آزادی کے خلاف نہیں ،آزاد ماحول کے خلاف ہوں۔۔۔

(Junaid Raza, Karachi)

سامنے روزانہ سڑکوں کنارے سر عام جسم فروشی ہوتی ہے، ہمارے نوجوان لو تھائی جینز پہن کر نیم برہنہ حالت میں موٹر سائیکلز چلاتے ہیں۔ سکولوں ، کالجوں کے لڑکے بالوں کے وہ سٹائل بنا کر پھرتے ہیں جن کو ہمارے زمانے میں ہمارے بزرگــ کنجر سٹائل کہا کرتے تھے، اور اب یہ رواج عام ہے۔ ہر گلی میں دو دو بیوٹی سیلون کھل گئے ہیں، جس میں لڑکے میک اپ کرواتے ہیں۔ یہ قوم کی نئی نسل کیا لڑے گی اپنی زمین کے لئے، جو نائی کی دکان پر جا کر نئے سٹائل کے بال کٹوانے میں مگن ہے اور ہیجڑوں کی طرح سرخی پاڈر لگا کر بننے سنورنے میں مگن ہے۔۔۔!!

سوشل میڈیا کی دنیا میں کوئی پرنس ہے تو کوئی کنگ، چارمنگ ہے تو کوئی مون، ارے کوئی انسان بھی ہے۔۔۔؟؟ سارا سارا دن لڑکیوں سے باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ان لڑکیوں کے والدین پر مجھے حیرت ہوتی ہے ،جو اتنے بے خبر ہیں اپنی بچیوں کی جانب سے۔ کوتاہیاں اپنی ہوتی ہیں پھر الزام کمپیوٹر پر، موبائل فونز پر اور انٹر نیٹ پر دھر دیتے ہیں۔ وہ عورتیں جو باہر نکلتی ہیں ان کو بنتے سنورتے یہ سوچنا چاہئے، کہ باہر کی جو دنیا ہے وہ اندھی نہیں ہے،بلکہ ان کی آنکھیں ہیں اور مفت کی میں تو قاضی بھی نہیں چھوڑا کرتا۔ عورت تو پھر مرد کی کمزوری ہے، وہ اس سہولت سے فائدہ کیونکر نہ اٹھائے۔ خدا کا خوف ختم اور پیسے کے چھننے کا خوف بڑا ہو گیا ہے۔ لوگوں کو یہ فکر نہیں رہی کہ ان کے گھر کی بچیاں نئے نئے موبائل فونز کہاں سے لا رہی ہیں، وہ اس بات پر خوش ہیں کہ ان کی بچیوں اور بچوں کے دوست کتنے اچھے ہیں جو ان کو اتنے مہنگے تحائف دیتے ہیں۔ ایک لمحے کو اگر وہ یہ سوچیں ،کہ جو موبائل ان کی بیٹی نے اٹھایا ہے اس کی قیمت نقد نہیں بلکہ جسمانی مشقت سے چکائی ہے، تو شرم سے ڈوب مریں لیکن جہاں اقدار پر پیسہ حاوی ہو جائے وہاں غیرت پر بے غیرتی حاوی ہو جاتی ہے اور یہی ہو رہا ہے اور تب تک ہوتا رہے گا جب تک ہم اس روش کو ترک نہیں کریں...!!

یہ جھوٹ ہے کی آج کا انسان عورت کی آزادی چاہتا ہے ، بلکی سچ بات تو یہ ہے کی وہ عورت تک پہنچنے کی آزادی چاہتا ہے۔۔!!!

اور اگر آپ یہ تصور کریں کے راقم آزادی کے حق میں نہیں اور اسی بنا پر ہمیں بھی آزادی سے روک رہا ہے تو یہ سراسر غلط اورآپ نیچ سوچ کے حامل ہونگے ،میں کب،کیسے آزادی کے خلاف ہوسکتا ہوں۔میرے بھائی میں آزادی نہیں بلکہ آزاد ماحول کے خلا ف ہو۔جس کی وجہ سے میرا اسلامی ملک اسلامی قلعہ کہلانے کے قابل نا رہا،آج وطن عزیز میں اسلامیت ،ایمانیت ،دیانیت اور اخلاقیت کے بجائے حیوانیت اورمغربیت کی ہوائیں چل رہی ہیں،جنکی مثالیں آئے روز منظر عام پر آتی رہتی ہیں ۔

اور آخر میں تمام ماوٗں ،بہنوں اور بیٹیوں سے اور خصوصا ـمیرا جسم ،میری مرضی کا نعرہ لگانے والی تمام عورتوں سے صرف اتنا ہی کہونگا۔۔۔
سچ تو یہ ہے جاناں
یہاں چل رہا ہے کنجر خانہ
کب جال میں پھنسے گی تو
تیرے آگے ڈال تو رہے ہیں دانہ
موسیقی جو روح کی غذا ٹھہری
اس بربادی پر بھی چلا کوئی گانا
ایک بار کہاں دل بھرتا ہے جسم سے
کہنے والا کہے گا دلدار واپس پھر آنا
طوائف کو روزگار کی فکر لاحق ہے
یہاں مفت ملتا ہے سب بنا کر پیار بہانہ
گھر کی دہلیز جو ایک بار پار کرے کوئی
پھر تو لگا رہتا ہے اسکا آنا جانا
سب مصروف ہیں بستر گرم کرنے میں
حیران ہوں کدھر چل پڑا ہے زمانہ
جنید لوگ یہ بات بھول گئے ہیں شاید
دنیا فانی سب نے واپس ہے جانا۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Junaid Raza

Read More Articles by Junaid Raza: 24 Articles with 25192 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Mar, 2018 Views: 258

Comments

آپ کی رائے