مسلمان اہل کفر کو دائمی خوشیوں سے محروم نہ کریں

(Sohail Aazmi, Dera Ismail Khan)

دنیا کے 156 ممالک میں پاکستانی خوش زندگی بسرکرنے والوں میں 75 ویں نمبر پر موجود ہیں ۔ دنیا کے نقشے پر سب سے خوش رہنے والے لوگ فن لینڈ کے ہیں ۔ سروے کے مطابق جو لوگوں کی فی کس آمدنی صحت مند زندگی ،سماجی آذادی ،سماجی تعاون اور بدعنوانی میں کمی کو دیکھ تیار کیا جاتاہے ۔دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار نام نہاد لبرل ملک بھارت اس فہرست میں 133 ویں نمبر پر یعنی پاکستان سے 58 درجے پیچھے ہے ۔امریکہ جو کہ دنیا کی سپرپاور ہے جہاں پر پہنچنا ہر پاکستانی کی خواہش ہوتی ہے جنہیں دنیا کی ہر سہولت میسر ہے میں لوگ اتنی سہولیات جن میں بہترین طرز زندگی ،عمدہ صحت ،تعلیم ،ٹرانسپورٹ ،کھیل کود ،سماجی آذادی ،سماجی تعاون شامل ہیں کے باوجود خوش رہنے میں کنجوس ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں خودکشی کا رجحا ن دنیا بھر سے زائد ہے اب تو باقاعدہ طور پر وہاں اور دیگر کئی یورپی ممالک میں خودکشی کرنے کے لئے باقاعدہ سنٹرز قائم کردیئے گئے ہیں کیونکہ پہلے لوگ اپنی تمام ترعیاشیوں ،سہولیات ،مال ومتاع ،بے حیائی کے باوجود ذہنی اور قلبی سکوں نہ ہونے کے باعث موت کو ترجیح دیتے تھے ۔طویل ،بلند عمارتوں ،گاڑی کے نیچے آکر نیند کی گولیاں کھا کر زندگی جیسی نعمت سے اپنے آپ کو محروم کرلیتے تھے جس کے باعث ٹریفک کے مسائل کے علاوہ حکومت کا لاشوں کو ٹھکانے لگانے ،تفتیش کرنے پر کثیر سرمایہ اور وقت لگتا تھا اس لئے پھر خودکشی سنٹرز قائم کردیئے گئے ہیں ۔ہمارا ملک پاکستان جو کہ دنیا میں کرپشن میں ٹاپ پرہے میں جہاں صحت ،تعلیم ،خوراک ،ٹرانسپورٹ ،کھیل کود ودیگر سہولیات ناپید ہیں اوپر سے دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ نے امن وامان کی صورتحال کو بھی خراب کررکھا ہے ۔لوڈشیڈنگ کا عذاب مسلسل اپنی جگہ پر عوام کو پینے کا صاف پانی ،اصلی ادویات ،اشیاء خوردنی ،میرٹ ،روزگار ،سیکورٹی تک میسر نہیں ہے لیکن اس کے باوجود لوگ خوش ہیں ۔ بدترین معاشی حالات ،غربت اورمہنگائی کے باوجود لوگ آرام کی نیند سوتے ہیں ۔اب اقوام عالم کو کون بتائے کہ بھائی خوش رہنے ،سکون قلب کا تعلق مال وعہدے میں نہیں ہے ۔آپ نے کروڑ پتی لوگ دیکھے ہوں گے لیکن انہیں سکون قلب میسر نہیں ہے ۔رات بھر جاگ کر گزارتے ہیں ،نیند کی گولی کے بغیر سو نہیں پاتے ،سکون قلب اﷲ کی یاد میں ہے ۔حقوق اﷲ اور حقوق العباد پورا کرنے ،حلال روزی اور دین کے پانچ ارکان کی پیروی میں ہے ۔میں نے ایسے سینکڑوں لوگوں کو دیکھا ہے جو قلیل حلال روزی میں سکون کی زندگی گزارتے ہیں لیکن اس کے مقابلے میں ایک حرام خور اس نعمت الہی سے محروم ہے ۔اﷲ اور بندوں کے حقوق میں غفلت برتنے والا کبھی خوش رہ بھی نہیں سکتا ۔ایمان کی دولت ایسی دولت ہے کہ تمام تر دنیا کی نعمتیں اس کے آگے ہیچ ہیں ۔ہم پاکستانیوں نے ملک حاصل کیا ۔اسلام کے نام پر تاکہ ہم یہاں آذادانہ طور پر اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار سکیں ۔گو کہ ہم اپنے مقصد پر عمل پیرا نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود کسی ناکسی درجے میں ایمان کی دولت سے سرفراز ہیں جس سے دنیا کی پانچ ارب غیر مسلم آبادی محروم ہے ۔ایک حدیث پاکؐ کے مفہوم کے مطابق ایمان کی ستر شاخیں ہیں ۔سب سے افضل کلمہ کا پڑھنا اور سب سے آخری راستے سے کسی رکاوٹ والی چیز کو ہٹا دینا اور حیاء بھی ایمان کی ایک شاخ ہے ۔اب اگر دنیا بھر کے پانچ ارب کے قریب کفر پر موجود لوگوں کو دنیا وآخرت کی خوشیاں ،سکون ،مزے چاہیں تو انہیں فوری طور پر اسلام کو قبول کرکے ان تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہوگا جو ہمارے نبی ؐنے ہمیں دیں ۔بدقسمتی سے جن پر ہم خود عمل پیرا نہ ہونے کے باعث لوگوں کے اسلام میں داخلے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ۔آج ہمارا معاشرہ تمام تر حکومتی خرابیوں ،سیاستدانوں ،حکمرانوں ،اداروں کی کرپشن کے باوجود سکون قلب کی وہ نعمت حاصل کرسکتا ہے جو اربوں ڈالر خرچ کرکے بھی حاصل نہیں کی جاسکتی ۔آخر کیا وجہ تھی ہمارے نبی ؐ کے زمانے میں ان کے رفقاء خلفائے راشدین کے زمانے میں تما اہل کفر امت مسلمہ کے سامنے سرنگوں تھا ۔مسجد نبوی ؐ میں مال غنیمت میں آئے ہوئے ہیرے جواہرات ،سونا چاندی کے ڈھیر ہوتے تھے اتنے اونچے کہ دوسری طرف ٹہرا ہوا آدمی نظر نہیں آتا تھا لیکن انہوں نے کبھی دنیا کے حصول کو کامیابی ،کامرانی نہ سمجھا بلکہ اﷲ کی رضا ہی میں ہی کامیابی سمجھی اور اﷲ کے دین کلمے کے پیغام کو لیکر تمام دنیا میں پہنچے ۔انہیں جب کوئی مشکل پیش آتی توہ اپنی جیب کی طرف نظر نہ دوڑاتے بلکہ دورکعت نفل نماز کی طرف رجوع کرتے اور اﷲ سے اپنا مقصد پورا کروالیتے ۔آج مادیت پرستی کی دوڑ وہ چاہے اہل کفر میں ہویا اہل ایمان والوں میں ہمیں پریشانیوں میں مبتلا کررکھا ہے ۔ہمارا سکون غارت کیا ہوا ہے ہم جتنی میڈیکل سائنس میں ترقی کررہے ہیں بڑے بڑے ہسپتال قائم کررہے ہیں اتنی ہی بیماریاں عام ہورہی ہیں تفریح وطبع کی جتنی سہولیات پیدا کررہے ہیں اتنی ہی بدسکونی میں اضافہ ہورہا ہے ۔ہمارا ہر گھر اس کی گواہی دے رہاہے ۔ہمارے ملک میں خوش رہنے والوں کی تعداد دیگر پڑوسی ممالک سے اچھا ہونے کی بڑی وجہ یہاں پر دین پر ،مداراس ،مراکز ،مساجد ،خانقاہوں میں ہونے والی محنت ہے اﷲ قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ تم میری مدد کرومیں تمہاری مدد کروں گا وہ ہماری مدد کا محتاج نہیں ہے لیکن اس نے تمام کامیابیوں کو اسباب کے ساتھ جوڑا ہے اور اﷲ کے دین کی مدد سے جو لوگ پریشان حال ہیں اگر وہ اپنی پریشانیوں کا سدباب چاہتے ہیں تو وہ دین کو پھیلانے کی محنت میں جت جائیں وہ محنت جس کا ہمیں ذمہ دار بنایا گیا ہے اسی محنت میں دنیا وآخرت کی کامیابی کے علاوہ ذہنی وقلبی سکون پنہا ں ہے ۔ہم نے اپنے اعمالوں اور دین کی محنت نہ کرنے کے باعث غیر مسلموں کو بھی دنیا وآخرت کی خوشیوں سے محروم رکھا ہوا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sohail Aazmi

Read More Articles by Sohail Aazmi: 155 Articles with 75144 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Mar, 2018 Views: 464

Comments

آپ کی رائے