امتحانات کا موسم

(Shoukat Ullah, Banu)

یہ ایک مشکل کام ہے کہ کسی کے لئے یا کسی کے بارے میں کچھ لکھا جائے۔ لیکن خوش قسمتی سے یہ کام ایک شاگرد نے اپنی ڈائری تھماتے ہوئے مجھے سونپ دیا۔ کیوں کہ شاگردوں کے لئے نصیحتوں کے سوا کوئی اور اچھی بات ہو ہی نہیں سکتی اور جس میں پڑھائی سرفہرست ٹھہرتی ہے۔ امتحانات کے مہینے بھی شروع ہوچکے ہیں بلکہ جماعت پنجم اور ہشتم کے جائزہ امتحانا ت بھی جاری ہیں۔اس کے بعد طالب علموں کے لئے اپنے کیرئیر کے کلیدی امتحانات یعنی میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات آنے والے ہیں۔اگر ماضی کے جھروکوں میں جھانک کر دیکھا جائے تو ان مہینوں میں کھیلوں بالخصوص کرکٹ کے بڑے ایونٹس کا انعقاد آپ کو نظر آئے گا۔ آج کل بھی پاکستان سپر لیگ کا بخار ہر طرف چڑھا ہوا دکھائی دے رہا ہے جو25 مارچ تک جاری رہے گا۔چناں چہ آج کا کالم اسی حوالے سے تحریر کر رہاہوں۔ اس میں کوئی شک و شبہے کی گنجائش نہیں ہے کہ پڑھائی کو اولین ترجیحات میں رکھنا ہی دراصل کامیابی کی کنجی ہے۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ طالب علم پڑھائی کے لئے ایک ٹائم ٹیبل تیار کریں۔ چوبیس گھنٹوں کے اندرفرصت کے اوقات کو معلوم کیا جائے یعنی نماز ، کھانے ، پینے اور سونے وغیرہ کے اوقات نکال کر باقی اوقات کو پڑھائی کے لئے مختص کیا جائے۔ پھر ان کو مناسب وقفوں میں تقسیم کیا جائے اور مضامین کو ان وقفوں میں ترتیب سے رکھا جائے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ وقت اور مضامین کی تقسیم کے بعد اس ٹائم ٹیبل پر عمل درآمد اَز حد ضروری ہے۔یوں پڑھائی کی ریل گاڑی صحیح ٹریک پر رواں دواں ہو جائے گی۔ گاڑی مختلف مقامات پر واقع سٹیشنوں پر رُکے گی۔ جہاں طالب علم آرام کی غرض سے قیام کریں گے۔ اگر یہ گاڑی امتحانی دنوں تک صحیح سمت چلتی رہے تو کامیابی بعید نہیں۔ بسا اوقات یہ بات دیکھی گئی ہے کہ طالب علموں کے اپنے بنائے گئے ٹائم ٹیبل کی عمر نہایت قلیل ہوتی ہے اور پڑھائی کا تسلسل ٹائم ٹیبل ہونے کے باوجود جلد ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کے برعکس دیکھا جائے تو مدرسے کا ٹائم ٹیبل نہایت پائیدار ہوتا ہے۔ دونوں میں فرق صرف ماحول کا ہے ۔مدرسے میں انتظامیہ کا عنصر نمایاں کردار سرانجام دیتا ہے جب کہ گھر وں پر اکثرطالب علموں کے والدین اور سرپرست اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے نہیں نبھاتے ہیں۔پس والدین اورسرپرست افراد سے گزارش ہے کہ وہ بچوں کے لئے ایک ایسا ماحول پیدا کریں جن میں وہ اپنے بنائے گئے ٹائم ٹیبل کے مطابق پڑھائی کرسکیں۔ مانیٹرنگ اور چیک اینڈ بیلنس کا ایک ایسا نظام وضع کریں جہاں بچوں کی تعلیمی گاڑی اپنے ٹریک پر آگے بڑھتی رہے۔ یوں اُن کی بچوں سے وابستہ توقعات اور خواہشات بھی پوری ہوں گی۔ طالب علموں کے لئے ہماری یہ نصیحت ہے کہ وہ اپنا ٹائم ٹیبل قلیل المدت ترتیب دیں اور اس میں تعلیمی مقاصد کو بھی قلیل رکھیں۔اس طرح ان کو جائزہ لینے میں دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ مطلوبہ مقاصد کے حصول کے بعد از سر نو ٹائم ٹیبل کو نئے مقاصد کے مطابق ترتیب دیں۔ اُمید قوی ہے کہ کامیابی اُن کے قدم چوم گی۔ بقول شاعر۔
پڑھائی کو رکھو ہمیشہ عزیز
پڑھائی سے بڑھ کر نہیں کوئی چیز

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 124408 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Mar, 2018 Views: 539

Comments

آپ کی رائے