بابری مسجد اور مولانا سلمان ندوی

(Ubaidullah Latif, Faisalabad)

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان اور معروف عالم دین *مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے آج ملت ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہاکہ مولانا سلمان ندوی نے میرے تعلق سے آر ایس ایس کے کیمپوں میں جانے کی جو بات کی ہے وہ درست ہے ،تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ تقریبا 28 سال پرانی بات ہے جب میں لکھنو میں رحمان فاﺅنڈیشن کے ذریعہ سماجی کاموں میں سرگرم تھا ،انہیں دنوں درس قرآن کے موقع پر میں نے اپنے ساتھیوں سے کہاکہ ہم سب اپنا بلڈ گروپ چیک کرالیں اور جہاں جس کو ضرورت پیش آئے ہم دیں ۔چناں چہ ایک شب تقریبا بارہ بجے میرے قریبی ڈاکٹر فہیم کا فون آیا اور کہاکہ ایک غیرمسلم لڑکی ہے جسے خون کی ضرورت ہے ،رات کے بارہ بج رہے تھے کسی اور سے کہنا بھی مشکل تھا اس لئے میں خود نکل گیا ،راستے میں کچھ شرپسند قسم کے جوانوں سے مجھے گھیر لیا ،ان کے سب ہاتھوں میں ہتھیار تھے اورجے شری رام کے نعرے لگارہے تھے ،ان لوگوں نے مجھے مارنے کی بھی کوشش کی اسی دروان میری زبان سے یہ جملہ نکلا عجیب بات ہے تم لوگ مجھے مارنے کی کوشش کررہے ہو اور میں ایک ہندو لڑکی کی جان بچانے جارہاہوں ،فلاں ہسپتال جاکر خون دینا ہے،پھر ان لوگوں کو میری باتوں پر یقین آیا اور اپنی گاڑی پر بیٹھاکر مجھے ہسپتال لے گئے ،جس لڑکی کو میں نے خون دیاتھا اس کا باپ آر ایس ایس کی کئی شاخوں کا انچار ج تھا چناں چہ جب اس کو میرے اس عمل کے بارے میں پتہ چلاتو وہ بہت متاثر ہوا اور اس نے کہاکہ ہمیں تو آپ لوگوں کے بارے میں کچھ اور ہی بتایاگیا ہے لیکن آپ کا عمل اس کے برعکس ہے ،اسی موقع پر انہوں نے مجھے آر ایس ایس کے کئی کیمپوں کا معائنہ کرایا ،لوگوں سے بات چیت ہوئی اور میں نے اسلام کی صحیح تصویر ان کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی* ۔

*ایک سوال کے جواب میں مولانا نے کہاکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی چپلقش اور رنجش نہیں ہے ،گذشتہ دنوں ہم اور وہ دونوں آدمی بھٹکل میں ایک ساتھ تھے ،بات چیت ہوئی اور ایسا کبھی مجھے نہیں لگے کہ میرے ترجمان بننے سے انہیں کوئی تکلیف ہے یاوہ بننا چاہ ر ہے ہوں ۔*

*انہوں نے ملت ٹائمز کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تین دن قبل وہ بورڈ کی بہت تعریف کررہے تھے اسے مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم بتلارہے تھے اچانک انہیں کیا ہوگیا اس بارے میں ہمیں بھی کچھ پتہ نہیں ہے اور تمام مسلمانوں کی طرح میں بھی حیران ہوں* ،جب ان سے پوچھاگیا کہ آر ایس ایس سے تعلق رکھنے کے الزام میں انہو ں نے آپ کے خلاف کاروئی کا مطالبہ کیا ہے تو انہوں نے کہاکہ جو بات تھی اور میں آپ کو بتادی ہے ۔مزید اس بارے میں کچھ بھی تبصرہ نہیں کرسکتا*۔مولانا نعمانی سے جب سوال کیا گیا کہ بورڈ کے خلاف مسلسل بیانات دینے اور اختلاف کرنے کی بنیاد پر کیا ان کے خلاف کوئی کاروائی کی جائے گی تو انہوں نے بتایاکہ چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس میں مولانا رابع حسنی ندوی ،مولانا ولی رحمانی ،مولانا ارشدمدنی اور مولانا خالدسیف اللہ رحمانی شریک ہیں ،جو کمیٹی کی رپوٹ آئے گی اس کے مطابق فیصلہ ہوگا ۔

ملت ٹائمز کے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا نعمانی نے کہاکہ گذشتہ دنوں لکھنومیں سنی وقف بورڈ کے چیر مین کے ساتھ بابری مسجد کیس کے سلسلے میں میٹنگ ہوئی تھی ،جس میں میرے علاوہ مولانا رابع حسنی ندوی ،مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور مولانا فضل الرحیم مجددی بھی شریک تھے ،ا س میٹنگ میں کیس کے سلسلے میں تفصیلی بات چیت ہوئی اور تمام تیاریوں کا جائزہ لیا گیا ۔مولانا نعمانی نے کہا مولانا سلمان کس بنیاد پر یہ دعوی کرہے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں اس کا علم نہیں لیکن یہ بات یقینی ہے کہ وہ ایمانداری کے ساتھ اپنا کام کررہے ہیں ۔

واضح رہے کہ مولانا سلمان ندوی نے آج صبح تقریبا ساڑھے دس بجے ایک چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے بورڈ پر کئی طرح کے سنگین الزامات لگائے اور کہاکہ بورڈ مسلمانوں کا نمائندہ ادارہ نہیں ہے ،چند لوگوں کی اس پر اجارہ داری ہے او رمتشددلوگ یہاں جمع ہیں۔انہوں نے اپنے انٹر ویو میں مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی کے خلاف بھی کئی بات کی اور ان کی دو ویڈیوکلپ ٹی وی چینل کو دیکھاتے ہوئے کہاکہ مولانابورڈ کے ترجمان ہیں لیکن اس کے باوجودان کے ایسے بیانات کے خلاف کاروئی نہیں کی جارہی ہے۔وہ آر ایس ایس کے آدمی ہیں اور بورڈ بھی سنگھ کے اشارے پر کام کررہاہے ،انہوں نے آج بورڈ کے اجلاس میں شرکت بھی نہیں کی اور کہاکہ جب میر ی بات نہیں سنی جاتی ہے تو میں کیوں جاﺅں ۔ہم آپ کو بتادیں کہ بابری مسجد ایشو پر شری شری روی شنکر سے ملاقات کرنے کے بعد مولانا ندوی کے اس اقدام کی چوطرفہ مذمت کی جارہی ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عبیداللہ لطیف Ubaidullah Latif

Read More Articles by عبیداللہ لطیف Ubaidullah Latif: 100 Articles with 114459 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Feb, 2018 Views: 325

Comments

آپ کی رائے