معاشرتی گناہ

(Ain ul Noor Javed, Islamabad)

اللہ پاک نے معاشرے کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیۓ گناہ اور ثواب مقرر کیۓ ہیں۔ مگر کیا ہمارے تمام اعمال اسلام کے بتاۓ گۓ تمام گناہ اور ثواب کے تحت ہیں؟ کیا تمام گناہ صرف مذہبی ہیں؟ اور معاشرے کے بناۓ ھوۓ گناہ ، مذہبی گناہ سے کتنا مشابہ ہیں اور کتنا مختلف ھیں؟

ہمارا معاشرہ مذہب (اسلام) کی بنیاد پر ھے۔ یہاں کا قانون، غلط اور صحیح اسلام کے نظریہ سے جڑا ہے۔ مگر کچھ ایسے بھی گناہ ہمارے معاشرے میں دیکھنے کو ملتے ھیں جن کو اسلام نے گناہ قرار نہیں دیا مگر معاشرہ اسے گناہ کی نظر سے دیکھتا ھے۔ مذہب میں قرار دیۓ گۓ گناہ اور معاشرے میں بناۓ گۓ گناہ میں تضاد اور ایک بڑا اختلاف ھمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسلہ ہے۔ سب سے پہلے ہم شادی پہ بات کرتے ھیں۔ اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ والدین کا فرض ہے کہ وہ شادی سے پہلے اپنی اولاد کی راۓ جانیں، اور اولاد کی پسند اور نا پسند کے بارے میں اپنی اولاد کو آزادانہ راۓ دینے کا حق دیں۔ اس کے برعکس، ھمارے معاشرے میں اس حق کو کچھ یوں بیان کیا جاتایے۔

انا (ہمارے بچوں کی یہ مجال کہ وہ انکار کریں)۔ مسلط کرنا ( ہماری راۓ پہ انہں اف تک نہں کرنا چاہیۓ) ۔ بے حیاٰئ ( اپنی پسند اپنی زبانی ، گستاخ نافرمان اولاد) وغیرہ۔ مذید یہ کہ، جہاں ماں باپ کے حقوق اور اولاد کے فرائض پہ توجہ دی جاتی ھے، وہاں اولاد کے حقوق، اور فرائض پر بھی مساوی توجہ دینی چایۓ جس کی شاید زیادہ ضرورت ہے۔اسی طرح، مذہب اور دنیا، دونوں کو ساتھ رکھنا لازم ھے مگر مساوی درجے کے ساتھ ۔ اسلام نے زنا کو گناہ اور حرام قرار دیا۔ مگر ساتھ ھی نکاح کا بھی حکم اس طرح سے دیا کہ جب اولاد بالغ ہو جاۓ، اسکا نکاح کر دینا چایۓ تا کہ نفسانی خواہشات معاشرے میں انتشار کا باعث نا بنے۔ اس بات کے ایک پہلو پہ سختی سے عمل کیا جاتا ھے۔ زنا کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، اور بدکردار عمل سمجھا جاتا ہے۔ مگر ساتھ ھی نکاح میں مختلف طرح سے تا خیر اور رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں۔ تاخیر کی وجوہات تعلیم اور نوکری سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ نوکری کے بغیر کوئی بیٹی نہیں دیتا ( سمجھا جاتا ہے کہ بیٹی کی خوشی اور ضمانت محض نوکری سے جڑی ہے مگر در حقیقت ، بیٹی اپنی قسمت لاتی ہے، کبھی فقیر کو بادشاہت مل جاتی ھے، اور کبھی بادشاہ فقیر ہو جاتے ہیں)۔ دوسری طرف، لڑکیوں کی تعلیم بلا شبہ بہت ضروری اور بنیادی حق ہے، مگر سمجھا جاتا ہے کہ تعلیم شاید صرف شادی سے پہلے ممکن ہے، شادی کے بعد نہں ( یہ قانون بھی ہمارے بناۓ ہوۓ ھیں)۔ جس کی وجہ سے شادی یا نکاح میں تاخیر کی جاتی ہے۔ اسکی ایک وجہ یہ بھی ھے شاید کہ شادی کے بعد لڑکی اپنی ساری توجہ اپنے سسرال کے فرائض پر دے۔ مگر، تعلیم ایک ایسا سفر ہے جو ہر عمر میں حاصل کرنا چایۓ ۔ نیز یہ کہ تعلیم یا علم حاصل کرنے کے لیۓ دنیا کو ترک کرنے کی ضرورت نہں اور نا ہی نازک ہونا شرط ہے۔

اسلام میں عورتوں کو بلا شبہ ایک اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ اسلام میں طلاق کو ناپسندیدہ مگر جائز عمل قرار دیا ہے۔ طلاق یافتہ عورت بھی انسان ہے اور طلاق بلاشبہ گناہ نہیں ہے۔ مگر ھمارے معاشرے میں طلاق یافتہ عورت کو ایک مجرم اور بوجھ ہی سمجھا جاتا ہے ۔ یعنی طلاق یافتہ ہونا بھی معاشرتی گناہ ہے۔ اسی طرح، اسلام کہتا ہے کہ مردوں کو چاہۓ کہ شادی کے بعد ، اپنی ماں اور اپنی بیوی کو مساوی حقوق دے۔ اسلام سکھاتا ہے کہ شادی کے بعد، اپنی اولاد کو الیحدہ کر دو۔ مگر ھمارے معاشرے میں اگر اولاد مطالبہ کرے علیحدہ ھونے کا تو اسے گنہگار اور نافرمانبردار اولاد سمجھا جاتا ہے۔ ( نیز یہ کہ، اولاد کو علیحدہ کرنے کے بعد اولاد کا پورا پورا فرض ہے کہ وہ اپنے والدین کی خدمت میں کوئ کمی نا رکھیں)۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ain ul Noor Javed

Read More Articles by Ain ul Noor Javed: 9 Articles with 7803 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Mar, 2018 Views: 581

Comments

آپ کی رائے
Hmm good lakin insan ko khud nh pata k wo kiya kary ham log bhatkay hue hain kabi muasharte to kabi mazhabi itarf nh hay ik tang hamari duniyawi or dusri muzhabe kashte may hy
By: Armghan rasool, Rawalpindi on Mar, 23 2018
Reply Reply
1 Like
Very nice superb is me or bhi izafa kia jaye or bhi masharti gunah hen jin ko bhi detail me bayan kijiye
By: Talha, Sukkur on Mar, 22 2018
Reply Reply
1 Like