اولاد پر تربیت کا احسان جتانا

(فاطمہ عنبرین, کراچی)


والدین، دو معزز اور مکرم ہستیاں! جن کے رضا میں اللہ کی رضا ہے.لیکن کیا والدین کے لیے اجازت ہے کہ اولاد پر اپنی کی گئی اچھی تربیت کا احسان جتائیں؟

ہم میں سے اکثر لوگ جب والدین اور اولاد کی بات کرتے ہیں تو والدین کے حقوق اور اولاد کے فرائض تو ہماری انگلیوں کے پوروں پر ہوتے ہیں لیکن ہم میں سے اکثر اولاد کے حقوق فراموش کردیتے ہیں۔ جبکہ ذمہ داری دینے والے نے جب والدین کو ذمہ دار بنایا ہے تو انھیں پوری پوری تاکید کی ہے۔ ایک مسئلہ بہت اہم ہے کہ بچوں کو والدین کی تربیت نہیں کرنا ہوتی ہے بلکہ والدین کو اولاد کی تربیت کرنی ہوتی ہے تو عموماً وہ اپنے حقوق کی بات تو اولاد کو ازبر کروادیتے ہیں لیکن انھیں یہ شعور نہیں دیتے کہ بچوں کے کیا حقوق ہیں؟
صحیحین ،یعنی بخاری و مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے ووالد بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک غلام ہبہ کیا اور نبی کریم ﷺ کو یہ بات بتائی تو آپ (ﷺ) نے دریافت فرمایا: :کیا تو نے ہر بیٹے کو ایک ایک غلام ہبہ کیا ہے؟"بشیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: نہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا: "تو پھر اس غلام کو واپس لے لے ۔" اور ایک روایت میں ہے کہ آپ (ﷺ) نے فرمایا:
اتقوا الله واعدلوا بين اولادكم (صحیح بخاری)
"اللہ سے ڈرو ،اور اپنی اولاد کےدرمیان انصاف کرو۔"

کتنے والدین ہیں جو یہ بات یاد رکھتے ہیں؟ محبت پر پکڑ نہیں کہ یہ دل کا معاملہ ہے لیکن اگر بےانصافی کی تو پکڑ ہے یہ بھی بتانا ضروری ہے اولاد کو کہ تمہارے کیا حقوق ہیں؟ ورنہ یہ مسئلہ آگے جاکر بالخصوص لڑکیوں کے لیے بہت سے مسائل کھڑے کردیتا ہے۔ یہ موضوع بہت زیادہ تفصیل چاہتا ہے لیکن آج ہمیں جو بات کرنی ہے وہ یہ ہے کہ کیا والدین کے حقوق کے ساتھ کچھ فرائض بھی ہیں؟ اگر ہیں تو کیا فرائض کو احسان کہہ کر جتانا مناسب ہے؟

جس طرح اللہ نے اولاد کو حکم دیا ہے کہ والدین کے سامنے افف بھی نہ کرے بالکل ایسے ہی سورہ لقمان میں والدین کو شعور دیا جاتا ہے کہ اولاد کی تربیت کس نہج پر کرنی ہے۔ انھیں بتائیں کہ شرک نہ کریں والدین کے ساتھ احسان کریں انھیں بات کرنے کا ڈھنگ سکھائیں، کس طرح سکھانا ہے یہ بھی بتا دیا ، غرور کرنے سے کیسے بچنا ہے؟ منہ بگاڑ کر بات نہیں کرنا، نیکی کی تعلیم دینی ہے برائی کو روکنا ہے یہ سب والدین بتائیں اپنی اولاد کو۔ یہ ذمہ داری بنائی گئی ہے والدین کی، اولاد کے فرائض اپنی جگہ لیکن والدین کی کوئی معمولی پکڑ نہیں ہے غلط تربیت پر۔

حدیث مبارکہ ہے:
"کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ"
ترجمہ: تم میں سے ہر شخص حکمران ہے، اس سے اسکی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔
ہمارے استاد فرماتے تھے: کہ ہر انسان اپنی ذات کے اندر حکمران ہے اور اسکی کچھ نہ کچھ رعایا ہے جو اس کا حکم مانتی ہے، اور اس رعایا کے حقوق اور انکے استعمال کے بارے میں قیامت میں حکمران جواب دہ ہوگا۔ جیسے سلطنت کے حکمران جواب دہ ہونگے،
اگر شوہر ہے تو بیوی اسکی رعایا ہے،
ماں یا باپ ہے تو بچے رعایا ہیں
بڑا بھائی ہے تو چھوٹے رعایا ہیں
اور ہر عام و خاص انسان کے اعضاء و جوارح بھی اسکی رعایا ہیں
ہاتھ اور پاؤں اسکی مرضی سے کام کرتے ہیں
دماغ مرضی سے سوچتا ہے،
ان کے استعمال پر بھی سوال ہوگا
بلکہ انسان کی صلاحتیں بھی اسکی رعایا ہیں
اللہ قیامت کے دن پوچھینگے کہ تمہیں فلاں صلاحیت دی تھی، اسلیئے دی تھی کہ مخلوق کو فائدہ پہنچاؤ، تم نے کتنا فائدہ پہنچایا؟
اسی طرح دنیا کا کارخانہ چلا رہا ہے۔
اپنی رعایا سے کام لو۔
آور انکے حقوق کا خال رکھو۔
یعنی پکڑ سے بچنے کی نیت رکھی جائے اور موقع ملتے ہی احسان جتانے کا کام نہ کیا جائے۔ بچوں کی تربیت اپنے مفاد کے لیے نہ کی جائے
حدیث پاک میں ارشاد ہوتا ہے
إِنَّمَا لِكُلِّ امرئٍ مَا نَوَى
آدمی کے لیے وہی چیز ہے جس کی اس نے نیت کی

تو تربیت تو کرنی ہے لیکن اللہ کی پکڑ سے بچنے کی نیت کر کے ہی فرائض کی ادائیگی کی جائے تو بہترین ہے۔ اگر اولاد کی تربیت کرتے ہوئے نیت اللہ کے احکام کے مطابق فرائض کی ادائیگی ہے تو اللہ پاک قبول فرمانے والا ہے، مبارک ہو دنیا بھی آپ کی آخرت بھی آپ کی ، اگر نیت ایک اچھی قوم کی تربیت میں حصہ ڈالنا ہے تو یقیناً ایک اچھی قوم کا عکس نظر آنے لگے گا لیکن اگر نیت صرف اپنے بڑھاپے کا سہارا مضبوط کرنا ہے یا اولاد کو اپنے قبضے میں رکھنا ہے اپنی محبتوں اپنی خدمتوں کا حساب لینا ہے تو معزز والدین! آپ کو یہ سب شاید مل جائے لیکن اللہ کی رضامندی آپ کھو دیں گے اور جب اللہ کی رضا کھو دی تو دل کا سکون بھی غارت! آپ نے بچے کو اعلیٰ تعلیم دلوائی ہے یا معاشرے میں اٹھنے بیٹھنے کا ڈھنگ سکھایا ہے تو یہ سب آپ نے اپنے فرائض پورے کیے، بدلہ تو صرف اللہ سے ہی طلب کیجیے اپنی اولاد کی پرورش کرتے ہوئے خیال رکھیں کہ عزت نفس آپ کی ہے تو اولاد کا بھی اتنا ہی حق ہے کہ اسکی عزت نفس کا پاس رکھا جائے اسے محبت اور تعظیم سے مخاطب کیا جائے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ”اپنی اولاد کا اکرام و احترام کرو اور انہیں اچھے آداب سکھاﺅ۔“(ابن ماجہ)

اپنی اولاد کو ایک مخصوص عمر کے بعد آزاد چھوڑ دیجیے آپ کے ساتھ سلوک میں آپ کے ساتھ جُڑے رہنے میں آپ کی تابعداری میں آپ کی عزت و تکریم میں! اگر آپ نے اللہ کی رضا کے لیے بہترین تربیت کی ہے تو اللہ کبھی اپنے بندوں کو مایوس نہیں کرتا ، آپ کی اولاد کی قسمت ہے آپ کے بتائے ہوئے سنہری اصولوں پر چلی تو آپ کی ہی طرح دنیا و آخرت سنوار لے گی ورنہ جو اسکی قسمت۔ زندگی میں ایک اصول ہمیشہ یاد رکھیں بچے ہماری رعایا ہیں لیکن بچپن کی حد تک! جب وہ تعلیم مکمل کرلیتے ہیں تو پھر جاب ہو یا شادی ان معاملات میں آپ ایک اچھے مشیر ضرور بنیں لیکن ڈکٹیٹر نہ بنیں، اب آپ کی حکمرانی کا وقت ختم ہوا اب اولاد کے عمل کی جوابدہی کا وقت شروع ہوا اورہر انسان کی طرح یہ اختیار اللہ نے اسے بھی دیا ہے کہ وہ اپنے لیے خیر کا راستہ چنتا ہے یا شر کا۔ آپ اس کے لیے صرف دعا کرنے والے بن جائیں کسی بھی موقع پر اگر آپ کو اس سے کوئی تکلیف بھی پہنچی ہے تو الفاظ اچھے ادا کیجیے غصے میں بددعا اور کوسنے مت دیں یہ محض شیطان کا ڈھونگ ہے کہ والدین دل سے بددعا نہیں دیتے الفاظ کی قبولیت کا وقت ہوا تو دعا ہو یا بددعا مقبول ہوجاتی ہے۔ ایک واقعہ جو یقیناً سب نے سنا ہوگا لیکن وہی بات کہ دہراتے رہنے سے یادداشت اچھی رہتی ہے۔

اِمام حرم عبدالرحمٰن السدیس ایک واقعہ سناتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک لڑکا ہوا کرتا تھا، اپنے ہم عُمر لڑکوں کی طرح شرارتی اور چھوٹی موٹی غلطیاں کرنے والا۔ مگر ایک دن شاید غلطی اور شرارت ایسی کر بیٹھا کہ اُسکی ماں کو طیش آگیا، غصے سے بھری ماں نے لڑکے کو کہا (غصے سے بپھر جانے والی مائیں الفاظ پر غور کریں) لڑکے کی ماں نے کہا؛ چل بھاگ اِدھر سے، اللہ تجھے حرم شریف کا اِمام بنائے۔ یہ بات بتاتے ہوئے شیخ صاحب پھوٹ پھوٹ کر رو دیئے، ذرا ڈھارس بندھی تو رُندھی ہوئی آواز میں بولے؛ اے اُمت اِسلام، دیکھ لو وہ شرارتی لڑکا میں کھڑا ہوا ہوں تمہارے سامنے اِمام حرم عبدالرحمٰن السدیس۔

تو والدین کی دعائیں تو عرش ہلا دیتی ہیں اور جب عرش والا سن رہا ہے تو انسانوں سے کیا توقع؟ چاہے وہ اپنی اولاد ہی کیوں نہ ہو۔ احسان کرکے احسان جتانے سے منع کیا گیا ہے چاہے آپ نے وہ احسان کسی مسکین پر ہی کیوں نہ کیا ہو تو اپنی اولاد پر تو آپ کی بہت سی ذمہ داریاں ہیں جو اللہ نے آپ کے دل کو اولاد کی محبت سے چُور کرکے آپ کو کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ پھر احسان جتانے کا اور اپنی ہیرے موتی جیسی نیکیاں گنوانے کا کیا فائدہ؟ اگر تربیت اچھی کردی ہے تو شکر ادا کیجیے کہ اللہ نے اہل بنایا کہ بس وہی چاہے تو انسان اہل ہوتا ہے ورنہ تو ایسا نااہل کہ اولاد بھی جم کر کھڑی ہوتی ہے اور پوچھتی ہے "آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے؟ جو بھی کیا وہ تو آپ کا فرض تھا" اس وقت سوچ میں پڑجاتے ہیں والدین کہ اس اولاد کے لیے کرتے رہے سب کچھ؟ تو بہتر ہے پہلے ہی اِس اولاد کے بجائے اُس رب العٰلمین کے لیے کیجیے جو پُرخلوص محنتوں پر ہی راضی ہوجاتا ہے، اسے آپ سے اور کچھ نہیں چاہیے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: فاطمہ عنبرین

Read More Articles by فاطمہ عنبرین: 12 Articles with 13712 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Mar, 2018 Views: 626

Comments

آپ کی رائے