عام آدمی کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟

(Dr. Muhammad Javed, Karachi)

عمدہ اخلاق اور روئیے کسی قوم کے تہذیب یافتہ ہونے کا ثبوت ہوتے ہیں،زندگی کا کوئی بھی شعبہ،ادارہ،بازار،دو کان،گلی کوچہ ،سواری ،تھانہ،دفتر،بنک،ڈاکخانہ،پارک،سکول اورگھر حتیٰ کہ کوئی بھی ایسا مقام جہاں انسان لین دین کرتے ہوں،معاملات زندگی میں مصروف ہوں یا رہائش پذیر ہوں یا اپنی ادارہ جاتی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہوں۔ان کا برتاؤ،رکھ رکھاؤ،نہ صرف انفرادی سطح پہ فرد کی عزت اور توقیر کا باعث بنتا ہے وہاں ادارے کی بھی عزت اور ترقی کی وجہ بنتا ہے اور اس ادارے میں آنے والے افراد کے لئے بھی مسرت اور آسانی کا باعث ہوتا ہے۔ہمارے معاشرے میں جہاں دیگر خرابیاں موجود ہیں وہاں منفی برتاؤ،بد اخلاقی،چڑا چڑا پن کی کیفیت عام نظر آتی ہے۔عام آدمی ایک طرح کے خوف میں مبتلا رہتاہے،ذہنی اذیت ہمہ وقت اس کے سد راہ رہتی ہے۔کیونکہ ہر دن اسے کہیں نہ کہیں کسی بھی ادارے میں اپنی روز مرہ زندگی میں واسطہ پڑتا ہے مثلا جب آپ بل جمع کروانے بینک جاتے ہیں وہاں کاؤنٹر پہ بیٹھا کلرک پبلک کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھتا ہے کہ جیسے وہ کوئی بہت بڑے مجرم ہوں،بل جمع کرنا اس کی ذمہ داری میں شامل ہوتا ہے اور بینک اس کو اس کی تنخواہ بھی دیتا ہے لیکن خوش خلقی اور اچھے برتاؤ اس کی ڈیوٹی میں شامل نہیں ہوتا لہذا بعض اوقات وہ کسی ضعیف ان پڑھ یا عام آدمی کے کسی سوال جو کہ اسے رہنمائی کیلئے چاہئے کا جواب دینا بھی اسے ناگوار گزرتا ہے۔مثال کے طور پہ اکرم نام کا ایک مزدور آدمی لاہور کے ایک مقامی بینک میں داخل ہوتا ہے اس کے سادہ حلئے کو دیکھ کر سب سے پہلے تو گیٹ پہ کھڑے چو کیدار اس سے طرح طرح کے سوال کرتا ہے اس کی جامہ تلاشی لیتا ہے اور پھر اسے اندر جانے دیتا ہے وہ بیچارہ شاید بینک پہلی دفعہ آیا۔ وہ مختلف کاؤنٹرز پہ جا کر کھڑا ہوتا ہے کوئی اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا با لاخر ایک صاحب اس کی طرف توجہ فرماتے ہیں تو وہ پوچھتا ہے کہ وہ فلاں علاقے کا ہے اور بجلی کا بل جمع کروانے آیا ہے تووہ صاحب مضحکہ خیز انداز اور توہین آمیز انداز میں اس کو جواب دیتے ہیں کہ تمہیں اتنا پتہ نہیں ہے،سارے علاقوں کا ٹھیکہ ہم نے لیا ہوا ہے بل جمع کرنے کا۔اسی طرح کے جملے کسنے کے بعد وہ اپنے کاموں میں مشغول ہوجاتا ہے۔یہ عام معمول ہے چاہے سر کاری بینک ہوں یا پرائیویٹ، پوسٹ آفس ہو یا شناختی کارڈ کا دفتر حلئے کو دیکھ کر آپ سے بات چیت کے انداز بدلے جاتے ہیں۔اگر آپ کچھ بول سکتے ہیں،احتجاج کر سکتے ہیں،یا آپ کا حلیہ ایسا ہے ،کوٹ پتلون،ٹائی پہنی ہے تو بات بن جاتی ہے ورنہ نہ تو کسی کو یہ احساس ہوتا ہے کہ سامنے کوئی انسان کھڑا ہے اس کی بھی عزت نفس ہے،اسے تکلیف نہیں ہونی چاہئے اور اچھا رویہ اور برتاؤ بھی ہماری ذمہ داری میں شامل ہے۔

لوکل بسوں میں سفر کرو یا کسی اور پبلک ٹرانسپورٹ میں وہاں بھی کچھ ایسی ہی کیفیت کنڈکٹروں کے دھکے اور فقرے ایک بھلے مانس آدمی کو تو پسینے پسینے کر دیتے ہیں۔اسی طرح آپ ڈاکخانے چلے جائیں یا ہسپتال چلے جائیں ہر جگہ یہ خوف دامن گیر رہتا ہے کہ آپ کے جائز مسئلے کے حل کے لئے آپ کو گیٹ کیپروں سے لے کر کلرکوں،کمپوڈروں، افسروں اورڈاکٹروں کے سر مہری پہ مبنی رویوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔حالانکہ آپ کے سامنے جو کلرک،چپڑاسی،افسر یا کوئی اور ذمہ دار شخص کسی بھی ادارے ،شعبے میں اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا ہوتا ہے اس کی یہ اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آنے والے مرد یا عورت کی خندہ پیشانی سے اچھی طرح سے بات سنے اور اس کو درپیش مسئلے یا اس کے کام کے حوالے سے اسے مکمل رہنمائی فراہم کرے۔سرد مہری یا سخت گیری ہمارے مزاج کا حصہ بن چکی ہے۔ یہاں تک کہ کسی سر کاری ہسپتال میں جائیں مختلف وارڈز میں دیکھیں نرسز اور ڈاکٹرز کا رویہ عام آدمیوں کے ساتھ تو ہے ہی منفیت پہ مبنی مریضوں کے ساتھ بھی وہ اسی طرح پیش آتے ہیں۔مریض بوڑھا ہو یا جوان ،بچہ ہو یا عورت سب کے ساتھ روکھے پن اور سرد مہری عام ہے۔اس کا مشاہدہ شہر کے بڑے ہسپتالوں کے آؤٹ ڈور مریضوں کو دیکھنے والے ڈاکٹروں کے رویوں سے کیا جا سکتا ہے۔ایک مریض کا کہنا تھا کہ ہمدردی کا رویہ تو دور کی بات ہے ڈاکٹر نے تو اس کے جسم کے متاثر حصے یا مرض کے بارے میں کسی قسم کا سوال کرنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی۔بس منہ سے نکلنے والے الفاظ پہ فوراً دوائی لکھ کے پرچی ہاتھ میں تھما دی۔اور اگر غلطی سے کوئی سوال پوچھ لیا جائے تو ڈاکٹر کی تیوری پہ بل پڑ جاتے ہیں۔لیکن ہاں یہی ڈاکٹرز شام کو پرا ئیویٹ کلینکس میں ہر مریض کو خندہ پیشانی سے ملتے نظر آتے ہیں اور خوب اچھی طرح سے مریض کو دیکھتے اور اسے مشورے دیتے نظر آتے ہیں۔اس کا مشاہدہ بھی پرائیویٹ کلینکس اور ہسپتالوں میں بخوبی کیا جا سکتا ہے۔آپ نے اگر پاسپورٹ بنوانا ہو یا شناختی کارڈ ،اگر کوئی معلومات لینی ہوں تو یہ ایک اذیت ناک کام تصور ہوتا ہے۔ یا ریلوے کے دفتر سے معلومات لینی ہوں،دفتروں کی کرسیوں پہ بیٹھے وہ افراد ایسا لگتا ہے جیسے کسی دوسری دنیا کے باسی ہوں۔حالانکہ وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔کاؤنٹر کے باہر لمبی قطاریں لگی ہوں گی لوگ گھنٹوں کھڑے ہیں جن میں بوڑھے،بیمار بھی لوگ شامل ہوتے ہیں۔لیکن کاؤنٹر پہ بیٹھے ایک جونئیر کلرک کو اس سے کوئی سرو کار نہیں وہ کھڑکی کھول کے سب سے پہلے چائے پیئے گا،پھر فون پہ بات چیت کرے گا،اس کے بعد اخبار پڑھے گا،اگر سگریٹ نوشی کرنے والا ہے تو وہ سگریٹ پئے گا اور پھر بڑے ناز اور نخرے سے اپنی سیٹ پہ بر اجمان ہو گا اور رسیدوں اور رقم کو لوگوں کے ہاتھوں سے توہین آمیز اور احسان کرنے والے انداز سے لے گا،ماتھے پہ سلوٹیں ہوں گی،اور اگر کوئی کسی قسم کی شکایت کرے گا تو اس کی بے عزتی کرنے میں دو منٹ بھی نہیں لگائے گا۔

عام آدمی کا خوف کسی بھی لمحے کم نہیں ہوتا ،ذرا تھانے کا احوال ملاحظہ ہو،عام طور پہ تو پولیس کی وردی میں ملبوس شخص پہ نظر پڑتے ہی عدم تحفظ کا احساس دامن گیر ہو جاتا ہے۔چاہے آپ جو بھی ہوں کسی ناکہ پہ کسی بیرئیر پہ کسی بلڈنگ کے گیٹ پہ ہوں آپ کو ایک مجرم کی نظر میں دیکھنا عام ہے،اور یہی نہیں بلکہ آپ سے شناخت کروانے اور آپ کی جامہ تلاشی کا تمام عمل آپ کو آپ کی نظروں میں مجرم بنا دینے کے لئے کافی ہوتا ہے۔امریکہ کی لوگ مثالیں دیتے ہیں کہ جہاں مجرم کو بھی انسانی سلوک کا حقدار سمجھا جاتا ہے اور یہاں ایک شریف سیدھا سادا آدمی چوروں کی طرح پولیس اہلکاروں کے رویوں کو سہنے پہ مجبور ہوتا ہے۔یہ تو روداد ہے عام چوراہوں ،سڑکوں وغیرہ کی اگر خدا نا خواستہ آپ کو کسی تھانے میں جانا پڑ جائے ،آپ غلطی سے داد رسی کے لئے پولیس رپورٹ لکھوانا چاہیں تو خدا کی پناہ۔آپ کو ذہنی اذیت اور تکلیف کے وہ مناظر بھگتنے پڑتے ہیں جو ناقابل بیان ہیں۔ایک واقعہ مشہور ہے کہ کسی گاؤں میں ایک شخص کی بکری گم ہو گئی وہ تھانے رپورٹ لکھوانے گیا،غریب آدمی تھا اس کی جمع پونجی یہی تھی۔تھانے پہنچا دیکھا تھانیدار صاحب آرام فرما رہے ہیں،اہلکار آپس میں گپ شپ میں مصروف ہیں۔اس دیہاتی نے درخواست کی کہ میری بکری گم ہو گئی ہے میری رپورٹ لکھیں ،پہلے تو اسے ایک طرف کافی دیر تک بٹھایا گیا کہ صاحب فارغ نہیں ہیں ،پھر جب اس کی بات سنی تو سب نے اس کا خوب مزاق اڑایا،جب اس نے اصرار کیا تو تھانیدار صاحب کو اس دخل در معقولات پہ سخت غصہ آیا اور اسے گالیوں سے نوازا اور جب وہ دیہاتی مزید اصرار پہ اتر آیا تو تھانیدار صاحب نے حکم دیا کہ اس کی بکری بر آ مد کی جائے،لہذا مجھے لگتا ہے کہ اس نے اپنی بکری خود ہی کہیں چھپا دی ہے اور یہ چاہتا ہے کہ کسی اور کو پھنسایا جائے لہذا تفتیش یہاں سے شروع کرتے ہیں اسے لے جاؤ اس کی چھترول کرو اور اس سے پو چھو کہ بکری کہاں گئی؟لہذا اس غریب کی چھترول شروع ہوئی اسی دوران اس نے کسی طرح اپنے آپ کو چھڑایا اور کانوں کو ہاتھ لگایا کہ آئندہ کبھی بکری کی گم شدگی کے بارے میں اپنی زبان پہ ایک لفظ بھی نہیں لاؤں گا اور آناً فاناً تھانے کی حدود سے بھاگ گیا۔ اور تھانیدار اور اہلکاروں کے قہقہے گونج اٹھے۔لیکن کبھی کبھی یہی پولیس کے اہلکار بھی اسی طرح اسی روئیے کا شکار بھی نظر آتے ہیں جب وہ خود کسی کیس میں پھنستے ہیں۔

عام آدمی بے چارہ اسے کہیں بھی چین نہیں ہے۔خوف کی یہی فضا اس کے اندر سے خود اعتمادی کا جذبہ ختم کرتی چلی جاتی ہے۔لیکن وہ لوگ جو ہمارے اداروں میں بیٹھے ہیں ایک کلرک سے لے کر افسر تک وہ بھی اسی سوسائٹی کا حصہ ہیں۔ان کے یہ روئیے معاشرے کے اندر ایک طرح کی نفرت کی فضا پیدا کرتے ہیں۔اداروں کا اعتماد اٹھتا چلا جاتا ہے۔اور جب کسی معاشرے میں سے نظام کے اداروں پہ سے اعتبار و اعتماد اٹھ جاتا ہے تو وہاں انارکی پیدا ہونے میں لمحے لگتے ہیں۔اس کی کئی مثالیں آئے دن ہم دیکھتے اور سنتے بھی ہیں۔لوگوں کے دلوں میں بھری نفرتوں کا اظہار کبھی تو ریلوے کے دفاتر کو جلا کے ہوتا ہے تو کبھی واپڈا کے دفاتر اور کبھی پولیس تھانوں پہ حملوں کی صورت میں ہوتا ہے۔پبلک کے رد عمل میں کسی ادارے کے لئے کوئی ہمدردی یا سپورٹ نہیں نظر آتی۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ایک عام شہری جب ادارے کی طرف اپنے مسائل لے کر جاتا ہے تو اسے دھتکار دیا جاتا ہے یا رشوت و سفارش طلب کی جاتی ہے،لہذا اس کی ہمدردیاں رفتہ رفتہ ختم ہو جاتی ہیں۔عام آدمی اور اداروں کے درمیان یہ دوریاں یقیناً کسی قوم یا معاشرے کی زوال کی علامت ہوتی ہیں۔اگر پولیس یا فوج کو دیکھ کر ایک شہری خوف اور عدم تحفظ محسوس کرے، بنیادی ضروریات مہیا کرنے والے ذمہ دار اداروں کی دھتکار اس کو ملے تو یقیناً یہ عمل معاشرے میں عدم اطمینان کی فضا کو جنم دیتا ہے اور رفتہ رفتہ اجتماعی سوچ کی جگہ انفرادیت اور ذاتی مفاد پرستی کا دورہ دورا ہوتا ہے اور معاشرے کے اخلاقیات مزید تباہی سے دوچار ہونے لگتے ہیں۔

ہم مسلمان بھی کہلاتے ہیں اور بد اخلاقی اور بد تہذیبی کا طوق بھی گلے میں لٹکائے پھرتے ہیں،ہماری عام زندگی میں لین دین ،معاملات،کاروبار زندگی میں خوش خلقی اور خاص طور پہ برداشت نام کو بھی نہیں،حالانکہ مسکرا کے کسی سے ملنا بھی ثواب اورسعادت کا باعث ہے۔کسی کے کام آنا اس سے بھی بڑی سعادت ہے۔اور کسی کے ساتھ بد زبانی کرنااور ذہنی اذیت میں مبتلا کرنا بڑے عذاب کا باعث ہے۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اداروں کو چاہے ان کا تعلق سر کار سے ہے یا پرائیویٹ ۔ جن کا واسطہ پبلک سے ہو انہیں اپنے سٹاف اور عملے کی ایسی اخلاقی تربیت کرنی چاہئے جس سے اداروں کا اعتماد پبلک میں بحال ہو۔ اہلکاروں،سٹاف وغیرہ کو اخلاقی ضابطوں کا پابند بنایا جائے،اور اگر کوئی خلاف ورزی کرے تو اس کے خلاف سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے۔جس طرح تہذیب یافتہ معاشروں میں ہو رہا ہے۔ہمارے ارباب اختیار کو ترقی یافتہ ممالک کے دوروں کی بڑی رغبت ہے کاش وہ وہاں سے اداروں کو عمدگی کے ساتھ چلانے کے لئے ضابطہ اخلاق اور وہ روئیے بھی سیکھ کے آتے اور اپنے اداروں کو بہتر اور مضبوط بھی بناتے۔یہ طے ہے کہ اداروں کی غلط کاریاں با لاخر قوم کی تباہی پہ منتج ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 68273 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
26 Mar, 2018 Views: 245

Comments

آپ کی رائے