رحمان کے مہمان

(Qazi Israil, Karachi)

حج کا عمل مشکل ترین ہے ،رحمان کی مہربانی و کرم نوازی سے ہی مکمل کیا جاسکتاہے ،اس لیے رحمان نے صاحب حیثیت پر زندگی میں ایک ہی مرتبہ حج فرض کیاہے ۔اگر غور کیاجائے توحج کاساراعمل چند اشخاص کے چند اعمال کانام ہے ،سب سے پہلے ابو البشر وام البشر حضرت آدم ؑ واماں حواء ؑ کی توبہ اور آپس میں ملاقات میدان عرفات میں جبل رحمت پر نور کی برسات پھر ایک باپ ایک شوہر ایک ماں اور ایک بیٹے ذکر اور یادگار ہے ۔والدہ اور شوہر تو ایک سیدنا ابراہیم ؑ ہیں ماں حضرت سیدہ ہاجرہ ؑ اور بیٹا وہ بھی نسبی بیٹا حضرت اسماعیل ؑ ہیں ۔آخر میں سید الانبیاء سرکارِ دوعالم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی چند مبارک ادائیں شامل ہیں ۔میں عرض کیاکرتاہوں کہ چند رجا ل اﷲ کی اداؤں و کرداروں کا نام حج ہے اور بندہ رب کے نام پر دیوانہ ہوجاتاہے ۔احرام کی حالت میں موت ومیدان حشر کی دعوت ہوتی ہے ۔
رب کے مہمان جب ایک ہی میدان میں ایک ہی زبان میں رب کے دیوانے بن کر یہ نعرہ لگاتے ہیں
لبیک اللھم لبیک لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لاشریک لک
یہ صدا ساری کائنات سے رشتہ توڑ کر رب سے رشتہ جوڑ کر لگائی جاتی ہے تو رب ذوالجلال کو بہت پسند آتی اور اس آواز کی وجہ سے اﷲ پاک کا عذاب آیا ہوا ٹل جایاکرتاہے ،رب کی رحمت پھر اس کے غضب پر غالب آجاتی ہے یہ حجاج کرام کی برکت وحرکت سے ہوتاہے ۔۔۔۔۔
آخری سلام اور یاد ِ مولاناعبدالحکیم ؒ
رب کی شان ہے مغرب کی نماز پڑھ کرآخر ی سلام عرض کرنے کے لیے دربارِ رسالت مآب ﷺ پر حاضری ہوئی ،سلام عرض کر کے باہر نکلے تو جانشین حکیم ملت مولاناعبدالحکیم ؒ حضرت مولاناعبدالمجید ہزاروی مدظلہ سے ملاقات ہوئی سلام وخیریت دریافت کرنے کے بعد مولانانے فرمایا: حضرت مولاناعبدالحکیم ؒ پر قلمی کام آپ کریں ،اور ان پر معیاری کتاب تحریر کریں اور یہاں مقدس جگہ پر وعدہ بھی کریں ،میں نے عرض کیا کیونکہ مولاناعبدالحکیم ؒ ایک سچے عاشق رسول اور تحریک ختم نبوت کے ایک بے مثال قائد تھے اور قومی اسمبلی میں جہاں دیگر حضرات کا مثالی کردار اور کام ہے وہاں مولانا مولاناعبدالحکیم ؒ کا بھی مثالی کام ہے ان کا بہت بڑا حصہ ہے تحریک ختم نبوت میں ،جواب محضر نامہ قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر پڑھنے کا اعزاز بھی آپ ؒ ہی کو حاصل ہے ۔ناموس رسالت ﷺ کے لیے انتھک محنت کرنے والے مولاناعبدالحکیم ؒ کس عظیم و مقدس مقام پر یاد آگئے یہ ان ہی کا اخلاص نظر آتاہے ان شاء اﷲ کوشش رہے گی کہ حضرت مرحوم پر ایک یادگار قلمی کام کیاجائے ،ان کی زندگی کے لاتعداد مخفی گوشے موجودہ نسل کے سامنے لائے جائیں ۔مولانا عبدالحکیم ؒ کی یادگار زندگی آئندہ نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے ۔
ضیاء الحق شہید ؒ زندہ ہے
میدان عرفات ومزدلفہ میں درختوں کو دیکھ کر مرحوم سابق صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق شہید ؒ یاد آئے اور ان کے صدقہ جاریہ کو دیکھ کر بڑا سکون آیاکہ مرحوم خالق لفظ پاکستان چوہدری رحمت علیؒ کے وطن عزیز کی مٹی اور درخت میدان عرفات ومزدلفہ میں ان کی یاد دلا رہے ہیں اور مقدس میدان میں حاجیوں کے لیے سیایہ دے رہے ہیں ۔ہمیں اپنے پیارے وطن سے محبت ہے اور وہ لوگ ذرا خیال رکھیں کہ اپنے وطن عزیزکے حالات پر باہر جاکر تبصرہ اور ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازیاں کرتے ہیں ۔کبھی تو حج وعمرہ کے درمیان جو کائنات کی سب سے بڑی عبادت اور بین الاقوامی مسلمانوں کا اجتماع ہوتاہے وہاں نعرے لگاتے ہیں یہ عمل اپنے آپ کو پاگل ثابت کرتاہے اور وطن کی مٹی سے بے وفائی کا اظہار ہی لگتاہے ۔
صحافی کو لاجواب کر دیا
ہوٹل المرجان میں ایک بنگلہ دیشی صحافی نے پاکستانی سیاست پر سوال کیا تو میں نے کہا کہ اس پر گفتگو کے لیے آپ کو پاکستان آناہوگا۔عدلیہ کے بارے میں سوال کیاتو میں نے کہاکہ ہماری عدلیہ اچھی ہے ،فوج کے بارے میں سوال کیا تو میں نے کہا کہ ہماری فوج اچھی ہے سرحدوں پہ پہرداری دے رہی ہے اور ہم خوب آرام سے رات کو سوجاتے ہیں پھر میں نے اس صحافی سے پوچھاکہ آپ کونسے اخبار سے تعلق رکھتے ہیں کہنے لگا کہ انگلش نیوز پیپر سے تعلق ہے ،میں نے کہا کہ دنیا کااصول ہے کہ کسی کا بازو اگر کٹ جائے تو کہاجاتاہے یہ فلاں کا بازو ہے مگر آپ نے بڑا ہی ظلم کیاہے کہ پاکستان سے کٹے اور اپنا نام ہے تبدیل کردیا۔بنگلہ دیش کا نام دے دیا۔پھر کیا تھا کہ وہ سرخ ہوگیااور بنا سلام وکلام کے چلا گیا۔
میدان عرفات میں برمی مسلمانوں سے ملاقات وآنسوؤں کی برسات
میدان عرفات میں جب ہم سب دعا کے لیے اکھٹے ہوئے تو برما کے مسلمانوں کی ہمارے اوپر نظر پڑ گئی دیکھتے ہی دوڑ کر ہمارے پاس آئے اور گلے لگ گئے اور رونا شروع ہوگیا ایسے روئے جیسے بچھڑ اہوا بچہ صدیوں بعد اپنے والدین سے ملتا ہے ہمیں پہچان گئے کہ یہ لوگ پاکستانی ہیں ۔ہم نے عرض کیاکہ آپ کا دکھ ودرد ہمارا اپنا دکھ ودرد ہے ۔ان کے آنسوؤں کو بہتا ہوا دیکھ کر ہم برداشت نہ کرسکے ،ہمارے اور ان کے آنسوؤں کو اور رب سے فریاد کو عرب میڈیا نے ریکارڈ کیااور سرخی کے ساتھ عربی وانگلش اخبارات و رسائل میں شائع کیاہم نے وہاں برمی مسلمانوں کو تسلیاں بھی دیں اور کہا کہ کاش!آپ ہمارے (پاکستان کے) میں ہوتے تو آپ کے دکھ ودرد میں ہم بھی شرک ہوتے ۔۔۔
میدان عرفات میں برمی اور دیگر مسلم ممالک کے لیے اجتماعی دعاکی گئی اور وطن عزیز پاکستان کے استحکام وسربلندی کے لیے بھی دعاکی گئی ۔پاکستان اﷲ پاک ہمارے پاس بہت بڑی نعمت ہے اس نعمت کی ہم سب کو قدر کرنی چاہیے ۔پاکستان کے بن جانے کے بعد مولاناسید حسین احمد مدنی ؒ نے اس ملک خدادا دکومسجد کے ساتھ تشبیہ دی تھی کہ مسجد بننے سے پہلے تو بندہ کہہ سکتاہے کہ یہاں نہیں وہاں بنا لو مگر جب مسجد بن جائے تو تمام مسلمان اس کی حفاظت کریں گے اور ان کا لازم وواجب ہو جاتاہے کہ اس کے محافظ بن جائیں ۔
پاکستان کے لیے بڑی قربانیاں دی گئی ہیں ۔
منیٰ میں مختلف حضرات کے ہاتھوں میں پاکستان کے سبز ہلالی پرچموں کو دیکھ کر خوشی ہوئی ۔وہ راہبر لوگ تھے جو پاکستانیوں کی رہنمائی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے ۔
رات مکہ میں تو دن مدینہ میں
اﷲ کی زمین پر مقدس جگہ مکہ ومدینہ ہے ،مکہ ومدینہ کے فضائل ومناقب پر لکھاجائے تو کتاب نہیں کتابیں بن جائیں ،ہر ہر نام پر ہر ہر جگہ مستقل کتاب کی دعوت دیتی ہے ۔ان مقد س ومنور مقامات پر نگاہ ڈال کر اعلان کرنا ہی پڑتا ہے کہ یہ وہ مقدس مقامات ہیں جہاں نبی پاک ﷺ کی پیدا ئش ہوئی او ر اب آرام فرما ہیں
؂تاریخ اگر ڈھونڈے گی کہیں ثانی محمد(ﷺ)
ثانی تو بڑی چیز ہے سایہ بھی نہ ملے گا
سید سلمان گیلانی نے کیا ہی خوب کہا
ہر امتی کی شفاعت کریں گے حشر میں آپ
میں امتی ہوں گناہگاروں کی قطار میں ہوں
نبی کے شہر سے لوٹتے ہوئے زمانہ ہوا
مگریہ لگتا ہے کہ اب تک اسی دیا ر میں ہوں
جہان میں نور
حج کے سفر پہ جاتے ہوئے جلدی تھی ،وقت کم تھا دل میں یہ خواہش تھی کہ اپنے تصنیف کردہ کچھ کتب ورسائل ساتھ لے کر جائیں ۔وہاں اکابر ملت سے ملاقات میں انہیں پیش کروں مگر رب کی شان کہ تحریر کردہ کتب میں سے صرف ’’حضرت مولانامفتی محمود ؒ کی مجلس کے سوپھول ‘‘اور کچھ دور عدد چارٹ’’وہ مرگیا‘‘اور’’امن کا پیغام ‘‘ہمراہ لیے ۔
وہاں بہت سے اکابر ،صحافیوں ،ادیبوں اور محققین کو پیش کیے ماشاء اﷲ حضرات نے بہت ہی پسند فرمایا اور دعاؤں سے نوازا ،سب حضرات کو یہ طریقہ پسند آیا وہاں دعاؤں کی برسات میں حضرات یہ دعائیں دیتے رہے
؂مثل شمع بزم ہستی میں بسر کر زندگی
تاکہ تیرے سوز سے سارے جہاں میں نورہو
مکہ ومدینہ عرفات ومنیٰ میں اکابر نے خوب دعائیں دیں ۔
تمنا پوری ہوگئی
راقم الحروف اور حضرت مولانامیاں محمد نقشبندی صاحب نمازِ عشاء اداکر کے منیٰ کی طرف روانہ ہوئے ۔یہ منیٰ میں دوسری رات کا واقعہ ہے ،حضرت نے فرمایا کہ اب طبیعت یہ چاہتی ہے کہ لسّی پی لی جائے ،گاڑی کا ڈرائیور بولا کہ لیں لسّی کی بوتل پی لیں ہم رب کی قدرت پہ حیران ہوئے رب کا شکر اداکیا اورڈرائیور صاحب کے لیے دعا کی ۔
راستہ میں علمی گفتگو ہوتی رہی یہانتک کہ ہم منیٰ میں پہنچ گئے ۔
آپ کا نظام تعلیم ناقص ہے
مولاناگل نصیب خان صاحب نے اپنا ایک واقعہ سنایاآکسفورڈ یونیورسٹی میں ہم گئے تو انہوں نے کہا کہ ہمارانظام تعلیم آپ کو کیسالگا؟
میں نے فوراًکہا کہ بالکل ناقص نظامِ تعلیم ہے وہ حیران ہوئے اور کہا ساری دنیا ہمارے نظامِ تعلیم سے متاثر ہے ۔
میں نے کہا:تمہارانظامِ تعلیم صرف بدن کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے جب کہ انسان کے اندر روح بھی ہے اور روح کے بغیر جسم کی کوئی حیثیت نہیں ،تمہارے نظام تعلیم میں اس روح کے بارے میں کوئی معلومات نہیں اور اس کی حقیقت سے تمہارانظام تعلیم خالی ہے ۔اب لوگ حیران تھے کہ یہ کیا ہوگیا مگر ان لوگو ں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔سچی بات یہ ہے کہ روح اور بدن دونوں کی تعلیم صرف دین اسلام میں ہے ۔میں نے کہا کہ ہماری کتاب بدن وروح دونوں کے بارے میں معلومات بھی دیتی ہے اور غذابھی ۔افسوس ادھوری تعلیم پر فخر اور مکمل تعلیم سے راہ فرار اختیار کی ہوئی ہے ۔
تلاشی کس کی
مولانا گل نصیب صاحب نے اپنا ایک واقعہ ’’سفرامریکہ ‘‘سنایاکہ میں اور جناب اعتزاز احسن صاحب ودیگر سفر امریکہ میں ساتھ تھے انہوں نے مجھ سے کہا :تم پگڑی وداڑھی کے ساتھ امریکہ کا سفر کر رہے ہو ہمیں خراب کروگے ۔بہت طویل گفتگو چل پڑی ۔بڑا ہی دلچسپ منظر ہوا،جب ہم امریکہ ائیرپورٹ پہ اترے تو جناب چوہدری صاحب کی خوب تلاشی ہوئی میں نے سوچاکہ اگر ایسا میرے ساتھ ہواتو میں واپس چلا جاؤں گا۔لیکن حیرانگی ہوئی میری باری آئی تو سرسری پوچھ کچھ کے بعد کہا تشریف رکھیے آگے پھر خوب چوہدری صاحب کی تلاشی ہوئی مجھ پر رب کا احسان ہوا جب طویل مرحلہ گزرنے کے بعد چوہدری صاحب سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے یہ کیاکہ تمہارے ساتھ اچھا سلوک اور ہمارے ساتھ یہ سلوک ؟؟
میں نے کہا :کہ چونکہ میں اصلی حالت میں ہوں چیکنگ والوں نے تسلیم کیا کہ یہ اگرچہ ہمارا دشمن ہے لیکن ہے اصلی حالت میں ۔جناب والا : آپ کے بارے میں تو یہ کہتے ہونگے کہ نہ ادھر کے نہ اُدھر کے ۔۔۔
اﷲ پاک دین کی لاج رکھتا ہے اس کی مخلوق بھی پھر بندوں پہ مہربان ہوجاتی ہے ۔
سفر اور سنن
حضرت مولاناگل نصیب خان صاحب نے ایک اور واقعہ بھی سنایا کہ ہمارے ہاں مولاناسید اسعدمدنی رحمۃ اﷲ علیہ تشریف لائے تو لاہور سے ہم بھی ہمسفر ہوئے ۔راستہ میں حضرت مدنی ؒ سنن پڑھتے تھے اور مولانا فضل الرحمن صاحب حالت سفر میں سنن چھوڑتے تھے ۔اس مسئلہ کے بارے میں راستہ میں گفتگو بھی ہوئی ،یہاں منیٰ میں مولانا عبداﷲ جان صاحب نے احادیث کے حوالے بھی دیے ،میں نے عرض کیا کہ صبح کی سنت تو اداکرے باقی حالت سفر میں چھوڑ دے اور اگر کہیں رہائش اختیار کر لی ہے تو پڑھ لے ۔
مغرب اور صلوٰ ۃ وتر مکمل پڑھے باقی چار رکعت والی فرض نماز کو دوررکعت قصر میں اداکرے اس بات کو پسند کیا گیا۔۔۔۔
اسلام کا آغازوتکمیل
اسلام کا آغازام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اﷲ عنھا کے گھر سے ہوا اور اسکی تکمیل ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا کے گھر میں ہوئی ۔ظہور اسلام کے وقت حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنھا نبی کریم ﷺ کی غخوار اورمددگار بنیں اور تکمیل اسلام کے وقت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا مددگار وغمخوار بنیں ۔نبی کریم ﷺ آپ رضی اﷲ عنھا کی گود مبارک میں اپنا سر مبارک رکھ کر دنیا سے الوداع فرم اگئے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا نے اپنا گھر نبی کریم ﷺ کے حوالے کر دیا جہاں گنبد خضریٰ بنا آج پوری کائنات کے لیے توجہ وہدایت کا مرکز بنا ہواہے ،وہاں رب کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور پھر پوری کائنات پر وہ رحمتیں تقسیم ہوتی ہیں جن کی برکتوں سے آج ہم لوگ مسلمان ہیں اور پوری انسانیت زندہ ہے دونوں امہات المؤمنین کا وصاک رمضان المبارک میں ہوا،حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنھا جنت المعلیٰ کے قبرستان کی عظمت کا نشان ہیں اورام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا جنت البقیع کے قبرستان کی شان ہیں ۔
دل کی تمنا یہ ہے
؂الٰہی دکھا دے بہارِ مدینہ
کہ دل ہے بہت بیقرارِ مدینہ
یہ دل ہواور انوار کی بارشیں ہوں
یہ آنکھیں ہوں اور جلوہٗ زارِ مدینہ
وہاں کی تکلیف ہے راحت سے بہتر
مجھے گل سے بڑھ کرہے خارِمدینہ
کہاں ایسے دن ہیں کہاں ایسی راتیں
نرالے ہیں لیل ونہارِ مدینہ
کہاں جی لگے میراباغِ جہاں میں
ہے آنکھوں میں میری بہارِمدینہ
بڑے چین سے سوؤ ں میں تاقیامت
جوہومیرامرکز کنارے مدینہ
ٓامام ِ حرم سے ملاقات اور اظہارِ محبت
کراؤن پلازہ مدینہ منورہ میں رات کے وقت امام حرم نے علماء کرام مہمانوں سے خصوصی خطاب کیا جس میں انہوں نے اپنا دردل کھول کر بیان کیا اور امت مسلمہ کی حالت زار کا خاص طور پر ذکر فرمایا۔بعد ازاں علماء کرام سے خصوصی ملاقاتیں ہوئیں ۔راقم الحروف نے جب ان سے ملاقات کی تو فرمایا:نحن نحبکم (ہم تم سے محبت کرتے ہیں )میں نے جواباً عرض کیا :وانتم فی قلوبنا(آپ ہمارے دلوں میں ہیں )وہ اس جملہ سے بہت متاثر ہوئے ۔اور بار بار میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے سے لگاتے رہے اس بات پر علماء کرام نے فرمایا کہ امام حرم نے آپ سے بہت محبت کا اظہار کرتے ہوئے نمایاں مقام عطا کیا۔میں نے عرض کیا کہ یہ سب میرے والد محترم کی دعاؤں کا اثر ہے کہ وہ اکثر فرمایاکرتے تھے اﷲ پاک تمہیں علماء کا سردار بنائے اور یہ سب بہاریں والدین اور اساتذہ کرام اور مخلصین غائبین کی دعاؤں کی برکات ہیں ۔روضہ
نمک کی تلاش اوردارالعلوم دیوبند کے استاذ
منیٰ میں پہلی ہی رات ایک بزرگ نورانی چہرے والے سے ملاقات ہوئی وہ نمک کی تلاش میں تھے کہ گلاخراب ہوگیا ہے تاکہ گرم پانی میں ڈال کر غر ارے کیے جائیں ۔میں نے ان بزرگوں سے کہاکہ حضرت !میں لاکر دیتاہوں ،میں نے نمک لاکر دیا انہوں نے پانی میں ڈال کر غرارے کیے اﷲ پاک نے شفا دے دی ۔دوسرے دن ملاقات ہوئی خیریت دریافت کی تو تعارف کے بعد معلوم ہواکہ یہ مرکز علم وعمل دارالعلوم دیوبند کے شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد نسیم القاسمی صاحب ہیں ،ماشاء اﷲ عاجزی وانکساری کے پیکر ہیں میں نے اپنی ایک کتا ب اور چارٹ حضرت کی خدمت میں پیش کیے تو حضرت بہت خوش ہوئے اور بڑی دعاؤ ں سے نوازا۔۔
حضرت مولانابدرعالم میرٹھی کی دعا
استاذالاساتذہ حضرت مولاناسید بدرعالم میرٹھی رحمۃ اﷲ علیہ یہ دعافرمایا کرتے تھے اور یہ دعاان کی منظور ہوئی اور جنت البقیع میں ہمیشہ کے لیے جگہ پا گئے
؂ہاں جنت بقیع میری بھی ہو جگہ
اس کی بہت تڑپ ہے مجھ ایسے غلام کو
کتنی بڑی ہوس ہے جو دل میں عمرکے تھی
ہو جائے گر نصیب غلامی غلام کو
شان والے استاذ کے شان والے شاگرد
مکہ ومدینہ میں جہاں نبی کریم ﷺ کے نقش پا پائے جاتے ہیں وہاں ہی حضرات صحابہ کرام واہلبیت عظام ؓ کے نقش پا بھی ہر جگہ نظر آتے ہیں ،سچ کہا کہنے والوں نے
بیشک ہزاروں چاند بھی آجائیں محمد مصطفیﷺ کے آگے کم ہیں بیشک ہزاروں ستارے آجائیں تو صحابہ کرام واہلبیت عظام ؓ کے آگے کم ہیں ۔
رسولﷺ کی جالی کی صفائی کرنے والے خوشنصیب سے ملاقات
مکہ مکرمہ میں رب تعالیٰ کے انعامات واحسانات کے مشاہدات کے بعد دل میں تڑپ تھی کہ روضہ رسول ﷺ کی جالیاں صاف کرنے والے کسی خوشنصیب سے ملاقات ہو،رب کا ایسااحسان ہوا کہ اس سے بھی رب تعالیٰ نے ملاقات کروا دی ۔حضرت مولاناعبدالکریم ندیم صاحب دام مجدھم کے خاص متعلقین میں سے غلام شبیرصاحب وہاں ہفتہ میں ایک دن روضہ رسول ﷺکی جالیوں کی صفائی کرتے ہیں ان سے ملاقات ہوئی اور ان کے ایک دوسرے ساتھی سے بھی ،ان دونوں حضرات نے اپنے مبارک ہاتھوں سے ہمارے کمرہ میں آکر واپسی پر ہمارے سازو سامان کو باندھا اور الوداع کیا ۔
وہیں ہمیں ملنے کے لیے حرم کے ایک قاری صاحب تشریف لائے جو وہاں مدرس ہیں ان سے ملاقات ہوئی اور وہ فوراً بول پڑے کہ آپ کے مضامین بچوں کے اسلام میں پڑھا کرتے ہیں ۔گزشتہ دنوں بھی آپ کا ایک مضمون آیا ہواتھا ،میں نے اﷲ پاک کا شکر اداکیا اور قلم کی برکت کا بار بار اظہار کیا ۔مدینہ منورہ سے آتے ہوئے دل بہت غمگین ہوتا ہے جب ہمیں کہا گیا کہ ظہر کی نماز کے بعد تیار رہیں تو بار بار درباررسالت ﷺ پر جا کر سلام عرض کرتے رہے شاید کہ یہ آخری سلام ہو :
پھر اﷲ پاک نے احسان کیا کہ آخری سلام مغرب کی نماز کر بعد دربارِ رسالت میں پیش کیا۔عشاء کی نماز پڑھ کر روانہ ہوئے رات مدینہ ائیرپورٹ پہ بسر کی ۔اﷲ پاک نے احسان کیا کہ مسجد مل گئی وہاں مسجد میں معمولات جاری رہے یہانتک کہ صبح کی نماز وہاں جماعت کے ساتھ پڑھی بڑا ہی سکون آیا ،رات تلاوت قرآ ن اور دروروسلام میں ہی مشغول رہے ۔
وہاں ہمارے قافلہ کے ساتھ دیگر حضرات بھی شامل تھے ۔جن میں محترم سیدقاسم شاہ صاحب ،راجہ نثار صاحب ،حاجی نعیم صاحب ،سردار محمد ہارون نون صاحب ۔
وزن میں برکت
رب کی بھی عجیب شان ہے صبح کی نماز پڑھ کر ائیرپورٹ میں داخل ہوئے تو سامان کا وزن ہونے لگا مجھ سے پہلے جن حضرات کا نمبر تھا ان سب کے سامان کا وزن ہو اتو مقررہ وزن سے سب کے سامان کا وزن زیادہ تھا سب کو واپس کر دیا گیا کہ سامان کا وزن کم کرو،میں رب کی عظمت پر قربان جب ہمارا سامان وزن ہونے لگا وہ شخص جو انچارج تھا وہ کھڑا ہواشاید کسی سے فون پر پوچھ رہاتھا کہ زائد سامان کے بارے میں کیا کیاجائے بہرحال ہمارا سامان اس نے رکھوا دیا ۔اس کے بعد سب ہی کے لیے آسانی ہوگئی جہاز پر سوار ہوئے ،ماشاء اﷲ عملہ بڑا ہی بااخلاق تھا ۔لوگ بھی بڑی پرسکون تھے کسی طرف سے کوئی شور وغیرہ کی آواز نہیں آرہی تھی۔
دو باتیں
جہاز پہ اس مرتبہ دوباتیں ذہن میں آئیں کہ یہ معصوم بچیاں رزق کی تلاش میں کہاں کہاں گھوم رہی ہیں ان کے حال پہ رحم آیا اور رونا بھی آیا،یہ کسی کی بہن کسی کی بیٹی کسی کی عزیزہ ہونگی مگر رزق کی تلاش میں انسان کو کہاں کہاں تک جانا پڑتا ہے
دوسرا اوراد ووظائف درودوسلام کا ورد جاری رہا تاکہ یہ خلاء اور ہوا بھی قیامت کے دن ہماری گواہی دیں اور ہماری نجات کا پیغام بن جائیں ۔
صاحب ِ مظاہر حق کی دعا
صاحبِ مظاہر حق نے مختلف دعائیں اپنی کتاب کے آخر میں لکھی ہیں جن میں سے ایک بہت ہی پیاری دعا یہ بھی ہے
الٰہی نجنی من کل ضیق
بجاہ المصطفیٰ مولی الجمیع
وھب لی فی مدینتہ قراراً
بایمان ودفن باالبقیع
اے میرے معبود !مجھے ہر مصیبت سے نجات دے ساری کائنات کے سردار حضرت محمد مصطفی ﷺکے واسطے سے مجھے ان کے شہر مدینہ میں ٹھہرنے کی جگی دے ایمان کے ساتھ اور جنت البقیع میں قبر کی جگہ دے ۔(آمین)
اس مقدس کتاب میں مقدس اور پاک نفوس حضرات صحابہ کرام ؓ کے اقوال پڑھ کر باربار زبان پہ اردو و عربی کے الفاظ آتے رہے جو حاضرِ خدمت ہیں ۔
ہمیشہ جو کوئی اس کو پڑھے گا امن وہ سداحق کی رہے گا
ورد کوئی عمر بھر اس کا کرے گا نصیبہ بخت ودولت پررہے گا
یاالٰہی بحرمۃ اقوال سیدنا محمد ﷺ
یاالٰہی بحرمۃ افعال سیدنامحمدﷺ
یاالٰہی بحرمۃ احوال سیدنامحمدﷺ
یاالٰہی بحرمۃ اصحاب واہلبیت محمدﷺ
یاالٰہی بحرمۃ اقوال اصحاب واہلبیت محمدﷺ
یاالٰہی بحرمۃ افعال اصحاب واہلبیت محمدﷺ
یاالٰہی بحرمۃ احوال اصحاب واہلبیت محمدﷺ
یاالٰہی بحرمۃ شرف مقام اصحاب واہلبیت محمد ﷺ
یاالٰہی بحرمۃ کلام اصحاب واہلبیت سیدنامحمد ﷺ
یاالٰہی بحرمۃ صدق وصفا ووفا اصحاب واہلبیت سیدنا محمدﷺ
گنبد حضریٰ پہ نظر پڑتی ہے تو مولانامحمد علی جوہر رحمۃ اﷲ علیہ کی یہ نعت زباں پہ جاری ہوجاتی ہے
تنہائی کے سب دن ہیں تنہائی کی سب راتیں
اب تو ہونے لگی ان سے خلوت میں میں ملاقاتیں
ہرلحظہ تشفی ہے ہر آن تسلی ہے
ہر وقت ہے دلجوئی ،ہردم ہیں مداراتیں
کوثرکے تقاضے ہیں تسنیم کے وعدے ہیں
ہرروز یہی چرچے ہرروز یہی باتیں
معراج کی سی حاصل سجدوں میں ہے کیفیت
اک فاسق و فاجر میں ایسی ہی کراماتیں
بے مایاسہی لیکن شایدوہ بُلا بھیجیں
بھیجی ہیں درودوں کی کچھ ہم نے بھی سوغاتیں
ان مبارک اشعار کو پڑھتے ہوئے آنسوؤں کی لڑیاں بن جاتی ہیں گنبد خضریٰ سامنے ہے ۔شمائل ترمذی کے مبارک جملوں کی عکاسی رحمت کائنات ﷺ کا حلیہ مبارک بھی دل ودماغ میں گھوم رہاہے ۔واہ میرے رب تیرے نام پہ قربان۔
جب مدینہ منورہ کا مقدس منظرآنکھوں کے سامنے ہوتاہے تو زبان یوں کہتی ہے
قلم لکھتا رہے اور رکنے کا نام ہی نہ لے ،واہ جی کیا منظر ہے مکہ ومدینہ کا ،مکہ میں جلال ہے اور مدینہ میں جمال ہے (سبحان اﷲ )
ان شاء اﷲ سفر حج پہ مزید بھی لکھا جاراہے جو کہ عنقریب کتابی صورت میں قارئین کی خدمت میں پیش کریں گے ۔اﷲ پاک اس سعی جمیلہ کو قبول فرمائے (آمین )

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qazi Israil

Read More Articles by Qazi Israil: 38 Articles with 19895 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Jan, 2018 Views: 839

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ