وَالضُّحٰی کے روشن چہرے والا !

(Kamran Buneri, Karachi)

وَالضُّحٰی کے روشن چہرے والا !
ایک دور ایسا تھا جب سارا جہاں محمد صلی اﷲ علیہ و سلم کی تکذیب کر رہا تھا،
اکیلی حضرت صدیقہ خدیجۃ الکبری،
وہ محمد صلی اﷲ علیہ و سلم کی تصدیق کر رہی تھیں،
پیغمبر اسلام زخم کھا کر گھر میں آتے تھے، جسم پتھروں سے لہولہان ہوتا تھا،
ٹانگوں سے خون رس رہا ہوتا تھا،
سر پھٹا ہوا، چہرے پر زخم،
وہ سر جس سر پر اگنے والی زلفوں کی بھی عرش والے نے قسم کھائی ہے،
وہ کندھا زخمی،
کہ جس کندھے پہ اگر کبھی چادر رکھ لی تو اﷲ پاک نے "ایھا المزمل" کہہ کر پکار دیا تھا،
وہ ٹانگیں، وہ قدم زخمی، کہ جب مکہ سے بے بسی کے عالم میں نکلے تو عرش والے کی غیرت کو جلال آ گیا، اور اس نے کہا :
لَا اقسم بھذا البلد، وانت حل بھذآ البلد
تیرے اٹھنے والے قدموں کی قسم ہے،
وہ دن آنے والا ہے،
جب تیرے قدموں کی چاپ کے سامنے، روم اور ایران کی فوجوں کے دل پارا پارا، ان کے پتے پانی ہو جائیں گے،

وہ پیغمبر اسلام! دنیا نے کبھی اتنا بہادر آدمی دیکھا ہی نہیں،
لوگ کہتے تھے اکیلے ہو کیا کرو گے؟
اور تاجدار کائنات اپنے چہرے کو اٹھا کر کہتے تھے،
میں اکیلا کہاں ہوں اﷲ میرے ساتھ ہے،
ہاں! اکیلا تو وہ ہوتا ہے رب جس کے ساتھ نہیں ہوتا،
جس کے ساتھ رب ہوتا ہے وہ اکیلا نہیں ہوتا،
ان ولی اللہ الذی نزل الكتاب

پیغمبر اسلام نکلتے، چوراہوں میں جا کر اعلان حق کرتے، آوازہ حق بلند کرتے،

لوگ کہتے، محمد اکیلے ہو، چھوڑو، ساری دنیا دشمن ہے تمہیں کیا فائدہ؟
نبی پاک اپنے گھر میں تشریف لاتے، خدیجہ الکبری قدموں میں بیٹھ جاتیں، اپنے سرتاج کے چہرے سے گرد و غبار صاف کرتیں، ان کے کپڑے کو اٹھاتی، زخموں میں اپنا دوپٹہ رکھتیں، قدم مبارک کو پانی سے دھوتیں اور کہتں،
کلا واللہ لا یخدیک اللہ ابدا
میرے آقا! میرا رب آپ کے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ رب ہوتا ہے دنیا کی کوئی طاقت اس کو پسپا نہیں کر سکتی،

محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم پھر اٹھتے،
فاصدع بما تؤمر و اَعرض عن المشركين

مکہ کے بازاروں میں جا کر توحید کا پرچم بلند کرتے ہیں، پھر مار پڑتی ہے پھر گھر آئے،

مورحین نے لکھا ہے
ایک دفعہ پیغمبر اسلام کو اتنا مارا کہ رسول پاک صلی اﷲ علیہ و سلم بے ہوش کر مکہ کے چوراہے میں گر پڑے،
ننھی سی نبی پاک کی بیٹی فاطمہ، اس کو کھیلتی ہوئی کو کسی نے کہا تیرے بابا کو آج دشمنوں نے اتنا مارا ہے کہ وہ بے ہوش ہو گیا ہے،
فاطمہ دوڑی ہوئی روتی ہوئی آئیں، اپنے بابا کے جسم اطہر کو دیکھا،
ننھی سی فاطمہ تین چار سال کی عمر ہے، نگاہیں آسمان کی طرف اٹھیں،
اﷲ! لوگوں نے میرے بابا کو جس نے کبھی زندگی میں کسی کو گالی بھی نہیں دی ہے،
اﷲ! میرے بابا نے گالی تو بڑی بات ہے میں نے اس دن بھی اپنے بابا کو دیکھا تھا جب اس کے گلوئے اطہر میں نماز کی حالت میں لوگوں نے کپڑا ڈالا ہوا تھا،
اس کے گلے کو گھوٹ رہے تھے، بابا کی آنکھیں ابل پڑی تھیں، لیکن اﷲ! وہ اس وقت بھی تیری بارگاہ سے ہٹا اور نہ ان کے بارے میں کوئی لفظ برا کہا،
اور جب نماز سے فارغ ہوئے گلوئے اطہر پر کپڑے کے نشان تھے،
جبریل نے آ کر کہا محمد صلی اﷲ علیہ و سلم آپ کا گلا چل گیا ہے،
امام کائنات نے کہا رب کی توحید کے لیے تو پہلے نبیوں کے گلے کٹ بھی گئے تھے،
اللھم اھد قومی فانھم لا یعلمون

اے اﷲ میری قوم کو ہدایت دے یہ مجھے نہیں جانتے،
اﷲ! یہ جو چاہے کر لیں میں تیری راہ سے ہٹنے والا نہیں ہوں، یہ اپنی کرکے دیکھ لیں،

یہ کون سی ہستی تھی جس پہ یہ ظلم توڑے گئے، ہمیں بنا بنایا دین مل گیا اس لیے ہم میں اس کی قدر نہیں،
ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر دل شکستہ ہو جاتے ہیں،
اور معمولی معمولی طعنوں سے گھبرا جاتے ہیں،
لیکن جب بھی دل میں آئے تو مدینے والے تاجدار کو دیکھ لیا کرو،
وہ کون تھا وہ کس کے لیے یہ ظلم کے پہاڑ سہہ گیا اپنے اوپر،

وہ تو تھا! جب چلتا تھا تو جبریل اس کی سواری کی رکاب تھامتا تھا،
وہ تو وہ تھا! جب اس کے دل سے ہوک اٹھتی تو کائنات بدل جاتی تھی،
وہ تو وہ تھا! جس کی حرکتوں کو رب نے قرآن کے حروف بنا دیا تھا،
وہ تو وہ تھا! جس مسجد میں اس نے نماز پڑھی تھی، اس مسجد میں رب نے نماز کو ایک لاکھ نماز بنا دیا تھا
وہ تو وہ تھا! جس قبرستان میں اس نے دعا مانگی رب العزت نے اس قبرستان کو جنت قرار دے دیا تھا،
وہ تو وہ تھا! جس جگہ وہ خود لیٹا تھا وہ روضۃ من ریاض الجنۃ بن گیا تھا
اور وہ تو وہ تھا! جب آنکھ اٹھاتا جبرائیل آ جاتا تھا، جب نگاہ بدلتا میکائیل آ جاتا تھا، جب پیشانی پہ بل پڑتے تھے فاروق تلوار بدست ہو جاتے تھے،
وہ تو وہ تھا! جب اس کی پیشانی پر شکن پڑ جاتی تھی تو کائنات کی شکن چشم آلود ہو جاتی تھی،
وہ تو وہ تھا! جس کے اشارہ آبرو پر کٹ جانا لوگ اپنے لیے باعث سعادت سمجھتے تھے،
وہ تو وہ تھا! کہ لوگ اس کے وضو کے قطروں کو زمین پر گرنے نہیں دیتے تھے،
اور وہ تو وہ تھا! کہ جس پر اس کی نگاہ پڑ جاتی جہنم اس پر حرام ہو جاتی تھی،

ہائے ہائے، انس! تیری یاد کس وقت آئی،
ایک ماں وہ تھی اس نے منت مانی، اللہ! مجھے بیٹا عطا کر دے تو میں اسے تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا خادم بنا دوں گی،
انس رضی اللہ عنہ نے کہا! پھر رب نے میری ماں کی منت کو پورا کیا،
دس سال خدمت کی،
انس کی ماں! تیرے نصیبے کا کیا کہنا، اور انس! تیری قسمت کا کیا کہنا،
محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا سراپا اطہر اور تجھ کو خدمت کے لیے
"یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا "
یہ خدمت کے لیے وقف ماں نے نہیں کیا، بلکہ عرش والے نے کرایا ہے،
کہا، جاؤ نبی پاک کی خدمت کرو،
دس برس خدمت کی، دس سال، دس طویل برس،
کسی نے پوچھا! آقا کو کیسا پایا ہے،
اللہ اللہ کہتے ہیں،
کئی دفعہ لوٹا ٹوٹ کے گر گیا،
وضو کروانے کے لیے آیا چھوٹ گیا، ڈر گیا، کہ کونین کا تاجدار، رحمۃ للعالمین، پیغمبر اسلام، کیا کہے گا،
فرماتے ہیں، نگاہ اٹھا کر دیکھا تو مسکراہٹ نے میرے زخمی دل پر پھاہے رکھ دیے تھے،
دس برس کا طویل عرصہ،،
کہا اس دس سال کے طویل عرصے میں میرے آقا نے مجھے کبھی اف بھی نہیں کہا ہے،
اؤے بھی نہیں کہا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kamran Buneri

Read More Articles by Kamran Buneri: 92 Articles with 175641 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Mar, 2018 Views: 958

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ