی تاریخ ہے مگرحال بھی کچھ بُرا نہیں، اب بھی مسلمانوں کی دسترس میں پچاس سے زائد ممالک،ایک ارب سے زیادہ آبادی اورتیل ومعدنیات کے ذخائر سے لبریزہیں مسلم دنیا ۔ اُمت مسلمہ میں ذہین وباصلاحیت اورہنرمند افراد کی کمی نہیں ہے مگر اکناف عالم کے مسلمانوں پر طائرانہ نظردوڑائیں تو معلوم ہوگاکہ ہر جگہ مسلمان مجبور ومقہور، وسائل ہونے کے باوجود بے سہارے،حکومت واقتدار کے باوجود بے بس ولاچار،تہذیب وتمدن رکھ کر بھی شناخت کی جستجو میں سرگرداں، ممالک کی کثرت کے باوجود احساس بے وطنی کے شکار،اقراء پڑھ کر بھی عامی وجاہل۔مسلمانوں نے اپناوقارمجروح و ملیامیٹ کردیا،اپنی شناخت کھودی، اپنی تہذیب فراموش کردی،تمدن کاجنازہ نکال دیا،اقتداررکھ کر بھی غلام بنے رہیں،قدرتی ذخائر ہونے کے باوجودہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں۔

اس کے برعکس ایک ایسی قوم جو صدیوں تک معتوب رہی،جسے کبھی بخت نصر نے توکبھی ہٹلر نے خاک وخون میں نہلایا،جس کی آبادی مٹھی بھرہے،جن کے پاس قدرتی وسائل یاتو ہے نہیں اور ہے تو انتہائی قلیل،جن کا جغرافیائی لحاظ سے محدود رقبہ ہے،ایسی قوم جن کا سامنا ہروقت زمانے کی طوفانی لہروں سے رہاہے آج ہر لحاظ سے مضبوط وطاقتورہے،نظام سیاست کی ڈور، ان ہی کے ہاتھوں میں ہے ،دنیاکانظام انہیں کے سہارے یاانہیں کے اشارے پرچلتاہے، دنیاکاسب سے طاقتور ملک امریکہ کانظام سیاست ومعیشت تو جیسے ان کی لونڈی ہے یایرغمال۔فلم انڈسٹریز ہویانیوزایجنسی،نیوز چینل ہوں یابڑے سے بڑااخبار،امریکی معیشت پرقابض بڑی بڑی کمپنیاں ہوں یا سیاست وحکومت کی پُرپیچ گلیوں پر مسلط پالیسی سازدانشور،ہرجگہ انہیں کاراج ہے اور ہرمقام پر انہیں کا سحراور جب یہ سحرسُپرپاور پر اس قدر حاوی ہے تو اس کے جادو سے باقی دنیا کیوں کر اچھوتی رہ سکتی ہے۔

اگر ہم نگاہ اٹھا کردیکھیں تو معلوم ہوگاکہ ہمارے اردگرد،پاس پڑوس،آگے پیچھے ان کی کرشمہ سازیوں کی جلوہ نمائیاں ہیں۔جی ہاں!میری مراد قوم یہود ہے مگرہاں اس تحریرسے قوم مسلم کی ذلت اورقوم یہودکی تعریف مقصود نہیں بلکہ یہ باور کرانا ہے کہ آخر ایساکیوں ؟ یہودی محدودوسائل اور نفرت وقہر کاشکار رہ کر بھی حکومت ومعیشت ،علوم وحکمت،ذرائع رسل ورسائل کے ناخدا،دنیا کی قوموں کی تقدیر بدلنے والے،فیصلوں میں ان کا رول،بدلتے زمانے کی نبض پر ان کا ہاتھ،دنیاکے بیشترطاقتور ہاتھوں کے ہاتھ ان کے ہاتھ میں،دنیاکی ہر چھوٹی بڑی خبر سے باخبراور ہر چھوٹے بڑے دوست ودشمن سے آشنا،صدر اسلام میں بیٹھ کرعالم اسلام کا شیرازہ بکھیرنے میں مصروف،اور․․․․․․مسلمان․․․․․․․اپنے ہی کچھار میں مجبورومحصور،سب کچھ رکھ کر قلاش،بے کس،بے بس،بے سہارے،بے چارے،قسمت کے مارے۔آخر کیوں؟انھوں نے اپنے آپ کو سنبھالا،منصوبہ بندطریقے سے زندگی کی راہوں میں قدم بڑھایا،اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے بے پناہ کاوشیں کیں اور ہم اس کے بالکل برعکس۔ہماری ناکامی ومحرومی کی پہلی وجہ قرآن پاک سے عیاں ہوتی ہے جس کی ترجمانی ڈاکٹر اقبال نے یوں کی ؂
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ان راہوں کواختیار کیاجائے جن پر چل کر اُمت مسلمہ اپنے کھوئے ہوئے وقارکوبحال کرسکیں،اپنی شناخت کو مستحکم کرسکیں،اپنے آپ کو مضبوط کرسکیں،یہودیوں کو برابھلاکہہ کریا شیطان کومورد الزام ٹھہراکریاتوکّل کا حوالہ دے کر ہم اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآنہیں ہوسکتے،ہمیں اپنے دن بدلنے کے لیے خود ہی ہاتھ پیر مارنے ہوں گے،خود ہی تعلم کی طرف بڑھنا ہوگا،خود ہی اپنی آواز بلندکرنی ہوگی، خود ہی اپنے وجود کااحساس دلانہ ہوگا،تعلیمی میدان میں قدم بڑھانا ہوگااور وقت وحالات کے پیش نظراپنی رفتار بڑھانا ہوگی۔مگرآہ صدآہ!!آج اُمت مسلمہ قرآن وسنّت کو چھوڑ کر یہودونصاریٰ کے طریقے کواختیار کررہی ہیں،جن قوموں کوقرآن نے ہمارا دشمن گرداناہے آج ہم انہیں کی تہذیب کے متوالے،انہیں کے تمدن میں رنگے ہوئے،انہیں کی سوچ وفکر کوقبول کیے ہوئے،وہ جس طرف چاہے ہمیں موڑدے،جس گہرائی میں چاہے ڈھکیل دے اگر یہی روش رہی تو حالات دن بہ دن بدتر ہوتے جائیں گے،مسلمان مزید خستہ حال ہوتے جائیں گے،ہماری عزت وآبرو مجروح ہوجائے گی،دنیا جس طرف چاہے گی فٹ بال کی طرح لات مار کر اڑادے گی،انہی حالات کو دیکھ کرشاعر مشرق ڈاکٹر اقبال نے کہاتھا ؂
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنھیں دیکھ کر شرمائیں یہود

کسی کی کشتی میں سوار ہوکر اپنی نیّا نہیں تیرائی جاسکتی،ہمیں خوداپنی کشتی کی نگہبانی کرنا ہوگی،ہمیں اسلامی تہذیب وتمدن کو بحال کرناہوگا،اپنے ہی اُصول وضوابط اور قوانین کو اختیار کرناہوگا،فرد واحد نہیں بلکہ ملّی تشخص پر توجہ مرکوز کرناہوگی،ناموس رسالت کی خاطر متحد ہوناہوگا،مصطفی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت میں تمام فتنوں،آپسی تنازعات اور خرافات کو بھلانا ہوگا،یکجا ہوکر عشق رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے پلیٹ فارم سے ایکتا ئی کا مظاہرہ کرکے قوم مسلم کی بلندی کے لیے لائحہ عمل تیار کرناہوگا۔تب کہیں جاکر بلند ہوگامسلمانوں کاکھویاہواوقار،بحال ہوگا مسلمانوں کا تشخص اور حاصل ہوگی وہی عظمت،بلندی اور سرخروئی جودور رسالت میں حاصل تھی۔یا یوں کہہ لیجیے ؂
اپنے کعبے کی حفاظت تمہیں خود کرنی ہوگی
اب ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا
٭٭٭
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ataurrahman Noori

Read More Articles by Ataurrahman Noori: 535 Articles with 401070 views »
M.A.,B.Ed.,MH-SET,Journalist & Pharmacist .. View More
16 Jan, 2018 Views: 455

Comments

آپ کی رائے